سپاری لے کر قتل اور منی لانڈرنگ کاجرم بھی قبول کیا، ۲۹؍ مئی کو سزا سنائی جائےگی۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 11:10 AM IST | Washington
سپاری لے کر قتل اور منی لانڈرنگ کاجرم بھی قبول کیا، ۲۹؍ مئی کو سزا سنائی جائےگی۔
ایک ہندوستانی شخص نے جمعہ کو نیویارک میں خالصتانی علاحدگی پسند لیڈر گروپتونت سنگھ پنو کے ۲۰۲۳ءقتل کی منصوبہ بندی کا جرم قبول کرلیا ہے۔ ہندوستانی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں خالصتان حامی لیڈر کے قتل کی مبینہ سازش کا اعتراف کیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق۵۴؍ سالہ گپتا نے سپاری لے کر قتل، قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ سمیت سنگین الزامات کا اعتراف کیا ہے۔ گپتا کو اب۲۹؍ مئی کو سزا سنائی جائے گی۔
استغاثہ کے مطابق۲۰۲۳ء میں نکھل گپتا نے مبینہ طور پر ایک غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے ملازم وکاس یادو کی ہدایت پر نیویارک میں خالصتان حامی لیڈر گروپتونت سنگھ پنو کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ امریکی تحقیقاتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا تھاجسے وہ جرم میں ساتھی سمجھ رہا تھا لیکن وہ شخص امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) کا خفیہ ایجنٹ نکلا۔ قتل کے لیے جس ’ہٹ مین ‘ کو سپاری دی گئی وہ دراصل ایک خفیہ افسر تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب بھیج رہا ہے
استغاثہ کے مطابق، قتل کیلئے ایک لاکھ ڈالر کی رقم پر اتفاق ہوا تھا جس میں ۱۵؍ ہزار ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے۔ گپتا نے مبینہ طور پر ہدف کا پتہ، فون نمبر، تصاویر اور نقل و حرکت کی معلومات بھی فراہم کیں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق گپتا نے ہدایت دی تھی کہ یہ قتل ہندوستانی وزیر اعظم کے جون۲۰۲۳ء میں امریکہ کے دورے کے موقع پر نہ کیا جائے۔ اس معاملے کو کنیڈامیں سکھ لیڈرہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے بھی جوڑا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق، نجر کے قتل کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر ٹیکسٹ میسیج کیا تھا’’اب مزید انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمارے پاس متعدد اہداف ہیں۔ ‘‘ گپتا کو جون۲۰۲۳ء میں جمہوریہ چیک میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں اسے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ امریکی اٹارنی کے دفتر نے کہا کہ یہ مقدمہ امریکی شہریوں کے خلاف غیر ملکی سازشوں کے بارے میں سخت پیغام دیتا ہے۔