ان کی ابتدائی زندگی بہت جدوجہد بھری رہی، فلمی دنیا میں آنے سے قبل انہوں نے چپراسی کے طور پر کام شروع کیا، ٹرک کلینر بنے، صابن بیچا اور ایک سُنار کی دُکان پر بھی ملازمت کی۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 12:17 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
ان کی ابتدائی زندگی بہت جدوجہد بھری رہی، فلمی دنیا میں آنے سے قبل انہوں نے چپراسی کے طور پر کام شروع کیا، ٹرک کلینر بنے، صابن بیچا اور ایک سُنار کی دُکان پر بھی ملازمت کی۔
کبھیکبھی انسان کی زندگی میں عجیب وغریب واقعات ہو جاتے ہیں، جو اُس کی زندگی کے رُخ کو یکسر موڑ دیتے ہیں۔ انسان چاہتا کچھ ہے اور ہو کچھ اور جاتا ہے۔ زندگی میں انسان کچھ بننا چاہتا ہے اور بن کچھ اور جاتا ہے۔ ہماری فلمی دنیا میں بھی کئی لوگ ایسے ہوئے ہیں جو زندگی میں کچھ اور ہی کرنا چاہتے تھے مگر قدرت نے اُن کو اِس روشنی بھری جگمگاتی دنیا میں پہنچا دیا، مگر انہوں نے یہاں بھی اپنی صلاحیتوں اور قابلیت سے کامیابی اور شہرت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیتکا نام راما نند ساگر ہے جنہوں نے ایک فلمساز، اسکرین پلے رائٹر اور مکالمہ نگار کے طور پراپنی پہچان بنائی۔
رامانند ساگر کے آباواجداد اصلاً پیشاور کے رہنے والے تھے۔ لاہور کے قریب گائوں ’اصل گروکے‘ میں ۲۹؍دسمبر ۱۹۱۷ء کو جب رامانند ساگر کا جنم ہوا تو اُن کا نام چندر مولی رکھا گیا۔ ان کے والد دِینا ناتھ چوپڑا، تجارت کے سلسلے میں نقلِ وطن کرکے کشمیر آگئے تھے۔ حالانکہ وہ ایک کامیاب تاجر تھے مگر ادبی ذہن رکھتے تھے اور شعر وشاعری کابھی شوق تھا۔ وہ تاجؔ پشاوری کے نام سے اشعار کہتے تھے اور پسند کئے جاتے تھے۔ ادبی ذوق رامانند ساگر کو اپنے والد تاجؔ پشاوری سے وراثت میں ملا تھا۔ رامانند ساگر ابھی بہت چھوٹے تھے کہ اُنہیں رشتہ کی ایک بے اولاد دادی نے گود لے لیا اور اُن کی پرورش والدین سے دُور رہ کر ہوئی، یہی وجہ تھی کہ وہ بچپن ہی سے بہت جذباتی تھے۔ اُنہوں نے صرف ۱۶؍ برس کی عمر میں پہلی کہانی ’پریتم پرتیکشا‘ لکھی، جو شری پرتاپ کالج میگزین میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت بہت کم لوگوں کو یقین آیا کہ یہ صرف ۱۶؍ برس کے لڑکے کی لکھی کہانی ہے۔ اِس کہانی میں بڑا درد تھا اور پھر انہوں نے مسلسل لکھنا شروع کر دیا۔ شروع میں وہ رامانند چوپڑہ کے نام سے لکھتے تھے۔ بعد میں رامانند بیدی اور پھر رامانند ساگر کے نام سے لکھنا شروع کیا اور آخر تک اِسی نام سے لکھتے رہے۔
رامانندساگر کی ابتدائی زندگی بہت جدوجہد بھری تھی۔ انہوں نے ایک چپراسی کے طور پر کام شروع کیا، ٹرک کلینر بنے، صابن بیچا اور ایک سُنار کی دُکان پر بھی ملازمت کی۔ انہوں نے کبھی بھی محنت سے منہ نہیں موڑا، نہ کسی کام کو چھوٹا سمجھا، اور کسی بھی جائز کام کو کرنے میں کبھی شرم محسوس نہیں کی، اور اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ زندگی کی جدوجہد کے زمانے میں بھی وہ لکھتے رہے اور شائع بھی ہوتے رہے۔
رامانند ساگر کا فلموں سے سب سے پہلا تعلق تب ہوا، جب انہوں نے ۱۹۳۶ء میں ایک خاموش فلم میں ’کلیپر بوائے‘ کےطور پر کام کیا۔ اس کے بعد ۴۱۔ ۱۹۴۰ء میں فلم ’کوئل‘ میں مرکزی کردار ملا اور فلم کرشنا میں ’ابھی منیو‘ کا کردار ادا کرنے کا بھی موقع ملا۔ مگر یہ سب فلمیں دورانِ تکمیل ہی ڈبوں میں بند ہو گئیں۔ زندگی کی اسی جدوجہد کے زمانے میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے فارسی میں منشی فاضل اور پھر سنسکرت میں ڈگری حاصل کی اور دونوں مضامین میں گولڈ میڈل حاصل کئے۔
رامانند ساگر نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز لاہور کے ’ڈیلی پرتاپ‘ اور’ڈیلی ملاپ‘ اخباروں میں نیوز ایڈیٹر کے بطور شروع کیا تھا۔ انہوں نے تقریباً ۳۲؍مختصر کہانیاں لکھیں اور اسٹیج پلے اور قسط وار طویل کہانیاں بھی لکھتے رہے۔ اُن ہی دِنوں ایک معروف رسالے ’آداب مشرق‘ میں اُن کا ایک قسط وار طویل افسانہ ’ایک ٹی بی پیشنٹ کی ڈائری‘ شائع ہوکر مقبول ہو رہا تھا۔ اِس افسانے سے متاثر ہوکر مشہور ادیب کرشن چندر نے انہیں مبارکباد کا خط لکھا اور بمبئی آکر فلموں کیلئے لکھنے کا مشورہ بھی دیا۔ مشہور فلمساز و ہدایتکار محبوب خان نے بھی رامانند ساگر کی تحریروں کو پڑھ کر اُنہیں فلموں کیلئے لکھنے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سائی مانجریکر ’’دی انڈیا ہاؤس ‘‘کی شوٹنگ کے تعلق سے پُر جوش
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہندوستان کی آزادی کی تحریک زوروں پر تھی اور ملک فرقہ واریت کے شکنجے میں پوری طرح سے جکڑا ہوا تھا۔ ایسے پُرآشوب دور میں رامانند ساگر تقسیم وطن کے وقت دہلی آگئے۔ اُس وقت اُن کے پاس صرف پانچ آنے اور چند کہانیوں اور افسانوں کا سرمایہ تھا۔ وہ ملک کی تقسیم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خونریزی اور انسان کی بربادی سے بے حد دل برداشتہ تھے۔ ایسے ہی دور میں انسان اور انسانیت کی ناقدری کے پس منظر میں انہوں نے ایک ناول ’اور انسان مر گیا‘ تحریر کیا، جو بے حد پسند کیا گیا۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ ۱۹۸۸ء میں شائع ہوا۔
دہلی آنے کے بعد انہوں نے کچھ دن اردو صحافت میں گزارے اور کرشن چندر وغیرہ کے مشورے پر ممبئی کیلئے روانہ ہو گئے۔ اداکار سجن کے ساتھ ملاڈ علاقے میں اُن کے ٹریسا وِلا میں رامانند ساگر نے رہائش اختیار کی اور پرتھوی راج کپور کے ’پرتھوی تھیٹر‘ کیلئے لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے جنگ اور امن کے موضوع پر ایک ڈراما تحریر کیا جس کو پرتھوی راج کپور نے خود پلے کیا تھا۔ ۱۹۴۹ء میں انہوں نے راج کپور کیلئے فلم ’برسات‘ کی کہانی اور اسکرین پلے تحریر کیا۔ فلم کامیاب ہوئی اور اس کے ساتھ ہی انہیں بطور کہانی کار شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ایس ایس۔ واسن کی تقریباً ۵؍ فلموں کی کہانی اور اسکرین پلے لکھنے کا کام سنبھالا اور پھر وہ کچھ عرصہ کیلئے مدراس چلے گئے۔ ان میں ایک فلم دلیپ کمار، وجینتی مالا کی ’پیغام‘ بھی تھی۔ ۱۹۵۷ء میں فلم ’پیغام‘ کیلئے رامانند ساگر کو بہترین مکالمہ نگار کا فلم فیئر ایوارڈ پیش کیا گیا۔ یہیں سے ان کی فلمی زندگی کا سنہری دور شروع ہوا۔ اِسی زمانے میں انہوں نے فالی مستری کی فلم ’جان پہچان‘ کی کہانی بھی لکھی۔
۱۹۵۰ءمیں رامانند ساگر نے اپنا ذاتی پروڈکشن ہائوس ’ساگر آرٹس‘ قائم کیا اور ۱۹۵۳ء میں فلم’مہمان‘ بنائی۔ اس فلم کی نہ صرف کہانی، منظرنامہ اور مکالمے رامانند ساگر نے لکھے بلکہ پہلی بار ہدایتکاری بھی خود کی تھی۔ اس طرح ساگر آرٹس کے بینر سے ۱۹۵۰ء تا ۱۹۸۴ء انہوں نے تقریباً ۲۵؍ فلموں کی تخلیق کی، اِن میں سے تقریباً ۱۵؍ فلمیں باکس آفس پر کامیاب رہیں۔ اداکار راجندر کمار کے ساتھ اُن کی فلموں ’آرزو‘، ’ہمراہی‘، ’گیت‘، ’زندگی‘ اور’للکار‘ نے پردۂ سیمیں پر سلور جوبلی منائی۔ اسی طرح اداکار دھرمیندر کے ساتھ ان کی تین فلمیں ’آنکھیں، للکار اورچرس‘ بے حد کامیاب ثابت ہوئیں۔ فلم ’آنکھیں ‘ نے جاسوسی فلموں کی تاریخ میں ایک نئے دَور اور انداز کا آغاز کیا اور اس فلم نے ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ فلم ’چرس، پیارا دشمن، بغاوت اوررام بھروسے‘ نے بھی سلور جوبلی منائی۔ اس طرح شہرت اور مقبولیت دونوں ہی رامانند ساگر کے حصے میں آئیں اور اپنی قابلیت اور شہرت کی وجہ سے ہی رامانند ساگر کو ۲۰۰۱ء میں حکومت کی طرف سے پدم شری اعزاز سے نوازا گیا۔ ۱۹۹۶ء میں ان کو ہندی ساہتیہ سمیلن، پریاگ کی طرف سے ’ساہتیہ واچسپتی‘ یعنی ڈاکٹر آف لٹریچر کے اعزاز سے نوازا گیا اور ۱۹۹۷ء میں جموں یونیورسٹی کی طرف سے رامانند ساگر کو اعزازی طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔
رامانند ساگر کی ایک خاص بات یہاں بیان کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب ان کی کوئی فلم نمائش کیلئے پیش کی جاتی تھی تو وہ خود مختلف علاقوں میں عام آدمی کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھا کرتے تھے تاکہ فلم کے تعلق سے عام آدمی کے تاثرات اُن کو مل سکیں اور وہ آئندہ اپنی فلموں میں عوام کی پسند اور ناپسند کو ملحوظ رکھ سکیں۔ اسی طرح فلم ’آرزو‘ کی نمائش کے بعد رامانند ساگر بنگال کے دورے پر تھے۔ ایک ٹورنگ ٹاکیز میں فلم ’آرزو‘ چل رہی تھی۔ جب رامانند ساگر وہاں پہنچے تو وہاں کے منیجر نے بتایا کہ ایک شخص بلاناغہ ان کی فلم ’آرزو‘ دیکھنے آتا ہے اور سنیما میں بیٹھ کر روتا رہتا ہے۔ میں اس سے پیسے بھی نہیں لیتا۔ اگر آپ تھوڑی دیر رُک جائیں تو میں اس شخص سے آپ کو ملوانا چاہوں گا۔ وہ رُک گئے اور کچھ دیر بعد ہی ایک شخص بیساکھیوں کے سہارے کھٹ کھٹ کرتا ہوا وہاں آیا۔ یہ شخص نہ صرف خوبصورت تھا بلکہ جوان بھی تھا۔ جب منیجر نے رامانند ساگر کو اس شخص سے ملوایا تو اُس نے ساگر صاحب کے پیر چھوئے اور درد بھری آواز میں بتایا کہ آپ کی فلم سے مجھے نئی طرح سے زندگی جینے کا حوصلہ ملا ہے۔ آپ نے میری اندھیری زندگی میں روشنی پھیلا ئی ہے اور اب میں اپنی محبوبہ سے بھی نظریں ملانے کے قابل ہو گیا ہوں۔ میں آپ کی فلم کا جیتا جاگتا کردار ہوں۔ آپ نے جو ایک معذور انسان کی زندگی کے مسائل کا حل اپنی فلم میں دیا ہے، اسی کی وجہ سے آج میں زندہ ہوں۔ اس شخص نے ایک نوٹ پر یادگار کے طور پر رامانند ساگر سے دستخط لئے اور شکریہ ادا کیا۔ رامانند ساگر نے اُسے گلے لگایا اور وہ کھٹ کھٹ کرتا ہوا بیساکھیوں کے سہارے واپس چلا گیا۔
رامانند ساگر نہ صرف ایک نیک دل انسان تھے بلکہ وہ ہمیشہ وقت کے ساتھ چلنے والوں میں سے تھے۔ جس وقت وہ فلم چرس کی شوٹنگ کیلئے فرانس گئے تو وہاں انہوں نے ٹی وی سیریل کی مقبولیت کو پہچانا اور پھر ہندوستان واپس آکر انہوں نے ۱۹۸۵ء میں ہندوستانی ٹی وی اسکرین کو ’وکرم بیتال‘ جیسا سیریل پیش کیا۔ اس کے بعد ’دادا دادی کی کہانیاں ‘ اور پھر ان کا طویل اور بے حد مقبول سیریل ’رامائن‘ شروع ہوا۔ یہ ایک طرح سے پہلی فلمی فیملی تھی جو چھوٹے اسکرین پر اپنی دھاک جمانے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد رامانند ساگر کے کئی ٹی وی سیریل ’شری کرشنا، الف لیلیٰ، جے گنگا میّا، گروکل اورآنکھیں ‘ بڑی کامیابی کے ساتھ دکھائے جاتے رہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے سیریل جنوبی ہند کی زبانوں میں ٹیلی کاسٹ ہوں۔ اس کیلئے انہوں نے اشوک نگر میں ایک ڈبنگ اسٹوڈیو قائم کیا۔ انہوں نے بڑودہ کے پاس غیرآبادی والے علاقے میں ایک بڑی سی جگہ خریدکر اس میں چھوٹے چھوٹے ’ہٹ‘ اور ’کاٹیج‘بنائے، جہاں وہ سکون سے اپنی اسکرپٹ پر کام کر سکتے تھے۔ وہاں انہوں نے اپنے کئی سیریلوں کی شوٹنگ بھی کی۔ ان کے اداکاروں اور تکنیکی لوگوں کو بھی وہاں کام کرنے میں بڑا مزا آتا تھا اور وہ خود بھی سب کا خیال رکھتے تھے۔ ان کو اکثر فرصت کے اوقات میں وہاں قیام کرنے میں بڑی راحت کا احساس ہوتا تھا۔ ان کا ایک بڑا ٹی وی سیریل ’سائیں بابا‘ کامیابی کے ساتھ کئی بار دکھایا جاتا رہا ہے۔ بالمیکی اور تلسی داس کے بعد سب سے مقبول رامائن رامانند ساگر نے ہی پیش کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی فلموں سے بلکہ اپنی نجی زندگی اور ٹی وی سیریل کے ذریعہ ہندوستانی عوام کو ایک مثالی سماج اور بہترین کردار بنانے کی ترغیب دی ہے۔
۱۳؍دسمبر ۲۰۰۵ء کی رات کو ایک لمبی بیماری کے بعد ۸۷؍ برس کی عمر میں راما نند ساگر نےخالق حقیقی کو لبیک کہا اور اس طرح فلم انڈسٹری کو ایک بہترین کہانی کار، منظر نگار اور مکالمہ نگار سے محروم ہونا پڑا۔ انتقال سے چار ماہ قبل ہی ان کا آپریشن ہوا تھا اور وہ تبھی سے صاحبِ فراش تھے۔ اُن کے انتقال سے نہ صرف فلمی دنیا نے بلکہ اردو دنیا نے بھی ایک دردمند مصنف کھو دیا۔