۱۹۴۵ء میں بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی سے شادی کے بعد ان کی اداکاری اور گلوکاری پر پابندی لگ گئی تھی، لہٰذا کئی برس تک انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، بعد میں وہ اختری بائی سے بیگم اختر بن گئیں۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 12:39 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
۱۹۴۵ء میں بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی سے شادی کے بعد ان کی اداکاری اور گلوکاری پر پابندی لگ گئی تھی، لہٰذا کئی برس تک انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، بعد میں وہ اختری بائی سے بیگم اختر بن گئیں۔
فیض آباد صرف نوابوں کیلئے مشہور نہیں ہے بلکہ وہ دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت اسلئے بھی رکھتا ہے کہ ۷؍اکتوبر۱۹۱۴ء کو اِسی شہر کے ایک متمول خاندان میں سُروں کی ملکہ بیگم اختر کی پیدائش ہوئی تھی۔ اُس وقت اُن کا نام اختری بائی تھا۔ اُن کے والد اصغر حسین ایک نوجوان وکیل تھے۔ اُن کے والدین چونکہ کھلے ذہن کے مالک تھے، اسلئے کم عمری ہی میں چچا کی کوششوں سے اختری کو کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت مل گئی۔
فیض آباد کے محلہ بڑا دروازہ میں اختری بائی کا بچپن گزرا۔ جب وہ ۱۱؍ برس کی تھیں تو اُن کی ماں مشتری بائی اُن کو لے کر بہار کے شہر گیا چلی گئیں اور وہیں سے انہوں نے پٹنہ شہر کے سارنگی نواز استاد امداد علی خاں سے رابطہ کیا تاکہ اُن کی بیٹی ساز اور آواز کی مکمل تعلیم حاصل کر سکے، مگر دو سال کے بعد ہی دونوں ماں اور بیٹی کو واپس فیض آباد آنا پڑا، اور بعد میں پٹیالہ تان رس گھرانے کے استاد عطا محمد خان اختری بیگم کے استاد بنے۔ انہوں نے بڑے سخت ریاض کے ساتھ اختری بائی کو خیال، ٹھمری، دادرا اور چیتی میں تعلیم دے کر ہنرمند بنادیا۔ یہ وہ زمانہ تھاجب مسلم خاندانوں میں لڑکیوں کے اس طرح کا فن سیکھنے کو معیوب تصور کیا جاتا تھا۔ اختری بائی کی والدہ مشتری بائی کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی ہندوستانی کلاسیکل موسیقی اور گائیکی میں پختہ ہو جائے تاکہ وہ کسی گھرانے اور گائیکی میں نام پیدا کرے۔ ۱۹۲۷ء میں استاد عطا محمد خاں اور مشتری بائی نے اختری بائی کو کلکتہ لے جاکر ایک پروگرام میں پہلی بار غزل گوائی، جس کے بول تھےَ
تونے بُتِ ہرجائی کچھ ایسی ادا پائی
تکتا ہے تیری صورت ہر ایک تماشائی
اختری بائی نے محض ۱۵۔ ۱۴؍ برس کی عمر میں پہلی بار اسٹیج پر اپنی پرفارمنس سے لوگوں کو متاثر کر دیا تھا۔ ان کی غزل گائیکی نے شروعاتی دَور ہی میں کئی مشہور شاعروں کو متاثر کیا۔ بہار کے زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے کئے گئے ایک پروگرام میں اختری بائی کی گائیکی کی سروجنی نائیڈو نے بھی خوب تعریف کی تھی۔ ۱۹۳۰ء میں اختری بائی کا پہلا ریکارڈ آتے ہی بہت مقبول ہوا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ بہزاد لکھنویٔ کی غزل ’’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے‘‘ ریکارڈ میں گائی ہوئی ان کی پہلی غزل ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس سے قبل ’’تونے بُتِ ہرجائی، زبان عشق سے، وہ آ رہے ہیں، صیاد نے قفس سے، وفائوں کے بدلے، ہم کونظر سے اپنی، خدا کی شان ہے، مزے بیتابیوں کے آرہے ہیں ‘‘ اور ’’وفا وفا نہ سہی‘‘جیسی غزلیں ریکارڈ میں آچکی تھیں۔ اُن کا پہلا ریکارڈ میگا فون ریکارڈ کمپنی نے بنایا اور پھر انہوں نے ۱۹۳۰ء میں اختر بائی کی آواز میں غزلوں، ٹھمری اور دادرا کے کئی ریکارڈ ریلیز کیے۔ بیگم اختر نے اس کے بعد۱۹۳۴ء میں ’انیتا‘ اور’ ممتاز بیگم‘ ۱۹۳۵ء میں ’جوانی کا نشہ‘ اور ’نصیب کا چکر‘ جیسی فلموں میں کام کیا اور اپنے گانے خود گائے۔
کلکتہ میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہوئے اختری بائی نے کئی فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کی۔ اس طرح اُن کی شہرت میں اضافہ ہوا اور پھر وہ لکھنؤ آگئیں، جہاں اُن کی ملاقات آرزؔو لکھنوی سے ہوئی۔ انہوں نے آرزوؔ لکھنوی کی کئی غزلیں گائیں۔ اب وہ کام کے سلسلے میں لکھنؤ سے ہی کلکتہ آیا جایا کرتی تھیں۔ لکھنؤ میں آغا جانی کاشمیری بھی اختری بائی کی گائیکی سے بہت متاثر تھے۔ آغا جانی کاشمیری لکھنؤ سے بمبئی آئے اور فلمساز و ہدایتکار محبوب خان کے پروڈکشن ہائوس سے وابستہ ہوئے تو انہوں نے اداکارہ کے طور پر اختری بائی کی تعریف محبوب خان سے کی اور اُن کی سُریلی آواز کا بھی ذکر کیا لہٰذا محبوب خان نے اختری بائی کو بمبئی بلا لیا اور اپنی فلم ’روٹی‘ میں مرکزی کردار پیش کیا۔ اس فلم کیلئے اختری بائی کی آواز میں ۶؍غزلیں آرزؔو لکھنوی کی ریکارڈ کی گئی تھیں، مگر فلم میں تین ہی استعمال کی گئیں۔ بعد میں میگافون کمپنی نے ۶؍غزلوں کا مکمل ریکارڈ جاری کیا۔ فلم ’روٹی‘ میں اداکاری اور گلوکاری کے بعد وہ لکھنؤ واپس آگئیں۔
لکھنؤ میں ایک مشہور بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی رہتے تھے جو اصلاً رہنے والے فیض آباد کے تھے، مگر وکالت کے سلسلے میں مستقل طور پر لکھنؤ میں سکونت پذیر تھے۔ ۱۹۴۵ء میں بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی سے خاندانی تعلقات کی بِنا پر اختری بائی کی شادی ہو گئی لہٰذا اختری بائی کے گانے پر شادی کے بعد پابندی لگ گئی اور کئی برس انہوں نے کوئی کلام نہیں گایا۔ عباسی صاحب ایک نامور اور خاندانی آدمی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ شریف خاندان کی بہو بیٹیوں کو گھروں سے باہر اس طرح کے کام نہیں کرنے چاہئیں بلکہ گھر کے کاموں میں دلچسپی لے کر گھر بسانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح اختری بائی اپنے گھر کو سجانے سنوارنے میں مصروف ہو گئیں اور اب ان کا نام اختر بائی سے بیگم اختر ہو گیا۔
معالج کے مشورے پر بیگم اختر نے دوبارہ گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا تو اُن کی شہرت کو دیکھتے ہوئے بطور اداکارہ کام کرنے کیلئے انہیں فلموں سے آفر آنے لگے لہٰذا موسیقار مدن موہن کے کہنے پر ۱۹۵۳ء میں انہوں نے فلم ’دانا پانی‘ اور۱۹۵۴ء میں فلم ’احسان‘ میں اداکاری کی اور گیت بھی گائے۔ اس کے بعد ۱۹۵۸ء میں ستیہ جیت رے کی بنگالی فلم ’جلسہ گھر‘ میں بھی کام کیا۔
بیگم اختر کی غزل گائیکی میں ایک شفاف اور بندھی ہوئی سُریلی ریشمی آواز کا احساس ہوتا تھا لہٰذا اُن کو ملکۂ غزل کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ انہوں نے بیشتر غزلوں کی دُھنیں خود ہی ترتیب دیں اور مختلف راگوں کا استعمال کرکے اپنی گائیکی کو یادگار بنا دیا۔ اپنے شروعاتی دَور میں انہوں نے بہزادؔ لکھنوی، مومن خاں مومنؔ اور اخترؔ کی غزلوں کو خاص طور پر گایا۔ بعد میں غالبؔ کی نو غزلیں گائیں۔ اِن کے علاوہ ذوقؔ، میرؔ، فیضؔ، شکیلؔ، شمیم جئے پوری، فاخر یحییٰ اور کیفی اعظمی کی تخلیقات کو اپنی آواز سے نوازا۔ فلموں کے علاوہ بیگم اختر نے چند ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، جہاں اُن کو اونچی آواز میں اپنے مکالمے ادا کرنے ہوتے تھے لہٰذا کئی کئی دن اُن کا گلا خراب رہتا تھا۔ انہوں نے جلد ہی ڈراموں میں کام کرنا بند کر دیا اور اپنی پوری توجہ گلوکاری پر مرکوز کردی جس کے بعد اُن کی غزل گائیکی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: اہان شیٹی وکرم بھٹ کی ’کولڈ ونٹر : ۱۹۲۰‘ میں مرکزی کردار ادا کریں گے
احمدآباد کی ایک انجمن نے اکتوبر ۱۹۷۴ء میں بیگم اختر کے اعزاز میں ایک پروگرام منعقد کیا۔ اس کا عنوان تھا ’’ایک شام بیگم اختر کے نام‘‘۔ اس پروگرام میں انہوں نے ابھی ایک ہی غزل گائی تھی کہ اُن کی طبیعت خراب ہو گئی اور پروگرام درمیان میں ہی ملتوی کر دیا گیا۔ ہنگامی حالات میں بیگم اختر کو اسپتال میں داخل کیا گیا مگر ان کی حالت میں کوئی افاقہ نہ ہوا۔ مسلسل زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد ۳۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء کو بیگم اختر نے احمدآباد کے اُسی اسپتال میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ بیگم اختر نے اپنی وفات سے قبل جو آخری غزل ریکارڈ کرائی تھی، وہ مشہور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی یہ غزل تھی:
سنا کرو مری جاں اُن سے اُن کے افسانے
سب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے
بیگم اختر کو سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا اور حکومت نے پدم شری اورپدم بھوشن اعزاز سے سرفراز کیا۔ بیگم اختر کی آواز میں بلا کا جادو تھا۔ جب وہ غزل پڑھتی تھیں تو سامعین دم بخود رہ جاتے تھے۔ ایک خاص قسم کی لپک تھی ان کی آواز میں۔ شاید اِسی لپک کیلئے بہت پہلے مومن خاں مومنؔ نے یہ شعر کہا تھا:
اُس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
معالج کے مشورے پر دوبارہ گلوکاری کی
۱۹۴۹ء میں بیگم اختر سخت بیمار ہوئیں اور کافی مہنگے علاج معالجے کے باوجود صحت مند نہیں ہو پا رہی تھیں لہٰذا اُن کے معالج نے مشورہ دیا کہ اگر ان کو دوبارہ سے گانے اور فنون لطیفہ سے متعلق مصروفیات کی اجازت دے دی جائے تو پھر سے صحت مند ہو سکتی ہیں۔ بیگم اختر مسلسل گھر کی چار دیواری میں رہنے کی وجہ سے اُداسی کا شکار ہو گئی تھیں۔ معالج کے مشورے پر اُن کے شوہر نے اُن کو پھر سے گانے اور عوامی پروگراموں میں جانے کی اجازت دے دی اور اس طرح نفسیاتی علاج سے وہ دوبارہ صحت یاب ہو گئیں۔ ۱۹۴۹ء میں دوبارہ سے انہوں نے لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے غزلیں گانے کے پروگرام دینے شروع کر دیئے۔
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
ایک بار کا ذکر ہے کہ بیگم اختر بمبئی سے لکھنؤ کیلئے ٹرین سے روانہ ہونے والی تھیں، اچانک وی ٹی ریلوے اسٹیشن پر نغمہ نگار شکیل بدایونی اُن سے ملنے آگئے اور چلتے وقت انہوں نے ایک پرچے پر اپنی غزل لکھ کر بیگم اختر کو دے دی۔ سرسری طور پر دیکھ کر اور بعد میں پڑھنے کے خیال سے انہوں نے پرچہ اپنے بٹوے میں رکھ لیا۔ اُسی ٹرین کے ڈبہ میں بیگم اخترنے اس غزل کی دُھن بنائی اور گنگنائی، جو آگے چل کر دونوں کی پہچان بن گئی۔ لکھنو پہنچ کر جب انہوں نے یہ غزل آل انڈیا ریڈیو سے پڑھی تو پورے برصغیر میں غزل گائیکی کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ غزل تھی:
اَے محبت ترے انجام پہ رونا آیا