• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جے شنکر نے اے آئی کیلئے حفاظتی ضوابط پر زور دیا

Updated: September 27, 2026, 12:20 PM IST | New York

اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے اے آئی سے پیدا ہونے والےممکنہ خطرات کی جانب بھی دنیا کی توجہ مبذول کی۔

External Affairs Minister S. Jaishankar can be seen addressing the United Nations General Assembly. Photo: INN
وزیر خارجہ ایس جے شنکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) بحری سلامتی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ نئےخطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں جدید نگرانی، کمزوریوں کی نشاندہی اور جہازوں، مواصلاتی نیٹ ورکس اور زیر سمندر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی سائبر کارروائیاں شامل ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اےآئی کے استعمال کیلئےمضبوط بین الاقوامی حفاظتی ضوابط پر زور دیا۔ جے شنکر نے یونان کے وزیر خارجہ جارج گیراپیٹریٹس کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر’بین الاقوامی امن و سلامتی کے تناظر میں مصنوعی ذہانت، بحری سلامتی پر خصوصی توجہ کے ساتھ‘ کے موضوع پر ایک تقریب کی مشترکہ صدارت کی۔ انہوں نے کہاکہ ممالک کو تکنیکی جدت اور سلامتی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ جےشنکرنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’اے آئی کی پیش کردہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے، اس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانے اور اس کے خطرات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے لیے ایسا طریقہ کار درکار ہے جو اختراعات کو فروغ دے، لیکن اس کے سلامتی سے متعلق اثرات کو بھی پیش نظر رکھے۔ ‘‘ انہوں نےکہا کہ نئی دہلی اعلامیہ اے آئی کے وسائل تک جمہوری رسائی، محفوظ اور قابل اعتماد نظام کی تشکیل، انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری اوراقتصادی ترقی و سماجی بہبود کے لیے اے آئی کے استعمال پر زور دیتا ہے۔ جے شنکر نے بحری شعبے میں اے آئی کے متعدد ممکنہ استعمالات کا ذکر کیا، جن میں سمندری حدود کی نگرانی، تلاش اوربچاؤ، آفات سے نمٹنے، مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی اور بندرگاہوں سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کی لچک بڑھانا شامل ہے۔ 
انہوں نے کہا، ’’اے آئی بحری حدود سے متعلق آگاہی، تلاش و بچاؤ، آفات سے نمٹنے، مشتبہ سرگرمیوں کی شناخت اور بندرگاہوں و اہم بنیادی ڈھانچے کی لچک بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ‘‘تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ یہی ٹیکنالوجی بحری جہازوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول، ’’اسی وقت یہ جدید نگرانی، کمزوریوں کی نشاندہی اور جہازوں، مواصلاتی نیٹ ورکس اور زیر سمندر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی سائبر کارروائیوں کی صلاحیت بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ‘‘
جےشنکرنےکہا کہ بحری نظام میں خودکار صلاحیتوں کے بڑھتے ہوئےاستعمال سے ذمہ داری اور کشیدگی میں اضافے کے حوالے سےنئےسوالات پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ انسانی فیصلے کے لیے دستیاب وقت مزید کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بحری نظام میں بڑھتی ہوئی خودکاری سےذمہ داری، جواب دہی اور کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں، جبکہ فیصلہ سازی کے لیے دستیاب وقت بھی کم ہو رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ اصولوں کے تابع رہنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کے وقار کو ’بے مثال پستی‘ تک پہنچا دیا ہے: ہاریٹز

جے شنکر نے کہا، ’’بحری شعبے میں اقوام متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی قانون، بشمول قانونِ سمندر، ریاستوں کے طرز عمل کے لیے بنیادی قانونی فریم ورک ہیں۔ ‘‘انہوں نے اے آئی کی ترقی اور استعمال کو ان اصولوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے زیادہ شفافیت، اعتماد سازی کے اقدامات، صلاحیت سازی، تکنیکی تعاون اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی اور بحری سلامتی اقوام متحدہ میں ہندوستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ 
بحری جہازوں کے تحفظ کیلئے نئے اقدام کا آغاز
ہندوستان اور لائبیریا نے دنیا کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں اور بحری کارکنوں پر بڑھتےہوئے حملوں کے پیش نظر ان کی سلامتی اور تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی ہفتے کےموقع پر ’جہاز رانی اور بحری کارکنوں کی سلامتی و تحفظ کے لیے گروپ آف فرینڈز‘کے افتتاحی اجلاس کے بعدمیڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے تجارتی جہازوں اور ان پر کام کرنے والے بحری کارکنوں پر حملوں کو’’قانونی اور اخلاقی طور پر ناقابل دفاع‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایسے تشدد اور انسانی جانوں کےضیاع کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ سادہ الفاظ میں، یہ حملے بند ہونے چاہئیں۔ ‘‘ہندوستان اور لائبیریا کی مشترکہ قیادت میں قائم اس گروپ میں ان ممالک کو شامل کیا گیا ہے جن کے مفادات بحری کارکنوں، جہاز رانی اور جہازوں کی ملکیت سے نمایاں طور پر وابستہ ہیں۔ جے شنکر کے مطابق گروپ کے پہلے اجلاس میں ۲۵؍ممالک نے شرکت کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK