روہت شرما اور وراٹ کوہلی ایک بار پھر توجہ کا مرکزہوں گے، نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 11:53 AM IST | Thiruvananthapuram
روہت شرما اور وراٹ کوہلی ایک بار پھر توجہ کا مرکزہوں گے، نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے۔
اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی اور روہت شرما ویسٹ انڈیز کے خلاف اتوار سے شروع ہونے والی ۳؍یک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی سیریز میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز ہوں گے جبکہ ہندوستانی ٹیم ۲۰۲۷ءمیں ہونے والے ورلڈ کپ کو دھیان میں رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع دینا چاہے گی۔ ورلڈ کپ سے پہلے ہندوستان کو ۱۴؍ سے ۲۰؍ یکروزہ میچ کھیلنے ہیں (اگر ورلڈ کپ سے پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوتی ہے)۔ ٹیم انڈیا کیلئے یہ میچ کافی اہم ہیں کیونکہ اس سے اسے افریقی براعظم میں ہونے والے ورلڈ کپ کیلئے اپنی مضبوط ۱۵؍رکنی ٹیم تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
ہندوستان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ یشسوی جیسوال جیسے کھلاڑی کو ۵۰؍ اوورز کے فارمیٹ میں برقرار رکھا جائے یا نہیں۔ کوہلی کے زخمی ہو جانے کی وجہ سے جیسوال نے افغانستان کے خلاف ۳؍ میچ کھیلے۔ اس وجہ سے کپتان شبھ من گل کو تیسرے نمبر پر بلے بازی کرنی پڑی۔ لیکن ونڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں کوہلی کی واپسی کے بعد گل پھر سے اننگز کا آغاز کریں گے۔ اب بائیں ہاتھ کے اس بلے باز نےشریاس ایر اور ایشان کشن کے ایشیائی کھیلوں کے لئے جاپان میں ہونے کی وجہ سے ٹیم میں واپسی کی ہے لیکن ٹیم انتظامیہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے گا کہ کیا جیسوال کو پہلے میچ سے ہی روہت کے ساتھ پھر سے اننگز کا آغاز کرنے کا موقع دیا جائے یا روہت۔ گل کی جوڑی کو ہی برقرار رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ویر داس کو’ ’فُل والیوم‘‘ کے لیے تیسری بار انٹرنیشنل ایمی میں نامزدگی ملی
جارح بلے بازروہت شرمانے انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں طوفانی سنچری لگا کر اپنے مستقبل کے تعلق سے چل رہی قیاس آرائیوں پر کچھ وقت کے لئے وقفہ لگا دیا۔ روہت اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ وہ اپنا فارم برقرار رکھیں اور کچھ اور بڑی اننگز کھیلیں کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ ناکام ہونے پر ان پر ناقدین حاوی ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس وراٹ کوہلی کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے۔ وہ سچن تینڈ ولکرکے بعد ون ڈے میں ۱۵؍ہزار رن بنانے والے دوسرے بلے باز بننے کے لئے ۵۱؍ رن دور ہیں۔
کوہلی اور روہت دونوں نے جمعہ کی شام یہاں نیٹ پر جس طرح سے تقریباً۲۰؍ منٹ تک بلے بازی کی، اس سے ان کے جذبے کا پتہ چلتا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں میں گورنوربرار اور عاقب نبی جیسے تیز گیند باز بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں مختلف میچوں میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن ان دونوں کے پاس تجربہ کی کمی ہے۔ ہاردک پانڈیا زخمی ہونے کی وجہ سے اس سیریز سے باہر ہو گئے ہیں اور ایسے میں نتیش کمار ریڈی کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے بلے بازی میں اچھا مظاہرہ کیا ہے لیکن ان کی گیند بازی میں بہتری کی گنجائش ہے۔ اس ۲۳؍سالہ آل راؤنڈر نے۶؍ ون ڈے میچوں میں کسی بھی میچ میں اب تک ۱۰؍ اوور بھی نہیں پھینکے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس سیریز میں انہیں پورا اسپیل کرنے کا موقع مل جائے۔
گیند بازی کے کوچ مورنے مورکل نے بھی کہا کہ ریڈی کے زیادہ اوور کرنے سے ٹیم کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا’’اگر ہم انہیں آل راؤنڈر کے طور پر تیار کرتے ہیں تو یہ ہندوستانی کرکٹ کے لئے بہت اچھا ہوگا۔ ان کے پاس ایک بہترین آل راؤنڈر بننے کے لئے ضروری صلاحیت اور ٹیلنٹ ہے۔ ‘‘
ویسٹ انڈیز کی بات کریں تو اسے نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف مسلسل گھریلو ون ڈے سیریز میں قریبی فرق سے ہارنے کی مایوسی کو بھولنا ہوگا۔ اس کے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں حال ہی میں ۲۵؍ فیصد کٹوتی کی گئی تھی اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کا اثر ان کی کارکردگی پر پڑتا ہے یا نہیں۔
روہت انضمام کوپچھاڑ سکتے ہیں
روہت شرما نے اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کریئر میں اب تک کھیلے گئے ۵۱۴؍ میچوں کی ۵۴۷؍ اننگز میں ۲۰؍ہزار۴۲۷؍ رن بنائے ہیں۔ روہت شرما انٹرنیشنل کرکٹ میں رن بنانے کے معاملے میں پاکستان کے انضمام الحق سے صرف ۱۵۴؍ رن پیچھے ہیں۔ اگر روہت شرماویسٹ انڈیز کے خلاف ۳؍ میچوں کی ون ڈے سیریز کے دوران ۱۵۴؍رن بنا لیتے ہیں تو وہ انٹر نیشنل کرکٹ میں رن بنانے کے معاملے میں انضمام سے آگے نکل جائیں گے۔ انضمام الحق نے اپنے کرکٹ کریئر کے دوران کل ۴۹۹؍ میچ کھیلے تھے اور ۵۵۱؍ اننگز میں انہوں نے ۲۰؍ ہزار ۵۸۰؍ رن بنائے ہیں۔