ہندوستانی سنیما کی دنیا میں بمل رائے کو ایک ایسے فلمساز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےخاندانی، سماجی اور صاف ستھری فلمیں بنا کر تقریباً۳؍دہائیوں تک سنیما شائقین کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 11:22 AM IST | Mumbai
ہندوستانی سنیما کی دنیا میں بمل رائے کو ایک ایسے فلمساز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےخاندانی، سماجی اور صاف ستھری فلمیں بنا کر تقریباً۳؍دہائیوں تک سنیما شائقین کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
ہندوستانی سنیما کی دنیا میں بمل رائے کو ایک ایسے فلمساز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نےخاندانی، سماجی اور صاف ستھری فلمیں بنا کر تقریباً۳؍دہائیوں تک سنیما شائقین کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
بمل رائے ۱۲؍جولائی ۱۹۰۹ءکوڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد زمیندار تھے۔ والد کی وفات کے بعد خاندانی تنازعہ کی وجہ سے انہیں زمینداری سے بے دخل ہوناپڑا۔ اس کے بعد وہ اپنےخاندان کے ساتھ کلکتہ چلے گئے۔ کلکتہ میں انہوں نےفلمساز پی سی بروا سے ملاقات کی، انہوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں پبلسٹی اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے کاموقع دیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات نیو تھیٹرکے نتن بوس سے ہوئی جنہوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں بطور سینماٹوگرافر کام کرنے کا موقع دیا۔ اس دوران انہوں نے ڈاکو منصور، مایا، مکتی جیسی کئی فلموں میں سینماٹوگرافی کی لیکن انہیں ان سے زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔
۱۹۳۶ءمیں ریلیز ہونے والی فلم دیوداس بمل کےفلمی کریئرکی ایک اہم فلم ثابت ہوئی۔ فلم دیوداس میں بطور سینماٹوگرافر کام کرنے کے علاوہ ہدایت کارپی سی بروا کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ یہ فلم ہٹ رہی اور وہ کسی حد تک فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔ ۱۹۴۴ءمیں بمل رائےنےبنگالی فلم ’اویار پاتھر‘کی ہدایت کاری کی۔ یہ فلم ہندوستانی معاشرے میں رائج ذات پات کے امتیازسےمتاثر تھی۔ فلم نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ ۴۰؍ی دہائی کے آخر میں، نیو تھیٹر کی بندش کے بعد، وہ ممبئی آگئے۔ ممبئی آکر انہوں نے بامبے ٹاکیز میں شمولیت اختیار کی۔ اس کام میں اداکار اشوک کمار نے ان کی بہت مدد کی۔ انہوں نے ۱۹۵۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’دو بیگھہ زمین‘کے ذریعے فلم پروڈکشن کےمیدان میں بھی قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی کے لوگو کے طور پر بمبئی یونیورسٹی کے راجہ بھائی ٹاورکو رکھا۔ فلم دو بیگھہ زمین ان کے فلمی کریئر کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد بلراج ساہنی اور بمل رائے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ ۱۹۵۵ءمیں ان کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم ’دیوداس‘ریلیزہوئی۔ شرت چندر کے ناول پر مبنی اس فلم میں دلیپ کمار، سچترا سین اور وجینتی مالا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔
ہندی فلم انڈسٹری میں بہترین ہدایت کار کے طور پر سب سے زیادہ فلم فیئر ایوارڈز حاصل کرنے کا ریکارڈ بمل رائے کے پاس ہے۔ انہیں اپنے فلمی کیریئر میں ۷؍ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بمل رائے فلم انڈسٹری کے ان چند فلمسازوں میں سےایک تھے جو فلم کی تعدادکے بجائے اس کے معیارپریقین رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے اپنے ۳؍ دہائیوں کے طویل فلمی کریئرمیں صرف ۳۰؍فلمیں پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیں۔ فلم پروڈکشن کے علاوہ انہوں نےمحل، دیدار، نرتکی اور میری سورت تیری آنکھیں جیسی فلموں کی ایڈیٹنگ بھی کی۔ تقریباً۳؍ دہائیوں تک اپنی فلموں سے شائقین کو محظوظ کرنے والے عظیم فلم ساز بمل رائے۸؍ جنوری ۱۹۶۵ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جوئے بمل رائے نے ان پر۵۵؍منٹ کی دستاویزی فلم بنائی۔