یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش خلیج عمان میں داخل ہوئے، سینٹرل کمان کا تبصرہ سے انکار۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 10:55 AM IST | Washington
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش خلیج عمان میں داخل ہوئے، سینٹرل کمان کا تبصرہ سے انکار۔
خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب اپنے۲؍طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر دیے۔ بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق دونوں بحری جہاز گزشتہ روز خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکورٹی کو مزیدمضبوط کرنا اور ضرورت پڑنے پر تہران پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائےہرمز میں تجارتی جہاز رانی پرحملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں، عالمی سطح پر تیل کی تقریباً ۲۰؍فیصدترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہوچکی ہے، اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران پر خطے میں ۳؍ آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جواباً ایران نے۲؍ روز قبل خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ اور جمعرات کوایران کے۶؍شہروں میں کیے گئے امریکی حملوں میں تقریباً ۱۷؍جاں بحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: سریبرینیکا نسل کشی: ۳۱؍ ویں برسی، تین دہائیوں بعد بھی متاثرین اپنوں کے متلاشی
امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام) نے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے ۲۰؍سےزائد جنگی جہازتعینات کر رکھے ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق بحری قوت میں اس اضافے کا مقصد خطے کی سلامتی کو فروغ دینا اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحریہ کے ۲۰؍سےزائد جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ کے مختلف سمندری علاقوں میں گشت کر رہے ہیں، جبکہ سینٹ کام کی افواج خطے کی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔ جب سینٹ کام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تعیناتی ایران کی معیشت کو ماضی میں نقصان پہنچانے والی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ہے؟ تو اس نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریزکیا، تاہم دونوں طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں دیکھے گئے، جس کے باعث ان کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئرفیلو اور ریٹائرڈریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری نےنیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افواج کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہوتی ہے، لیکن جب بحری جہازوں کو ناکہ بندی یا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کی معاونت کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو وہ عمومی طور پر ایرانی خطے کے زیادہ قریب آ جاتے ہیں۔ امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کی توجہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے، جو نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر بھی ایک اہم معاملہ ہے۔