Updated: January 07, 2026, 4:06 PM IST
| Mumbai
بپاشا باسو بالی ووڈ کی مشہور اور بااثر اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ اپنے پُراعتماد انداز، بولڈ کردار اور اسکرین پر اپنی شاندار موجودگی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ آ ج بپاشا باسو ۴۷؍سال کی ہو گئیں۔ بلاشبہ بپاشا باسو نے اپنی منفرد شناخت، محنت اور جرات مندانہ کرداروں کے ذریعے بالی ووڈ میں ایک مضبوط مقام بنایا ہے۔
بپاشا باسو۔ تصویر:آئی این این
بپاشا باسو بالی ووڈ کی مشہور اور بااثر اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ اپنے پُراعتماد انداز، بولڈ کردار اور اسکرین پر اپنی شاندار موجودگی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ آ ج بپاشا باسو ۴۷؍سال کی ہو گئیں۔ بلاشبہ بپاشا باسو نے اپنی منفرد شناخت، محنت اور جرات مندانہ کرداروں کے ذریعے بالی ووڈ میں ایک مضبوط مقام بنایا ہے۔
بپاشا باسو ۷؍ جنوری ۱۹۷۹ء کو ایک بنگالی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ہیرک باسو ایک سول انجینئر ہیں جبکہ والدہ ممتا باسو ایک گھریلو خاتون ہیں۔ بپاشا کی ایک بڑی بہن بیدیشا اور ایک چھوٹی بہن وجیتا ہیں۔ دہلی میں بپاشا آٹھ سال کی عمر تک نہرو پلیس کے علاقے پامپوش انکلیو میں رہیں اور وہیں اپیجے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ان کا خاندان کولکاتا منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے بیدھان نگر میں واقع بھونز گنگابکس کنوریا ودیا مندر سے تعلیم حاصل کی۔اپنے اسکول میں بپاشا باسو کو ہیڈ گرل مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی مضبوط اور باوقار شخصیت کے باعث انہیں محبت سے ’’لیڈی گونڈا‘‘ کہا جاتا تھا۔
۷؍ جنوری۱۹۷۹ء کو دہلی میں پیدا ہونے والی بپاشا باسو نے اپنی ابتدائی تعلیم کولکاتا سے مکمل کی۔ انہوں نے اپنے ماڈلنگ کریئر کا آغاز سال ۱۹۹۶؍ میں کولکاتا سے ہی کیا۔ ماڈلنگ کے دوران ان کی ملاقات اداکار ارجن رامپال کی اہلیہ اور ماڈل مہر جیسیا سے ہوئی، جنہوں نے انہیں گودریج سنتھول سپر ماڈل مقابلے میں حصہ لینے کا مشورہ دیا۔ بپاشا باسو اس مقابلے کی فاتح بھی رہیں۔
بالی ووڈ میں بپاشا باسو نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز سال ۲۰۰۱؍ میں ریلیز ہونے والی فلم اجنبی سے کیا۔ اس فلم میں ان کے مقابل اکشے کمار تھے۔ فلم میں بپاشا کا کردار گرے شیڈز لیے ہوئے تھا، اس کے باوجود انہوں نے اپنی شاندار اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔ اس فلم کے لیے بپاشا باسو کو فلم فیئر کی جانب سے بہترین ڈیبیو ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ۲۰۰۲ءمیں بپاشا باسو کو وکرم بھٹ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم راز میں کام کرنے کا موقع ملا۔ سنسنی خیز عناصر سے بھرپور یہ فلم ناظرین میں بے حد مقبول ہوئی اور بپاشا کو اپنی زبردست اداکاری کے لیے فلم فیئر کے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔
۲۰۰۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم جسم بپاشا باسو کے کریئر کی اہم فلموں میں شامل ہے۔ اس فلم میں انہوں نے ایک بار پھر منفی کردار ادا کیا۔ جسم میں بپاشا کے مقابل جان ابراہم تھے۔ بپاشا اور جان کی جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد دونوں نے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کر کے ناظرین کا خوب دل بہلایا۔
بپاشا باسو نے اپنے فلمی کریئر میں اب تک تقریباً ۵۵؍ فلموں میں کام کیا ہے۔ ہندی فلموں کے علاوہ انہوں نے تمل، تیلگو اور بنگالی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کا جلوہ دکھایا۔ وہ بنیادی طور پر ہندی فلموں میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں اور انہیں فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل ہو چکا ہے۔۲۰۰۰ء کی دہائی اور ۲۰۱۰ء کی ابتدائی برسوں میں وہ بالی ووڈ کی نمایاں اداکاراؤں میں شمار کی جاتی تھیں۔
بپاشا باسو نے اپنی نوعمری کے آخری برسوں میں کئی میگزین کورز پر نظر آ کر فیشن ماڈلنگ کریئر کو جاری رکھا۔ اس دوران انہیں جے پی دتہ کی فلم آخری مغل میں ابھیشیک بچن کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی، جو بچن کی لانچ فلم بننی تھی، لیکن یہ فلم منسوخ ہو گئی، اور دتہ نے اس کی جگہ رومانوی ڈرامہ ریفیوجی بنائی جس میں کرینہ کپور نے کام کیا۔ بپاشا کو سنیل شیٹی کے ساتھ رفیوجی میں کردار کی پیشکش ہوئی، جسے انہوں نے انکار کر دیا۔ بپاشا نے سال ۲۰۱۶؍ میں کرن سنگھ گروور سے شادی کی۔ انہوں نے ہندی کے علاوہ تمل، تیلگو اور بنگالی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔بپاشا کو بالی ووڈ میں گلیمر، تھرلر اور نیگیٹو یا گرے شیڈ کرداروں کو مقبول بنانے کا سہراباندھاجاتا ہے۔بپاشا باسو کو خاص طور پر تھرلر اور ہارر فلموں میں اپنی اداکاری کے لیے پہچانا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی مقبول آئٹم نمبرز بھی کیے۔ میڈیا میں انہیں اکثر اپنے وقت کی سیکس سمبل اور اسکرین کوئین کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
۱۹۹۶ءمیں، بپاشا باسو کو کولکاتا کے ایک ہوٹل میں ماڈل مہر جیسیا رامپال نے دیکھا، جنہوں نے انہیں ماڈلنگ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اسی سال، بپاشا نے گودریج سنتھول سپر ماڈل مقابلہ میں حصہ لیا اور اسے جیت لیا، جس کے نتیجے میں وہ فورڈ ماڈلز سپر ماڈل آف دی ورلڈ مقابلے میں امریکہ کے شہر میامی میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے گئیں۔
۱۹۹۹ء میں بپاشا نے ویوک اوبیرائے کے ساتھ ایک اشتہار میں کام کیا، جو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ اسے اُس وقت ’’بولڈ‘‘ سمجھا گیا، لیکن کئی سال بعد یہ اشتہار سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا۔ اداکاری کی طرف منتقل ہونے کے بعد بھی بپاشا کبھی کبھار فیشن شوز اور ماڈلنگ اسائنمنٹس میں نظر آتی رہیں۔ ۲۰۱۳ءمیں انہوں نے لیکمے فیشن ویک سمر ریزورٹ میں ڈیزائنرز شنتانو اور نکھل کے لیے ریمپ پر واک کیا۔ اس تجربے پر بات کرتے ہوئے بپاشا نے کہا کہ ریمپ پر واپس آنا انہیں ان کے ابتدائی ماڈلنگ دنوں کی یاد دلا گیا ۔
بپاشا باسو نے ۲۰۰۶ء میں ہندی سنیما کی ایک نمایاں اداکارہ کے طور پر اپنا مقام مستحکم کر لیا۔ اسی سال ان کی چار بڑی فلمیں ریلیز ہوئیں - کامیڈی پھر ہیرا پھیری، کامیڈی ڈرامہ کارپوریٹ، کرائم ڈرامہ اومکارا اور ایکشن تھرلر دھوم۲؍ جو ناظرین اور ناقدین دونوں کے لیے کامیاب رہیں۔ مدھور بھنڈارکر کی کارپوریٹ میں بپاشا نے اپنی گلیمرس شکل چھوڑ کر ایک کاروباری خاتون کا کردار ادا کیا، جو اپنے جنسی حسن کا فائدہ اٹھا کر حریف کمپنی کے سی ای او کو دھوکہ دیتی ہے۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کو تنقیدی پذیرائی ملی اور انہیں فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ کے لیے دوسری بار نامزد کیا گیا، اگرچہ باکس آفس پر فلم نے اوسط کمائی کی۔
یہ بھی پڑھئے:’’ہمیں دھاراوی واسیوں کے وسیع ترمفاد اوران کے ۱۶؍مطالبات پرتوجہ دینی ہے ‘‘
وشال بھردواج کی اومکارا میں بپاشا نے بیلو چمن بہار کا کردار ادا کیا، جس میں اجے دیوگن، کرینہ کپور، سیف علی خان، کونکنا سین شرما اور ویوک اوبیرائے بھی تھے۔ ان کا ڈانس نمبر ’’بیڑ ی جلائے لی‘‘ ہندوستان اور بیرون ملک بہت مقبول ہوا۔ ۲۰۰۶ءکا آخری حصہ دھوم۲؍ تھا، جس میں انہوں نے ایک ساتھ رتیک روشن، ابھیشیک بچن، ایشوریا رائے اور اُدے چوپڑا کے ساتھ کام کیا۔ بپاشا نے پولیس افسر اور این آر آئی کا دُہرا کردار ادا کیا۔ فلم میں بیکنی پہننے کے لیے انہوں نے تین دن صرف سنگترے کھائے اور سخت تربیت کی۔ فلم اور بپاشا کی اداکاری دونوں کو ریلیز کے بعد مثبت ریویوز ملے۔ دھوم ۲؍باکس آفس پر بڑا بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی اور اس وقت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بنی۔
یہ بھی پڑھئے:عرفان خان کی آنکھیں بھی اداکاری کرتی تھیں
۲۰۰۷ء میں ان کی واحد فلم دھن دھنا دھن گول تھی، جس میں انہوں نے اداکار جان ابراہم کے ساتھ فٹ بال ٹیم کی فزیوتھراپسٹ کا کردار ادا کیا۔ فلم ریلیز سے پہلے ہائپ کے باوجود مخلوط سے منفی ریویوز حاصل کرنے کے بعد باکس آفس پر ناکام رہی۔ ان کا ڈانس نمبر’’بیلو رانی‘‘ کافی مقبول ہوا اور انہیں یہ عرفیت مل گئی، حالانکہ اومکارا میں ان کا کردار بھی بیلو چمن بہار تھا۔ ۲۰۰۸ءمیں بپاشا نے ایک بار پھر عباس- مستان کے ساتھ کرائم تھرلر ریس میں کام کیا۔ اس فلم میں انہوں نے سونیا کا کردار ادا کیا، جو دو بھائیوں (سیف علی خان اور اکشے کمار) کے درمیان محبت میں پھنس جاتی ہے اور آخر میں ایک کو قتل کر دیتی ہے۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی ۔ سال کی پانچویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی۔ ان کی اداکاری کو فلم کی طرح ناقدین خوب سراہا۔