Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران-امریکہ جنگ سے پوری دنیا کے بازاروں پر غیرمعمولی اثرات

Updated: March 01, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi

ایران-امریکہ جنگ اب صرف داغے گئے میزائلوں یا نشانہ بنے فوجی اڈوں سے نہیں ناپی جا رہی۔ ایشیا کے ممالک اب جنگ کی قیمت کو تیل کے فی بیرل، اسٹاک مارکیٹ کے کریش اور منسوخ شدہ پروازوں کے حساب سے دیکھ رہے ہیں۔

Protest Against Israel.Photo:PTI
اسرائیل کے خلاف احتجاج۔ تصویر:آئی این این

ایران-امریکہ جنگ اب صرف داغے گئے میزائلوں یا نشانہ بنے فوجی اڈوں سے نہیں ناپی جا رہی۔ ایشیا کے ممالک اب جنگ کی قیمت کو تیل کے فی بیرل، اسٹاک مارکیٹ کے کریش اور منسوخ شدہ پروازوں کے حساب سے دیکھ رہے ہیں۔  
یہ وقتی جھٹکا نہیں بلکہ توانائی، نقل و حرکت، مالیات اور سپلائی چینز میں خطرے کی نئی قیمت ہے، جو اس مفروضے پر قائم تھیں کہ بحران کے وقت بھی اہم راستے کھلے رہیں گے۔  آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان ہے، دنیا کی تقریباً ۲۵؍ فیصد تیل کی کھپت اور ایک پانچواں حصہ مائع قدرتی گیس گزارتا ہے۔ پروفیسر بسواجیت دھر نے کہاکہ ’’مارکیٹ پہلے ہی جغرافیائی سیاسی خطرے کا مستقل پریمیم لگا رہی ہے کیونکہ جنگ کے سبب آبنائے تقریباً بند ہو چکی ہے، اور یہ تیل کی قیمتوں، انشورنس اخراجات اور سست تر سپلائی میں جھلک رہا ہے۔‘‘  
برینٹ کروڈ کی ۲۰؍ مارچ کی ڈیلیوری ہفتہ کو۶۷؍ امریکی ڈالر سے زیادہ پر ٹریڈ ہوئی اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ۷۰؍ ڈالر سے اوپر جائے گی۔ انشورنس پریمیم موجودہ ۲۵ء۰؍ فیصد سے بڑھ کر ۵۰؍ فیصد تک جا سکتا ہے۔   اگر آبنائے بند ہو گئی تو تیل اور گیس کی فراہمی رک جائے گی، جس سے قیمتیں تیزی سے بڑھیں گی اور عالمی معیشت میں افراطِ زر سرایت کر جائے گا۔ سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے ساتھ ساتھ خلیجی پیداواری تنصیبات پر براہِ راست حملے ہوں، جس سے قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہیں۔  
ایشیا اس جھٹکے کا مرکز ہے، جہاں چین، ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ یہ توانائی کے محتاج ممالک خلیجی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں۔ ہندوستان کی روپے کی قدر گر رہی ہے اور یہ ۹۱؍ روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔   ہندوستان کی صورتحال خاص طور پر نازک ہے کیونکہ اس کی دو تہائی تیل کی درآمدات اور نصف سے زیادہ یورپ  اور شمالی افریقہ کے ساتھ تجارت آبنائے ہرمز یا نہرِ سویز سے گزرتی ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ اور خوراک کی مہنگائی بڑھ رہی ہے، جو غریب طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:سونل چوہان دبئی ایئرپورٹ پر پھنس گئیں، وزیراعظم مودی سے مدد کی اپیل

روس، امریکہ اور مغربی افریقہ سے سپلائی متنوع کرنے کی کوششیں وقتی طور پر مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر بھی صرف چند ہفتوں کا سہارا دے سکتے ہیں۔   دبئی اور المکتوم ایئرپورٹس کی بندش نے ظاہر کر دیا ہے کہ عالمی فضائی نقل و حرکت کس قدر علاقائی استحکام سے جڑی ہے۔ پروازیں منسوخ یا طویل راستوں پر موڑ دی گئیں، جس سے ایندھن اور عملے کے اخراجات بڑھ گئے۔  

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے انعقاد میں اب صرف ۱۰۰؍ دن باقی،۴۸؍ ٹیمیں مدمقابل

سونے اور چاندی کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ ایم سی ایکس پر اپریل کے لیے سونے کا فی ۱۰؍ گرام۱۶۲۱۰۴؍  روپے پر بند ہوا جبکہ چاندی کا فی کلو۲۸۲۶۴۴؍ روپے تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو سونے کی قیمت ۲؍ لاکھ روپے فی ۱۰؍  گرام تک جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK