ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی رضا اعرافی کا قیادت کونسل میں تقرر کیا گیا ہے، جن کی سربراہی میں عبوری نظام قائم ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 8:02 PM IST | Tehran
ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی رضا اعرافی کا قیادت کونسل میں تقرر کیا گیا ہے، جن کی سربراہی میں عبوری نظام قائم ہو گیا ہے۔
ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں شہادت کے بعد ایران میں عبوری قیادت کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق، اتوار کو علی رضا اعرافی کو اس قیادت کونسل کا فقیہ رکن مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کونسل اس وقت تک سربراہی کے فرائض انجام دے گی جب تک ماہرین کی اسمبلی نیا رہبرمنتخب نہیں کر لیتی۔ سربراہی کونسل، جو ایک عبوری انتظامی باڈی ہے، میں گارڈین کونسل کے عالم رکن اعرافی کے علاوہ صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلامحسین محسنی ایجی بھی شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور نیتن یاہو نے دوران مذاکرات ایران پر حملے کی خفیہ سازش رچی:جانئے تفصیل
واضح رہے کہ اعرافی کی تقرری اس وقت عمل میں آئی جب ایران کے۸۶؍ سالہ سپریم لیڈر، جو ۱۹۸۹؍سےاس عہدے پر فائز تھے، اسرائیلی اور امریکی حملوں میں شہید ہو گئے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کوخامہ ای کی شہادت کے بعد۴۰؍ دن کے سوگ اور سات دن کی عوامی تعطیلات کا اعلان کیا۔ادھر، پاسداران انقلاب نے خامنہ ای کے ’’قاتلوں‘‘ کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ان حملوں میں سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور پوتی بھی شہید ہوئیں۔اس سے قبل سنیچر کو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا ۔ امریکی ذرائع کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کا وقت اس لیے چنا کیونکہ خامنہ ای اپنے اعلیٰ معاونین کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں سابق قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی اور آئی آر جی سی کمانڈر محمد پاکپور سمیت اعلیٰ معاون بھی ہلاک ہوئے۔بعد ازاں دو ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ خامنہ ای نے حملوں سے کچھ دیر پہلے شمخانی اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی سے ملاقات کی تھی۔