آدتیہ دھر کی ہدایت میں بنی ’’دُھرندھر۲‘‘ اور گیتا موہن داس کی ہدایت میں بنی ’’ٹاکسک ‘‘ کے درمیان باکس آفس پر ٹکراؤ ہونے والا ہے۔ اس باکس آفس مقابلے پر ہدایتکار سنجے گپتا نے بھی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 3:20 PM IST | Mumbai
آدتیہ دھر کی ہدایت میں بنی ’’دُھرندھر۲‘‘ اور گیتا موہن داس کی ہدایت میں بنی ’’ٹاکسک ‘‘ کے درمیان باکس آفس پر ٹکراؤ ہونے والا ہے۔ اس باکس آفس مقابلے پر ہدایتکار سنجے گپتا نے بھی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔
اگلے مہینے باکس آفس پر جنوبی ہندوستان اور ہندی سنیما کے درمیان اب تک کی سب سے بڑی ٹکر ہونے والی ہے۔ ایک طرف رنویر سنگھ کی ’’دُھرندھر۲‘‘ ہے، جس کے پہلے حصے نے چند ماہ قبل ہی سنیما گھروں میں کمائی کے کئی ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔ دوسری طرف کنڑ سنیما کے بڑے اسٹار یش کی فلم ’’ٹاکسک‘‘ ہے۔’’کے جی ایف‘‘ اور ’’کے جی ایف ۲‘‘ کے بعد سے ہی یش پین انڈیا اسٹار بن چکے ہیں۔ ایسے میں ان کی فلم کی بھی زبردست دھوم ہے۔ اس بڑی ٹکر پر سب کی نظریں ہیں۔
’’دُھرندھر۲‘‘کو جنوبی ہند میں وہاں کی مقامی زبانوں میں بھی ریلیز کیا جا رہا ہے جبکہ ’’ ٹاکسک‘‘ کے بارے میں پہلے ہی واضح تھا کہ یہ ہندی میں بھی آئے گی۔ ایسے میں اسکرینز کی تقسیم طے ہے اور جب اسکرینز تقسیم ہوں گی تو باکس آفس کلیکشن پر بھی اثر پڑے گا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجے گپتا کا کہنا ہے کہ دونوں فلمیں ایک دوسرے کے کاروبار کو متاثر کریں گی۔ انہوں نے اس ٹکر کو بدقسمتی بھی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے ۲؍گول، سعودی پرولیگ میں النصر سرفہرست
دونوں فلمیں ایک دوسرے کا نقصان کریں گی
’’دُھرندھر۲‘‘ اور ’’ٹاکسک‘‘ کے درمیان ہونے والے اس ٹکراؤ پر سنجے گپتا نے کہا کہ وہ دونوں فلمیں دیکھیں گے لیکن یہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں دونوں فلمیں دیکھوں گا، لیکن بدقسمتی سے دونوں ایک ساتھ ریلیز ہو رہی ہیں کیونکہ ان کا کافی انتظار کیا جا رہا ہے اور وہ بس ایک دوسرے کے کاروبار کو کھائیں گی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ۲۰۲۶ء بافٹا ایوارڈز میں بطور پریزینٹر شامل
یہ ٹکراؤ غیر ضروری ہے
اس دوران انہوں نے اپنی فلم قابل اور شاہ رخ خان کی فلم رئیس کے درمیان ۲۰۱۷ء میں ہونے والے تصادم کو بھی یاد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فلمیں الگ الگ ریلیز ہوتیں تو دونوں کو فائدہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کوئی بہت امیر ملک نہیں ہیں اور لوگوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ وہ ایک ساتھ دونوں فلمیں دیکھ سکیں۔ ان کے مطابق ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ایک مہینے میں دو فلمیں نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے اس ٹکر کو غیر ضروری قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ فلم سازوں کے پاس ایسا کرنے کی یقیناً کوئی وجہ ہوگی۔