Updated: February 22, 2026, 4:10 PM IST
| Gaza
جنگ سے متاثرہ غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور تاحال موبائل ہومز کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی۔ امجد الشوا کے مطابق امدادی رکاوٹوں اور اسرائیلی فوجی کنٹرول کے باعث پناہ گاہوں اور بنیادی سہولیات کی قلت مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی غزہ کے محکمہ صحت نے سنیچر کوبتایا کہ غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر۷۲۰۷۰؍ ہزارجبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ ۷۱ ؍ ہزار ۷۳۸؍ تک پہنچ گئی ہے۔
فلسطینی سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے بتایا ہے کہ بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی وسیع تر انسانی ضروریات کے باوجود تاحال غزہ کی پٹی میں کوئی ایک بھی موبائل ہوم داخل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بنجامن نیتن یاہو کی فوج پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ کے وسیع رقبے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور نام نہاد ’یلو لائن‘ کا دائرہ کار رہائشی علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ’ڈی پی اے‘کو موصول ہونے والے بیانات میں امجد الشوا نے مزید کہا کہ ہزاروں خاندان اب بھی بوسیدہ خیموں میں یا کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ پناہ گاہوں کے حوالے سے کسی حقیقی حل کی عدم موجودگی اور انسانی ہمدردی کے معاہدوں میں شامل موبائل ہومز کی آمد کی اجازت نہ ملنے سے صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کاایران پرحملے کیلئے امریکہ کو اپنی زمین دینے سے انکار
امجد الشوا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوج عملی طور پر غزہ کی پٹی کے تقریباً۶۰؍ فیصد رقبے پر قابض ہو چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’یلو لائن‘ کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث شہریوں کیلئےدستیاب جگہ مزید کم ہو گئی ہے، بالخصوص غزہ کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں رہنے والوں کیلئے شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے تسلسل سے امدادی سرگرمیاں پیچیدہ ہو رہی ہیں اور مقامی و بین الاقوامی اداروں کی رسائی ان طبقات تک محدود ہو گئی ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پناہ گاہوں کے سامان، تعمیراتی مواد اور انسانی امداد کی فراہمی کیلئے تمام راہداریاں مکمل اور مستقل طور پر کھولی جائیں۔ راہداریوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امجد الشوا نے بتایا کہ امداد کی آمد اب بھی مطلوبہ معیار سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی مواد اور تیار شدہ گھروں کی آمد پر عائد پابندیاں گذشتہ کئی ماہ سے جاری رہائشی بحران کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پابندیاں درکنار، ایک لاکھ افراد نے مسجد اقصیٰ میں تراویح ادا کی
غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد ۷۲؍ ہزار سے متجاوزہو گئی
غزہ کے محکمہ صحت نے سنیچر کوبتایا کہ سات اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے بعد سے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر۷۲۰۷۰؍ ہزارجبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ ۷۱ ؍ ہزار ۷۳۸؍ تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ۴۸؍ گھنٹوں کے دوران غزہ کے اسپتالوں میں ایک لاش اور۱۰؍ زخمیوں کو لایا گیا۔ گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے حکام کے مطابق۶۱۲؍ فلسطینی ہلاک اور ایک ہزار ۶۴۰؍ دیگر افراد زخمی ہو چکے ہیں۔