امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کی سپریم کورٹ نے ۳۸؍ سالہ گلوکارہ اور اداکارہ برٹنی اسپیئرس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان کے والد کو مزید ایک سال تک ان کا سرپرست مقرر کردیا۔یاد رہے کہ برٹنی اسپیئرس نے ۱۷؍ اگست کو عدالت میں والد کو سرپرستی سے ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔
برٹنی اسپیئرس۔ تصویر: آئی این این
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کی سپریم کورٹ نے ۳۸؍ سالہ گلوکارہ اور اداکارہ برٹنی اسپیئرس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان کے والد کو مزید ایک سال تک ان کا سرپرست مقرر کردیا۔یاد رہے کہ برٹنی اسپیئرس نے ۱۷؍ اگست کو عدالت میں والد کو سرپرستی سے ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔ برٹنی اسپیئرس کے والد جیمی اسپیئرس۲۰۰۸ء سے ان کے قانونی سرپرست ہیں۔امریکی عدالت نے۲۰۰۸ء میں برٹنی اسپیئرس کی ذہنی حالت خراب ہونے کے بعدسر پرستی سے متعلق قانون کے تحت ان کے والد اور ایک وکیل کو ان کا سرپرست مقرر کیا تھا۔ عدالت نے امریکی گلوکارہ کے لئےقانونی سرپرستوں کا تقرر اس وقت کیا تھا جب عدالت نے دیکھا کہ برٹنی اسپیئرس اپنےمعاملات خود سنبھال نہیں پا رہی ہیں اور ذہنی حالت خراب ہونے کے باعث وہ اپنا برا بھلا نہیں سمجھ رہیں۔
اداکارہ کی یہ حالت اس وقت ہوئی جب ان کی دوسری شادی ۴۲؍ سالہ گلوکار کیون فیڈرلائن سے طلاق پر ختم ہوئی اور انہیں اپنے ۲؍کمسن بچوں کی حوالگی کے لئے قانونی مسائل اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔گلوکارہ نے۱۷؍اگست کو والد کو ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔دوسری شادی کے طلاق پراختتام اور بچوں کے نہ ملنے کے غم کی وجہ سے اداکارہ ذہنی مسائل کا شکار ہوگئی تھیں اور ان کے ساتھ ذہنی مسائل بڑھنے لگے تھے، جس کی وجہ سے عدالت نے ان کے والد اور ایک وکیل کو ان کا سرپرست مقرر کیا تھا۔ان کے والد جیمس اسپیئرس اور وکیل اینڈریو والٹ گزشتہ سال تک ان کے سرپرست اعلیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالتے آئے تھے اور وہ گزشتہ۱۲؍ سال سے اداکارہ کی دولت، صحت، ذہنی حالت، تعلقات اور زندگی کے ہر معاملات کا فیصلہ کرتے آرہے تھے۔