Updated: February 12, 2026, 9:05 PM IST
| Hyderabad
حیدر آباد کے کمپیوٹر کے ایک طالب علم نے ٹیک کمپنی میں ملازمت کی درخواست کیلئے انوکھا ای میل بھیجا، اس نے میل کے آغاز میں ٹیک کمپنی کے بانی کے نام عنوان میں لکھا،’’ آپ کا نام ایپسٹین فائل میں ہے،‘‘جبکہ ای میل کے اندرلکھا کہ اس نے ایسا اس لئے لکھا کہ اس کا ای میل پڑھا جائے۔
ہرشدیپ رپل، جولیجٹ اے آئی کے بانی اورسی ای او ہیں، نے آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ایک طالب علم کو اس کی ملازمت کی درخواست کے لیے انتہائی متنازع عنوان کے ساتھ توجہ حاصل کرنے پر تنقید کی۔ واضح رہے کہ طالب علم نے چونکا دینے والے عنوان کے تحت ای میل بھیجی،’’ آپ کا نام ایپسٹین فائلوں میں ہے۔‘‘ جبکہ ای میل کھولنے پر پہلا جملہ تھا، ’’ہیلو ہرشدیپ، مذاق کر رہا تھا، میں چاہتا تھا کہ آپ میل کھولیں۔‘‘ اس کے بعد طالب علم نے اپنا تعارف آئی آئی ٹی حیدرآباد کے کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ کے طالب علم کے طور پر کرایا اور کمپنی کے ’’اسمارٹ کنٹریکٹس اسسٹنٹ‘‘ سے متعلق ممکنہ گفتگو کے لیے اپنا ریزیومے منسلک کیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعلیٰ ہیمنت شرما کا مسلمانوں پر گولی چلانے والا ویڈیو ’غیرقانونی‘ تھا: آسام بی جے پی کا دعویٰ
بعد ازاں رپل نے سوشل میڈیا پر ای میل کا ریڈیکٹڈ اسکرین شاٹ شیئر کیا، اس اقدام کو غیر پیشہ ورانہ اور ’’شارٹ کٹ‘‘ قرار دیا، جسے عام طور پر بزنس لیڈر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی کمپنی سخت قانونی معاہدوں سے کام کرتی ہے، جس کے لیے اعلیٰ سطح کی احتسابی اور پیشہ ورانہ مہارت درکار ہے۔ہرشدیپ نے لکھا، ’’دوستو، براہ کرم ایسا مت کریں۔ سیاق و سباق سمجھنے کی کوشش کریں۔لیجٹ اے آئی میں ہم معاہدوں کے کاروبار میں ہیں۔ یہ سنجیدہ کام ہے جس کے لیے احتساب، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت ضروری ہے۔ اگر آپ کی پہلی ای میل کا عنوان اور آغاز ایسا ہو، تو میں (اور ایمانداری سے، زیادہ تر بانی یا بزنس لیڈر) جواب نہیں دیں گے۔ کالج کے پروجیکٹس اور حقیقی بزنس ٹیم کا حصہ ہونے میں واضح فرق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجبوری بعض اوقات لوگوں کو شارٹ کٹ لینے پر مجبور کر دیتی ہے، لیکن یہ طریقہ آپ کی مدد نہیں کرے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس کا کارنامہ، انکاؤنٹر کی دھمکی دے کر مسلم تاجر سے ۲۰؍ لاکھ روپے اینٹھ لئے
واضح رہے کہ اس طالبعلم نے سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات (۳۰؍ لاکھ صفحات سے زیادہ) کی بڑی ریلیز کے بعد خبروں کا فائدہ اٹھایا۔ ان فائلوں نے آن لائن کافی تنازع کھڑا کیا، کیونکہ ان میں مختلف ہندوستانی شخصیات کا ذکر تھا۔بعد ازاں سوشل میڈیا صارفین ای میل کے موضوع سے حیران رہ گئے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ تخلیقی اور روایت سے الگ سوچ رہے ہیں، اور ایسے نادانی کرتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ لوگ ایسی چالوں سے ناراض ہوں گے۔ انہیں لگتا ہے کہ ایسی ای میل تخلیقی سمجھی جائیں گی اور انہیں موقع ملے گا، جیسے فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔‘‘ جبکہ دوسرے صارف نے کہا، ’’میں نادانی کی سطح دیکھ کر حیران ہوں۔ اس سوچ کے ساتھ کون نوکری دے گا، چاہے امیدوار اپنیصلاحیتوں میں بہترین ہو؟ نفسیات اہم ہے۔‘‘تیسرے نے کہا، "اتنی حماقت اور مذاق کے باوجود، آپ نے پھر بھی یقینی بنایا کہ اس کا نام پوشیدہ رہے۔ اس نوجوان طالب علم کو پہلے آداب/اخلاقیات سیکھنے کی ضرورت ہے، پھر پیشہ ورانہ معاملات۔‘‘چوتھے نے مزید کہا، ’’بدقسمتی سے اس قسم کی سنسنی خیزی سوشل میڈیا پر معمول بنتی جا رہی ہے اور لوگ اسےمعمول سمجھتے ہیں۔لیکن روایتی طریقوں سے انحراف نہیں کرنا چاہئے۔‘‘