• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دور درشن کی ممتاز نیوزریڈر سرلا مہیشوری کا ۷۱؍ برس کی عمر میں انتقال

Updated: February 12, 2026, 6:16 PM IST | New Delhi

دور درشن کی معروف نیوزریڈر سرلا مہیشوری کا ۷۱؍ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی میں قومی نشریات کا معتبر چہرہ رہیں۔ ان کے انتقال کی اطلاع سابق نیوزریڈر شمی نارنگ نے دی۔ سرلا مہیشوری کو واضح تلفظ، باوقار انداز اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے یاد رکھا جائے گا۔

Newsreader Sarla Maheshwari. Photo: INN
نیوزریڈر سرلا مہیشوری۔ تصویر: آئی این این

سرکاری نشریاتی ادارے Doordarshan کی ممتاز اور باوقار نیوزریڈر سرلا مہیشوری ۷۱؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر اُن کے ساتھی اور سابق نیوزریڈر شمی نارنگ نے دی، جس کے بعد صحافتی اور نشریاتی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ سرلا مہیشوری اُن آوازوں میں شامل تھیں جنہوں نے ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ہندوستانی گھروں تک خبروں کو سنجیدہ اور معتبر انداز میں پہنچایا۔ اُس دور میں جب دور درشن ملک کا واحد قومی ٹی وی نیٹ ورک تھا، نیوزریڈرز عوام کے لیے اعتماد کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ سرلا مہیشوری کی پُرسکون آواز، واضح ادائیگی اور متوازن اندازِ بیان نے انہیں ناظرین کے دلوں میں نمایاں مقام دلایا۔ رپورٹس کے مطابق سرلا مہیشوری نے اپنے کریئر کا آغاز ۱۹۷۰ء کی دہائی کے وسط میں کیا۔ وہ تعلیمی پس منظر رکھنے والی شخصیت تھیں اور دہلی یونیورسٹی سے وابستہ رہیں۔ بعد ازاں انہوں نے نشریاتی صحافت کو بطور پیشہ اختیار کیا اور جلد ہی دور درشن کے نمایاں چہروں میں شمار ہونے لگیں۔ ان کی پیشکش میں غیر ضروری جذباتیت کے بجائے ٹھہراؤ اور پیشہ ورانہ سنجیدگی نمایاں ہوتی تھی، جو اُس وقت کے نیوز کلچر کا خاصہ تھا۔

ان کے ساتھیوں کے مطابق سرلا مہیشوری نہ صرف کیمرے کے سامنے بااعتماد تھیں بلکہ نیوز روم میں بھی انتہائی منظم اور اصول پسند شخصیت کی حامل تھیں۔ خبر پڑھنے سے قبل اسکرپٹ کا باریک بینی سے جائزہ لینا، تلفظ کی درستگی اور موضوع کی حساسیت کو سمجھنا اُن کے معمول کا حصہ تھا۔ یہی خصوصیات انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتی تھیں۔ دور درشن کے سنہری دور میں جب ملک اہم سیاسی، سماجی اور بین الاقوامی واقعات سے گزر رہا تھا، سرلا مہیشوری اُن نیوزریڈرز میں شامل تھیں جنہوں نے ان لمحات کو قوم تک پہنچایا۔ اُس زمانے میں خبر کی پیشکش میں وقار اور سادگی کو بنیادی اصول سمجھا جاتا تھا، اور سرلا مہیشوری اسی روایت کی نمائندہ تھیں۔ سابق ساتھیوں اور ناظرین نے سوشل میڈیا پر اُن کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کئی صارفین نے لکھا کہ اُن کی آواز ایک پوری نسل کی یادوں کا حصہ ہے۔ بعض نے انہیں ’’اعتماد کی آواز‘‘ قرار دیا جو ہر شام گھروں میں خبریں لے کر آتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ سی سی کیمرے خراب ہونا محض اتفاق ہے یا کچھ اور معاملہ ہے؟‘‘

سرلا مہیشوری کا انتقال ہندوستانی نشریاتی صحافت کے اُس عہد کے خاتمے کی علامت ہے جب نیوزریڈرز کو محض چہرہ نہیں بلکہ ادارے کی ساکھ سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جہاں رفتار اور مقابلہ بڑھ چکا ہے، اُس کے برعکس اُن کے زمانے میں خبر کی پیشکش میں سنجیدگی اور توازن کو اولین ترجیح دی جاتی تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی آخری رسومات دہلی میں ادا کی گئیں۔ صحافتی برادری اور پرانے ناظرین نے اُن کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سرلا مہیشوری کی پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خبر پڑھنا صرف الفاظ ادا کرنا نہیں بلکہ ذمہ داری، اعتماد اور وقار کا تقاضا بھی ہے۔ وہ اپنی آواز، انداز اور خدمات کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK