رپورٹ کے مطابق، ایران کا ماننا ہے کہ مذاکرات اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے جب تک ان اقدامات پر عملی طور پر عمل درآمد نہ ہو جائے اور انہیں خاص طور پر دونوں فریقوں کے درمیان کم از کم اعتماد پیدا کرنے کے اقدامات کے طور پر وضع نہ کیا جائے۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 7:35 PM IST | Tehran/Washington
رپورٹ کے مطابق، ایران کا ماننا ہے کہ مذاکرات اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے جب تک ان اقدامات پر عملی طور پر عمل درآمد نہ ہو جائے اور انہیں خاص طور پر دونوں فریقوں کے درمیان کم از کم اعتماد پیدا کرنے کے اقدامات کے طور پر وضع نہ کیا جائے۔
فارس نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران نے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں اس وقت تک داخل نہیں ہوگا جب تک اعتماد سازی کی پانچ شرائط پوری نہیں ہوجاتیں۔ ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران ان مطالبات کو واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ضروری ”کم از کم ضمانتیں“ قرار دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کی شرائط میں تمام محاذوں بالخصوص لبنان میں جنگ کا خاتمہ، تہران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، حالیہ جنگ میں ہوئے نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختاری کے حقوق کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے یہ شرائط پاکستانی ثالثوں کو پہنچا دی ہیں۔ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بحیرہ عرب اور خلیجِ عمان میں مسلسل امریکی بحری ناکہ بندی نے واشنگٹن پر تہران کے عدم اعتماد میں مزید اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کا ماننا ہے کہ مذاکرات اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے جب تک ان اقدامات پر عملی طور پر عمل درآمد نہ ہو جائے اور انہیں خاص طور پر دونوں فریقوں کے درمیان کم از کم اعتماد پیدا کرنے کے اقدامات کے طور پر وضع نہ کیا جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تہران نے یہ پانچ شرائط واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ ۱۴ نکاتی تجویز کے جواب میں پیش کی ہیں۔ ایران نے امریکی تجویز کو ”مکمل طور پر یکطرفہ“ اور ان مقاصد کے حصول کیلئے ڈیزائن کردہ قرار دیا ہے جو امریکہ جنگ کے دوران حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایران تنازع میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں: ٹرمپ
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران تنازع پر گفتگو کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چین روانگی سے قبل منگل کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کو ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے معاملے میں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم اسے کسی نہ کسی طرح جیت لیں گے، پرامن طریقے سے یا کسی اور طرح۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران کا انتباہ، دوبارہ حملہ ہوا تو۹۰؍ فیصد یورینیم افزودگی کی جائے گی
تاہم، ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے دوران ایران تنازع ایک اہم موضوع ہوگا۔ یہ دورہ تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات اور ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ سے جڑی مسلسل کشیدگی کے درمیان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ۶ ماہ سے زائد عرصے سے کوئی آمنے سامنے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔