کامیڈی کنگ محمود پانچ دہائیوں تک ناظرین کو ہنساتے رہے

Updated: September 30, 2022, 12:23 PM IST | Agency | Mumbai

اپنے مخصوص انداز ، تاثرات اور آواز سے تقریباً پانچ دہائی تک ناظرین کو هنسانے والے محمود نے فلم انڈسٹری میں ’کنگ آف کامیڈی‘ كا درجہ حاصل کیا لیکن انہیں اس کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی اور یہاں تک سننا پڑا تھا کہ وه نہ تو اداکاری کر سکتے ہیں اور نہ ہی کبھی اداکار بن سکتے ہیں۔

Comedy king Mahmood  .Picture:INN
کامیڈی کنگ محمود ۔ تصویر:آئی این این

اپنے مخصوص انداز ، تاثرات اور آواز سے تقریباً پانچ دہائی تک ناظرین کو هنسانے والے محمود نے فلم انڈسٹری میں ’کنگ آف کامیڈی‘ كا درجہ حاصل کیا لیکن انہیں اس کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی اور یہاں تک سننا پڑا تھا کہ وه نہ تو اداکاری کر سکتے ہیں اور نہ ہی کبھی اداکار بن سکتے ہیں۔ چائلڈ آرٹسٹ سے کامیڈین کے طور پر شروعات کرنے والے محمود کی پیدائش۲۹؍ ستمبر۱۹۳۲ء کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ممتاز علی بامبے ٹاكيز ا سٹوڈیو میں کام کیا کرتے تھے۔ بچپن کے دنوں سے ہی محمود کا رجحان اداکاری کی جانب تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ اپنے والد کی سفارش سے محمود کو بامبے ٹاکیز کی ۱۹۴۳ء میں آئی فلم قسمت میں اداکار اشوک کمارکے بچپن کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ محمود نے  اس دوران  اپنا نام جونیئر آرٹسٹ ایسوسی ایشن میں درج کرا دیا اور فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے جدوجہد شروع کردی۔ اس کے بعد بطور جونیئر آرٹسٹ محمود نے دو بیگھہ زمین، جاگرتی ،سی آئی ڈی، پیاسا جیسی فلموں میں چھوٹے موٹے رول کئے۔ اسی دوران محمود نے اے وی ایم کے بینر تلے بننے والی فلم مس میری کے لئے اسکرین ٹیسٹ دیا لیکن وہ   فیل ہوگئے۔ محمود کی  قسمت کا ستارہ تب چمکا جب فلم نادان کی شوٹنگ کے دوران اداکارہ مدھوبالا کے سامنے ایک جونیئر آرٹسٹ مسلسل دس ري ٹیك کے بعد بھی اپنا ڈائیلاگ نہیں بول پایا۔ فلم ڈائریکٹر ہیراسنگھ نے یہ مکالمہ محمود کو بولنے کے لیے دیا جسے انہوں نے بغیر ری ٹیک کے ایک ہی بار میں ادا کردیا۔اس فلم میں محمود کو بطورمحنتانہ۳۰۰؍ روپے ملے جبکہ بطور ڈرائیور محمود کو ماہانہ۷۵؍ روپے ہی ملا کرتے تھے۔۱۹۶۱ء  میں محمود کو ایم وی پرساد کی فلم سسرال میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد بطور کامیڈین محمود فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ فلم سسرال میں ان کی جوڑی اداکارہ شوبھا کھوٹے کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔۱۹۶۸ء میںفلم ’پڑوسن ‘ میں محمودنے  وہ اداکاری  دکھائی جنہیں آج تک فلم ناقدین ایک معیار تسلیم کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK