رتیش دیشمکھ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’راجہ شیواجی‘‘ کے ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ حلقوں نے کاسٹنگ پر اعتراض کیا، جبکہ بی جے پی لیڈر سریش ناخوہ سمیت ناقدین نے تاریخی واقعات کی پیشکش پر سوال اٹھائے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 8:01 PM IST | Mumbai
رتیش دیشمکھ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’راجہ شیواجی‘‘ کے ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ حلقوں نے کاسٹنگ پر اعتراض کیا، جبکہ بی جے پی لیڈر سریش ناخوہ سمیت ناقدین نے تاریخی واقعات کی پیشکش پر سوال اٹھائے۔
مراٹھی بلاک بسٹر Ved کے بعد اداکار اور ہدایتکار رتیش دیشمکھ اب اپنے کریئر کے سب سے بڑے پروجیکٹ ’’راجہ شیواجی‘‘ کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ فلم نہ صرف ان کی ہدایت کاری بلکہ بطور مرکزی اداکار بھی ایک بڑا قدم سمجھی جا رہی ہے، جسے وہ اپنے پروڈکشن ہاؤس ممبئی فلم کمپنی کے تحت بنا رہے ہیں۔ ٹریلر کے جاری ہوتے ہی فلم نے زبردست توجہ حاصل کی، لیکن ساتھ ہی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے رتیش کی کاسٹنگ پر سوال اٹھائے، یہ کہتے ہوئے کہ کردار کے لیے زیادہ ’’جسمانی طور پر مضبوط‘‘ اداکار ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، تاریخ دانوں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی اصل قد و قامت اتنی بلند نہیں تھی جتنی عام طور پر تصور کی جاتی ہے، جس سے اس تنقید کی بنیاد کمزور پڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کی بایوپک ’’مائیکل‘‘ کو منفی ریویوز، شاندار اوپننگ متوقع
اصل تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بی جے پی لیڈر سریش ناخوہ نے ٹریلر کے ایک مخصوص منظر پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فلم میں دکھایا گیا ’’واگھ نکھ‘‘ کا استعمال تاریخی حقائق کے مطابق ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق، تاریخی روایت یہ بتاتی ہے کہ شیواجی مہاراج نے افضل خان پر حملے سے پہلے اس ہتھیار کو ظاہر نہیں کیا تھا، جبکہ ٹریلر میں اسے پہلے ہی دکھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس میں، انہوں نے فلم پر مہاراشٹر کی تاریخ کو ’’توڑ مروڑ کر پیش کرنے‘‘ کا الزام بھی لگایا، جس سے بحث مزید گرم ہو گئی۔
اس تنقید کے جواب میں رتیش نے نہایت محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ناقدین کو فلم ریلیز ہونے کے بعد مکمل سیاق و سباق میں اسے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں مداحوں کو یکم مئی کو فلم دیکھنے کی دعوت دی اور اشارہ دیا کہ سوالات کے جوابات فلم میں موجود ہیں۔ فلم کی کاسٹ بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں ابھیشیک بچن، ودیا بالن، سنجے دت اور جنیلیا دیشمکھ جیسے بڑے نام شامل ہیں، جو اس پروجیکٹ کو مزید اہم بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان کی ’’جوان ۲‘‘ ترقی کے مرحلے میں، اسکرپٹ فائنل، ویلن کی تلاش جاری
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’راجہ شیواجی‘‘ کی ریلیز یکم مئی ۲۰۲۶ء کو متوقع ہے، جہاں اس کا باکس آفس پر مقابلہ عامر خان کے بیٹے کی فلم ’’ایک دن‘‘ سے ہوگا، جس میں سائی پلوی ہیروئن ہیں۔ ’’راجہ شیواجی‘‘ کے گرد جاری تنازع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تاریخی شخصیات پر مبنی پروجیکٹس میں نہ صرف تفریح بلکہ حساسیت اور درستگی بھی اہم ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’’راجہ شیواجی‘‘ ریلیز کے بعد ان سوالات کا کس حد تک جواب دے پاتی ہے، یا یہ تنازع مزید گہرا ہو جاتا ہے۔