معروف این بی اے کھلاڑی Kyrie Irving نے اپنی سوشل میڈیا پروفائل تصویر ایک فلسطینی بچے کی تصویر سے بدل دی ہے، جو مغربی کنارے میں اسکول جانے سے روکا گیا تھا۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور اسرائیلی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 8:00 PM IST | New York
معروف این بی اے کھلاڑی Kyrie Irving نے اپنی سوشل میڈیا پروفائل تصویر ایک فلسطینی بچے کی تصویر سے بدل دی ہے، جو مغربی کنارے میں اسکول جانے سے روکا گیا تھا۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور اسرائیلی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی باسکٹ بال اسٹار Kyrie Irving ایک بار پھر سیاسی اور انسانی حقوق کے معاملے پر کھل کر اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام پروفائل تصویر تبدیل کر کے ایک ایسے فلسطینی بچے کی تصویر لگا دی ہے، جسے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسکول جانے سے روکا گیا تھا۔ یہ تصویر ایک گہرے علامتی منظر کو ظاہر کرتی ہے: ایک کم عمر لڑکا کتاب ہاتھ میں لیے خاردار تاروں کے سامنے بیٹھا ہے، جبکہ پیچھے اسرائیلی فوجی موجود ہیں۔ یہ تصویر نہ صرف تعلیم کے حق پر قدغن بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ مغربی کنارے کے علاقے ام الخیر میں پیش آیا، جہاں فلسطینی بچوں کو اسکول جانے کے راستے میں ایک باڑ لگا کر روک دیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یہ رکاوٹ آبادکاروں کی جانب سے کھڑی کی گئی، جبکہ اسرائیلی فوج نے اسے ہٹانے سے انکار کیا۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو طویل فاصلہ طے کرنے یا تعلیم سے محروم رہنے کا سامنا کرنا پڑا۔ جب بچوں نے اس رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش کی، تو ان پر آنسو گیس اور صوتی بم استعمال کیے گئے۔ اس کے باوجود، مقامی کمیونٹی نے ’’فریڈم اسکول‘‘ کے نام سے ایک علامتی احتجاج شروع کیا، جہاں بچوں نے سڑک کنارے بیٹھ کر تعلیم جاری رکھی، ایک ایسا منظر جو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
کیری ارونگ کا یہ قدم ان کی فلسطین کے لیے مسلسل حمایت کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر اس مسئلے پر آواز اٹھا چکے ہیں، چاہے وہ این بی اے آل اسٹار گیم میں ’’پریس‘‘ لکھا ہوا لباس پہننا ہو یا فلسطینی شناخت کی علامت کوفیہ پہن کر اظہار یکجہتی کرنا۔ ان کے اس حالیہ اقدام نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ حامیوں نے اسے ’’انسانی ہمدردی کی مضبوط علامت‘‘ قرار دیا، جبکہ ناقدین نے کھیل اور سیاست کو ملانے پر سوال اٹھائے۔
واضح رہے کہ جب غزہ اور مغربی کنارے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں، اور جنگ بندی کے باوجود تشدد کے واقعات جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپس بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ تعلیم تک رسائی میں رکاوٹیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ کیری ارونگ کا یہ اقدام ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کرتا ہے کہ کیا عالمی شخصیات کی آوازیں زمینی حقائق کو بدل سکتی ہیں، یا کم از کم انہیں دنیا کے سامنے زیادہ واضح کر سکتی ہیں۔