Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولینڈ قانون ساز نے پارلیمانی رکنیت ختم کرنے کا اسرائیلی مطالبہ مسترد کردیا

Updated: April 22, 2026, 9:01 PM IST | Warsaw

پولینڈ کے قانون ساز کونراڈ برکووچ جنہوں نے نازی سواستک نشان والا اسرائیلی پرچم لہرایا تھا ، اسرائیل کے ذریعے پارلیمانی رکنیت کی منسوخی کے مطالبے کو مسترد کردیا ، انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیل یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ پولینڈ کی پارلیمنٹ میں کون بیٹھ سکتا ہے اور کون نہیں۔‘‘

Polish lawmaker Konrad Berkowicz waving a modified Israeli flag. Photo: X
 پولینڈ کے قانون ساز کونراڈ برکووچ تبدیل شدہ اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

 پولینڈ کے ایک قانون ساز کونراڈ برکووچ جنہوں نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں اسرائیلی پرچم لہرایا تھا جس پر داؤد کا ستارہ نازی سواستک علامت سے بدل دیا گیا تھا، نے اسرائیل کےپارلیمانی رکنیت ختم کرنے کے مطالبے پر تنقید کی ہے۔کونراڈ برکووچ نے منگل کو امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس (X) پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’یہ اسرائیل نہیں ہوگا جو یہ فیصلہ کرے گا کہ پولینڈ کی پارلیمنٹ میں کون بیٹھ سکتا ہے اور کون نہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ان کے یہ تبصرے اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے وزارت خارجہ کا ایک پوسٹ شیئر کرنے کے بعد آئے، جس میں کونراڈ برکووچ پر مشکوک ماضی رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا جس میں نازی ازم کی عوامی حمایت شامل ہے۔اس کے علاوہ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ برکووچ کا پولینڈ کی پارلیمنٹ میں کوئی مقام نہیں ہے، اور ہم پولینڈ حکام سے فیصلہ کن اور فوری کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔‘‘سفارت خانے نے یہ بھی کہا، ’’تاریخ نے دکھایا ہے کہ نسل پرستی اور سام دشمنی کا انجام کیا ہوتا ہے ، پولینڈ یہ سب بخوبی جانتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: معروف این بی اے کھلاڑی کیری ارونگ نے پروفائل پر فلسطینی بچے کی تصویر لگائی

جبکہ اس بیان کے جواب میں برکووچ نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ میرے نازی ازم کی مبینہ عوامی حمایت کے بارے میں یہ گستاخانہ جھوٹ پولینڈ حکام اور عدالتی نظام کی طرف سے مناسب جواب کا سامنا کرے گا۔‘‘ تاہم برکووچ  نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ان اصلی نازیوں سے نمٹے جو اس کی اپنی حکومت میں موجود ہیں، جس کی قیادت ایک مجرم اور نسل کش قاتل،  وزیر اعظم   نیتن یاہو کر رہا ہے۔‘‘ مزید برآںبرکووچ نے کہا، ’’تاریخ نے دکھایا ہے کہ نازی ازم کا انجام کیا ہوتا ہے؟ پولینڈ یہ سب بخوبی جانتا ہے۔ اسی لیے ہم اس تاریخ کی تکرار کے بارے میں غیر جانبدار نہیں ہیں اور نہیں رہیں گے جو آج کل مشرق وسطیٰ میں رونما ہو رہی ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK