قانون ساز پارٹی میں بغاوت کو پارٹی میں بغاوت قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ غلط تھا۔ اگر ۲۰۱۸ءکی پارٹی کے دستور میں ترمیم غیر آئینی تھی تو اس کا فائدہ اٹھانے والوں پر بھی سوال اٹھیں گے۔ آئین کی دفعہ ۱۵؍ کے تحت الیکشن کمیشن کو پارٹی اور اس کے انتخابی نشان کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور رکن پارلیمنٹ انل دیسائی۔ تصویر: آئی این این
شیوسینا کس کی ؟ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں جاری بحث اہم موڑ پر پہنچتی ہوئی نظر آرہی ہے کیوں کہ ادھو گروپ کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نےچیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے بحث میں ۳؍ اہم آئینی نکات پرگفتگو کی۔ اس میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر بھی سوال اٹھائے۔ کپل سبل نے بحث کے دورا ن کہاکہ اگر کسی سیاسی جماعت میں پھوٹ پڑتی ہے تو پارٹی کس کی ہے اور انتخابی نشان کس کا ہوگا، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہوتا ہے لیکن شیوسینا کے معاملے میں قانون ساز اسمبلی میں ہونے والی پھوٹ کو سیاسی جماعت میں پھوٹ قرار دے کر الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا۔ کپل سبل نے کہا کہ ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد پھوٹ قانون ساز گروپ میں ہوئی تھی، سیاسی جماعت میں نہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے پورا واقعاتی سلسلہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شیوسینا کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے کس طرح غلط فیصلہ کیا اور پارٹی شندے گروپ کے حوالے کردی۔ واضح رہے کہ شیوسینا پارٹی اور انتخابی نشان پر حق سے متعلق سپریم کورٹ میں جاری سماعت اب آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہے اور جلد ہی اس معاملے میں فیصلہ آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ٹھاکرے گروپ کی جانب سے کپل سبل اس سے پہلے بھی دو مرتبہ دلائل پیش کرچکے ہیں اور اب ایک بار پھر انہوں نے سپریم کورٹ میں ٹھاکرے گروپ کا مضبوطی سے دفاع کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ابھیجیت دپکے کی اب دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کی ملک گیر مہم
کپل سبل نے دلیل دی کہ شیوسینا کے۱۹۹۹ءکے آئین میں ’’مکھیہ نیتا‘‘ یعنی ’’مرکزی رہنما‘‘ نام کا کوئی عہدہ موجود ہی نہیں تھا۔ پھر ایکناتھ شندے نے کس بنیاد پر خود کو اس عہدے پر فائز کیا؟انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات شیوسینا میں پھوٹ اور بغاوت کے بعد کئے گئے اس لئے ان غیر جمہوری اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن الیکشن کمیشن نے ان معاملات کو بھی اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا۔ کپل سبل نے اراکین اسمبلی کی نااہلی کے معاملے پر بھی عدالت کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے دسویں شیڈول کے تحت اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا اختیار اسمبلی کے اسپیکر کے پاس ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت شندے گروپ کے اراکین اسمبلی کو نااہل قرار نہیں دیا گیا اور اس کے بجائے یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ گیا۔ سبل نے کہا کہ اس وقت ٹھاکرے گروپ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ الیکشن کمیشن میں جاری سماعت پر روک لگائی جائے لیکن عدالت نےحکم امتناع جاری نہیں کیا۔
بحث کے دوران کپل سبل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے اندر ہونے والی پھوٹ کا فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یکم جولائی کو انل دیسائی نے الیکشن کمیشن کو ایک خط دیا تھا لیکن کمیشن نے اس خط کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے غلط فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جب شیوسینا میں پھوٹ پڑی تو الیکشن کمیشن نے پارٹی کا اصل انتخابی نشان ’دھنش اور تیر‘ ایکناتھ شندے گروپ کو دے دیا، جبکہ ادھو ٹھاکرے گروپ کو عارضی طور پر ’مشعل‘ کا نشان دیا گیا۔ اس دوران ۲۰۱۸ء میں شیو سینا کے آئین میں ترمیم کامعاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سبل نے کہا کہ شندے گروپ نے اب۲۰۱۸ء کی پارٹی آئینی ترمیم پر اعتراض کیاہے لیکن اس وقت کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ بعد میں پارٹی سے الگ ہوئے، وہ بھی اسی آئینی ترمیم کی بنیاد پر انتخابات جیت کر اسمبلی میں پہنچے تھے اور اسی آئین کے تحت مختلف عہدے اور فوائد حاصل کرتے رہے۔سبل نے سبل نےشیوسینا میں جو تقسیم ہوئی تھی، وہ دراصل قانون ساز پارٹی میں ہوئی تھی، سیاسی پارٹی میں نہیں۔ انہوں نے قانون ساز پارٹی اور سیاسی پارٹی کو دو الگ ادارے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کی حیثیت ایک جیسی نہیں ہے۔سبل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شیوسینا میں پھوٹ پڑی ہے ۔انہوں نے آئین کی دفعہ ۱۵؍کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس بنیاد پر کسی سیاسی پارٹی اور اس کے انتخابی نشان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔کپل سبل نے شندے گروپ کے ۵۴؍ میں سے ۳۵؍اراکین اسمبلی کی جانب سے فیصلہ کرکے وہپ تبدیل کرنے کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے رکھا۔ ان کے مطابق اگر ایک تہائی ارکان الگ گروپ بناتے ہیں تو اس کے لئے اصل سیاسی پارٹی کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اگر پارٹی کی منظوری حاصل نہ ہو تو اس گروپ کو کسی دوسری سیاسی جماعت میں ضم ہونا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج کے دوران کئی بل بحث کے بغیر منظور
این سی پی کی پھوٹ کا بھی ذکر
سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے یہ شیو سینا میں بغاوت اور کمیشن کے فیصلے پر دلائل دیتے ہوئے یہ دلیل دی کہ شیوسینا کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا اسی نوعیت کا فیصلہ بعد میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے معاملے میں بھی دیا گیا اور اس میں ہونے والی پھوٹ کو بھی جائز قرار دیتے ہوئے پارٹی کا نشان اور پارٹی کا نام باغی گروپ کو سونپ دیا گیا لیکن الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں تھا۔
الیکشن کمیشن کے متضاد رویے پر سوال
کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ اگر۲۰۱۸ءمیں کی گئی پارٹی کی آئینی ترمیم غیر آئینی تھی تو پھر جن لوگوں نے اس کی بنیاد پر عہدہ حاصل کئے اور اس سے فائدہ اٹھایا، ان کے عہدہ اور حاصل کردہ فوائد بھی غیرقانونی یا غیر جمہوری قرار دیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ رکھا کہ ایک ہی آئینی ترمیم کو ایک وقت میں درست مان کر اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جائے اور بعد میں سیاسی مفاد کے تحت اسی ترمیم کو غیر آئینی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟