• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجین شاہی مسجد معاملہ : احتجاج اور بدامنی کے سلسلے میں ۱۴؍ گرفتار،۳۰؍ پر مقدمات

Updated: September 30, 2026, 10:17 PM IST | Ujjain

اجین شاہی مسجد معاملہ میں احتجاج اور بدامنی کے سلسلے میں ۱۴؍ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ۳۰؍ سے زائد پر مقدمات در ج کئے گئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 اجین کی شاہی مسجد کے کچھ حصوں کو سڑک چوڑی کئے جانے کی غرض سے منہدم کیا جانا تھا۔ اس معاملے کو لے کر مقامی افراد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ، جس پر پولیس نے مظاہرین پرلاٹھیاں چلائی اورآنسو گیس کے گولے داغے ۔ تاہم، بعد میں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فساد پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آرز درج کی گئیں اور گرفتاریاں بھی کی گئیں۔بعد ازاں مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں واقع تاریخی شاہی مسجد کے طے شدہ حصوں کو گرانے کا کام بدھ کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہا، جبکہ اس دوران علاقے میں بھاری پولیس تعینات رہی اور سخت بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔پیر کومسجد کے لٹکتے ہوئے سلیب کا ایک حصہ ہٹائے جانے کے بعد اب منہدم کاری کا کام مینار تک پہنچ گیا ہے۔ مزدور سخت سیکیورٹی کے درمیان یہ کام کر رہے ہیں اور مینار کو ایک سبز چادر سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں پھر مسترد

واضح رہے کہ مسجد کو گرانے کا یہ عمل ضلع انتظامیہ اور نمائندہ مسجد کمیٹی کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے بعد شروع ہوا ہے، جس کے تحت مسجد کے نشان زد حصوں کو ہٹایا جانا تھا تاکہ سڑک کشادہ کرنے کا کام آگے بڑھ سکے۔اس سے قبل، اجین میں منعقد ہونے والے ۲۰۲۸ء کے سمہاستھا کنبھ کی تیاریوں کے سلسلے میں دئیے گئے اس انہدام کے حکم کی مخالفت میں مقامی مسلمان دو ہفتے سے زائد عرصے سے اس تاریخی مسجد کے اندر دھرنا دئیے بیٹھے تھے۔پیر کو، بلڈوزر کارروائی کو روکنے کیلئےمسلمانوں کی جانب سے دو دن کے شدید پہرے کے بعد اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب اطلاعات کے مطابق انہدام کی کارروائی کو انجام دینے کیلئے تاریخی شاہی مسجد کے احاطے کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی گئی۔ اس دوران، اجین پولیس نے بدامنی اور کشیدگی کے سلسلے میں تین تھانوں میں سات مقدمات درج کئے ہیں اور تقریباً ۱۴؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا، جن پر پولیس فورس پر پتھراؤ کرنے کا الزام ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۷؍ سال بعد بھی آسام حکومت قومی شناختی کارڈ جاری کرنے میں ناکام

مکتوب میڈیا کو پولیس کی طرف سے بھیجی گئی پریس نوٹ کے مطابق، ۲۸؍ ستمبر کو شہر بھر میں شاہی مسجد کے حصوں  کے انہدام  کے خلاف ہونے والے احتجاج اور پولیس کے ساتھ تصادم کے واقعات کے بعد ۳۰؍ سے زائد افراد کے خلاف معاملے درج کئےگئے ہیں۔ پولیس نے ان ایف آئی آرز میں الزام لگایا ہے کہ ان واقعات میں پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنا، پتھراؤ کرنا، ڈسٹرکٹ کلکٹر کے احکامات کے خلاف ورزی کرنا اور سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد پھیلانا شامل ہے۔مہاکال پولیس اسٹیشن میں ۲۸؍ ستمبر کو بی این ایس کی دفعات کے تحت دو مقدمات درج کئےگئے، جن میں مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے بیانات دینے اور کلکٹر کے احکامات کے خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔ کلکٹر کے احکامات کے خلاف ورزی کے سلسلے میں ایک تیسرا مقدمہ بھی درج کیا گیا، جس میں پولیس کے مطابق چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔کھرا کنواں پولیس اسٹیشن میں سوشل میڈیا پوسٹس، احتجاج اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کےالزام میں پانچ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے کے الزامات کے تحت دو دیگر مقدمات درج کئے گئے، جن میں سے ایک ایف آئی آر ٹنکی چوراہےپر ہجوم کے جمع ہونے سے متعلق ہے۔ دوسری ایف آئی آر ماوا بازار میں ہجوم کے جمع ہونے سے متعلق درج کی گئی، جس میں پولیس نے ۱۰؍ افراد کو نامزد کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مودی کے سابق وزیر بھی ایس آئی آر کیخلاف میدان میں اُترے

مزید برآں کوتوالی پولیس اسٹیشن میں، پولیس کے مطابق اس وقت ایک مقدمہ درج کیا گیاہے جب ایک گروہ قاضی کے گھر پر جمع ہوا، نعرے بازی کی اور پتھراؤ کیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس واقعے میں احاطے کے شیشے ٹوٹ گئے اور ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ قاضی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔پولیس نے بتایا کہ اب تک شہر بھر سے تقریباً ۱۴؍ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔
 مکتوب میڈیاسے بات کرتے ہوئے اجین کے ایس پی پردیپ شرما نے گرفتاریوں کی تصدیق کی اور کہا، ’’ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار کررہےہیں کہ جو بھی ایسا قابلِ اعتراض، گمراہ کن یا افواہوں پر مبنی مواد پھیلائے گا جس سے مذہبی ہم آہنگی یا امن و امان متاثر ہو، اس کے خلاف دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘یہ تمام ۷؍ ایف آئی آرز پولیس کی جانب سے از خود درج کی گئی ہیں۔ پولیس نے ملزمان پربی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئےہیں، جن میں دفعہ ۱۳۲؍ ، ۲۲۳؍ (اے)، ۲۲۳؍ (بی)، ۱۹۵؍ (۱)، ۱۹۱؍ (۲)، ۱۹۰؍ ، ۲۹۶؍ (بی)، ۳۳۳؍ ، ۳۵۱؍ (۲)، ۳۲۴؍ (۴) اور ۱۲۵؍ شامل ہیں۔ یہ دفعات سرکاری ملازمین کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے، فساد برپا کرنے، سرکاری احکامات کی عدولی، مجرمانہ دھمکی، شرانگیزی اور عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے افعال سے متعلق ہیں۔مکتوب میڈیا نے ان تمام ایف آئی آرز کی کاپیاں دیکھی ہیں۔مکتوب میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سویل رائٹس (اےپی سی آر) مدھیہ پردیش کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر زید پٹھان نے بتایا، ’’گرفتار کئےگئے افراد میں سے ۱۱؍ لوگوں کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK