Updated: September 30, 2026, 10:19 PM IST
| Islamabad
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسیٹ) کی ویب سائٹ کے مطابق، بیرن ایڈمنڈ جیمز ڈی روتھس چائلڈ نے ۱۸۸۰ء کی دہائی سے فلسطین میں یہودی زرعی بستیوں کی مالی معاونت کی اور بعد میں پیلسٹائن جیوش کالونائزیشن ایسوسی ایشن قائم کی۔ وہ ۱۹۱۷ء کے اعلانِ بالفور (Balfour Declaration) سے بھی گہرے طور پر جڑا ہوا تھا، جو لارڈ روتھس چائلڈ کے نام ارسال کیا گیا تھا۔ اس اعلان میں فلسطین میں یہودیوں کیلئے ایک قومی وطن کے قیام کیلئے برطانوی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔
لندن میں ۲۹ ستمبر کو لارڈ مارک سیڈول کی قیادت میں روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی (Rothschild & Co) کے وفد سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستانی وزیرِاعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اس ملاقات کا اعلان کیا۔ اس پوسٹ کے بعد، فوری طور پر روتھس چائلڈ خاندان کے ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام سے قبل فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر سے متعلق تاریخی تعلقات کے باعث شریف پر تنقید شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ میں ہندوستان کا پاکستان پر دہشت گردی پر دوہرے معیار کا الزام
پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اس ملاقات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے شریف کو ”یہودی ایجنٹ“ قرار دیا۔ ایک اور صارف نے لکھا، ”پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر لعنت ہو۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں اس پر شرمندگی محسوس کررہا ہوں۔“ کالم نگار راجہ منیب نے شریف پر ”فلسطین کی آزادی“ کے مقابلے ”فنڈز کیلئے بھیک مانگنے“ کو ترجیح دینے کا الزام لگایا۔ انسانی حقوق کی وکیل حمیرا وجاہت نے کہا کہ ”ہمیں پاکستان کیلئے اسرائیل کی جغرافیائی حکمتِ عملی (جیو اسٹریٹجی) کی ضرورت نہیں ہے۔“ سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن چودھری احتشام مصطفیٰ نے اس ملاقات کو ”صیہونی روتھس چائلڈ فیملی“ کے خلاف وسیع تر الزامات سے جوڑا، جبکہ صحافی حارث ندیم خان نے اس ملاقات کو ”شرمناک اور انتہائی قابلِ مذمت“ قرار دیا۔
کچھ صارفین نے واضح منافقت کی جانب بھی اشارہ کیا اور یاد دلایا کہ شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) ماضی میں جیل میں بند سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر ”یہودی ایجنٹ“ ہونے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ یہ تنقید وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے جڑے ایک علیحدہ تنازع کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے عمران خان کے بیٹوں اور یہودی پس منظر رکھنے والی ان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کو یہودی قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان کو جیل میں دھیمی موت دی جارہی ہے: چھوٹے بیٹے قاسم کا الزام
حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی کے ساتھ بات چیت جغرافیائی معاشی ترجیحات اور کیپٹل مارکیٹس ایڈوائزری پر مرکوز تھی۔ یہ لندن میں ملاقاتوں کے وسیع تر سلسلے کا حصہ تھی جس میں بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی اور بلیک راک بھی شامل تھے۔ پاکستان باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا مؤقف ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر ایسا نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسیٹ) کی ویب سائٹ کے مطابق، بیرن ایڈمنڈ جیمز ڈی روتھس چائلڈ نے ۱۸۸۰ء کی دہائی سے فلسطین میں یہودی زرعی بستیوں کی مالی معاونت کی اور بعد میں پیلسٹائن جیوش کالونائزیشن ایسوسی ایشن قائم کی۔ وہ ۱۹۱۷ء کے اعلانِ بالفور (Balfour Declaration) سے بھی گہرے طور پر جڑا ہوا تھا، جو لارڈ روتھس چائلڈ کے نام ارسال کیا گیا تھا۔ اس اعلان میں فلسطین میں یہودیوں کیلئے ایک قومی وطن کے قیام کیلئے برطانوی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔