Inquilab Logo Happiest Places to Work

مساجد کاانہدام مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کیلئے خطرہ

Updated: June 25, 2026, 12:28 PM IST | New Delhi

اے پی سی آر کی کانفرنس میں جوابدہی اورقانونی کارروائی کا مطالبہ، اجتماعی ردعمل پر زور، ذمہ داران کو ۵۰؍ فیصد امید پر بھی قانونی لڑائی لڑنے کی صلاح۔

Salman Khurshid addressing a conference held at the Press Club while Syeda Hameed can be seen on his right and Jan Dayal and Zafarul Islam on his left. (Photo: Taken from APCR`s `X` account)
پریس کلب میں منعقدہ کانفرنس سے سلمان خورشید خطاب کررہے ہیں جبکہ ان کے دائیں جانب سیدہ حمید اور بائیں  جانب جان دیال اور ظفر الاسلام کو دیکھا جاسکتاہے۔ (تصویر: اے پی سی آر کے ’ایکس ‘اکاؤنٹ سے لی گئی ہے)

ملک کی مختلف ریاستوں  میں  مساجد ،مدارس  اور مزارات پر   بلڈوزر چلانے  کے سرکاری رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے  ملک کی اہم تنظیم ’’ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس‘‘  (اے پی سی آر) نے اسے   مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کیلئے خطرہ قرار دیا ہے ۔اس نے  اس ضمن میں  جوابدہی طے کرنے اورقانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کلیریون ڈاٹ نیٹ  کے مطابق  ’’ہندوستان میں مساجد کا انہدام اور مذہبی آزادی پر حملے‘‘ کے عنوان سے منگل کوپریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ کانفرنس  میں  وکلا، سابق اراکین پارلیمان، سماجی کارکنوں اور مذہبی قائدین نے ہر حال میں قانونی لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 
اجلاس  میں اہم شخصیات 
 کانفرنس سے سابق مرکزی وزیر اور سینئر وکیل سلمان خورشید، سابق رکن پارلیمان محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک محتشم خان، دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان، مصنفہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر سیدہ حمید، انسانی حقوق کے علمبردار جان دیال، اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان اور سید سعادت  علی اور ریاست علی جیسے وکلا نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں مساجد  پر بلڈوزر چلانے کا معاملہ محض جائیداد کے تنازع تک محدود نہیں بلکہ یہ آئین میں دی گئی  ضمانتوں، مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے تمام شہریوں کے مساوی ہونے کے بنیادی مسئلے سے جڑا ہوامعاملہ ہے۔
قانونی جدوجہد جاری رکھنے پر زور
 سلمان خورشید نےسخت حالات کے باوجود  قانونی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہدامی کارروائیوں کے خلاف دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ ایک طویل لڑائی ہے۔ ہمارے پاس جو بھی قانونی راستے موجود ہیں، ان سب کا استعمال ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے حصول کی ان کوششوں کی قیادت ایسے افراد کے  ہاتھ میں ہونی چاہیے جو اس مقصد کیلئے سب سے زیادہ موزوں ہوں۔
سرکاری افسران کی جوابدہی ضروری
 سابق رکن پارلیمان محمد ادیب نے اُن سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جن کی نگرانی میں ایسی انہدامی کارروائیاں انجام دی گئیں جو بعد میں غیر قانونی ثابت ہوئیں۔ انہوں   نے کہا کہ ایسے غیر قانونی انہدامی کارروائیوں  میں شامل رہنے والے   افسران  اور پولیس اہلکاروں کو نہ صرف قانونی طور پر جوابدہ  بلکہ مالی طور پر  ذمہ دار  بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اجتماعی ردعمل کی وکالت
 ملک محتشم خان نے مختلف  مذہبی برادریوں کے درمیان اتحاد کی وکالت کی اور کہا کہ ناانصافی کے خلاف ردعمل اجتماعی ہونا چاہیے۔یہ کہتے ہوئے کہ’’ظالم کو کمزور اور مظلوم کو مضبوط ہونا چاہیے‘‘  انہوں نے  مختلف مذاہب کے لوگوں سے متحد ہو کر کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
قانونی راستہ  ہر حال میں اختیار کریں
 کانفرنس میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ کامیابی کے امکانات کم ہونے کے باوجود قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ظفر الاسلام خان نے زور دیا کہ ان انہدامی کارروائیوں کو  عدالتوں چیلنج کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی انہوں  نے  ایسے معاملات  میں تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنے کی صلاح دی۔  انہوں نے کہاکہ ’’اگر ہارجانے کا  ۵۰؍ فیصد ہوتب بھی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔‘‘ بابری مسجد مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نتیجہ کچھ بھی نکلے، قانونی جدوجہد کو  دستاویز شکل دینا تاریخی جوابدہی کیلئےاہم ہے۔ 
’’یہ ہمارے وجود کا سوال ہے‘‘
 ڈاکٹر سیدہ حمید نے اس مسئلے کو وسیع تاریخی تناظر میں پیش کیا۔ انہوں نے بابری مسجد تحریک اور ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات کے دوران اپنے تجربات کا ذکرکرتے ہوئے موجودہ صورتحال  کے تعلق سے کہا کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے  بلکہ یہ ہندوستان کی تکثیری قدروں کیلئے  بڑا چیلنج  بن کر ابھر رہا ہے۔  انہوں نے جذباتی انداز میں کہاکہ ’’یہ ہمارے وجود کا سوال ہے۔‘‘  اس کے ساتھ ہی ملک کے سیکولر طبقہ پر اعتماد کا اظہار کرتےہوئے سیدہ حمید  نےاس یقین کا اظہار بھی کیا کہ مختلف مذاہب کے لوگ  اس امتیازی اور محروم کرنے کی کوششوں  کے خلاف متحد ہوں گے۔

حقوق  انسانی کے علمبردار عیسائی قائد جان دیال نے الزام لگایا کہ اقلیتی اداروں پر حملے مختلف برادریوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے  اسے  ملک کے وسیع تر سیاسی حالات سے جوڑکر پیش کیا اور کہا کہ ’’مسلمانوں کو نشانہ بنانا  سیاسی ہتھیار بن چکا ہے اور حالیہ واقعات الگ الگ نہیں بلکہ مربوط عمل کا حصہ ہیں۔‘‘
اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان نے متعدد ریاستوں میں انہدام کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف ۱۵؍دنوں کے اندر اتراکھنڈ، اتر پردیش اور راجستھان میں کم از کم۲۰؍ مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس کا موازنہ ماضی میں ہجومی تشدد کے واقعات سے کرتے ہوئے کہا کہ اب مساجد کے انہدام کے ذریعے پوری مسلم برادری کو پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق  ’’پہلے کسی ایک فرد کی لنچنگ کے ذریعے مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جاتا تھا، اب مساجد کے انہدام کے ذریعے پوری برادری متاثر ہو رہی ہے۔‘‘
ایڈوکیٹ سید سعادت علی نے راجستھان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی اضلاع میں سیکڑوں مساجد کو نوٹس جاری کئے  گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ باڑمیر ضلع میں تقریباً۳۰۰؍ مساجد کو نوٹس دیئےگئے ہیں اور سوال اٹھایا کہ کارروائی صرف ایک برادری کی عبادت گاہوں تک محدود کیوں دکھائی دے رہی ہے۔
ایڈوکیٹ ریاست علی نے کہا کہ آئینی تحفظ کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سے  بالاتر ہو کر کی جانے والی ہر کارروائی کے قانونی نتائج ہونے چاہئیں اور تمام اقدامات آئینی اصولوں کے دائرے میں رہ کر کئے جانے چاہئیں۔
اس موقع پر راجستھان، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں  کے مقامی ذمہ داران  نے اپنے علاقوں میں مساجد کے انہدام کے واقعات بیان کئے۔ ان میں جے پور کے نندپوری علاقے کی نورانی مسجد کا معاملہ بھی شامل تھا۔  یہ مسجد کئی دہائیوں سے موجود تھی، سرکاری ریکارڈ میں درج تھی اور وقف پورٹل پر بھی موجود تھی لیکن مسجد کمیٹی کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر اسے منہدم کر دیا گیا۔
new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK