اترپردیش کے سنبھل تحصیل کے گاؤں مدلہ فتح پور میں واقع الحسن پبلک اسکول میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران چھجہ گرنے سے ایک بچے کی ہلاکت ہوئی، جبکہ دیگر دو بچے زخمی ہوگئے۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 9:01 PM IST | Sambhal
اترپردیش کے سنبھل تحصیل کے گاؤں مدلہ فتح پور میں واقع الحسن پبلک اسکول میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران چھجہ گرنے سے ایک بچے کی ہلاکت ہوئی، جبکہ دیگر دو بچے زخمی ہوگئے۔
سنیچر کو اتر پردیش کےسنبھل میں یوم آزادی کی تقریب اس وقت المناک صورت اختیار کرگئی جب اسکول کا چھجہجس پر بچے پروگرام دیکھنے کے لیے چڑھ گئے تھے، ان کے وزن کی وجہ سے گر گیا۔ پولیس کے مطابق اس حادثے میں آٹھ سالہ لڑکا جاں بحق اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق، جھنڈا لہرانے کی تقریب ختم ہوچکی تھی اور بچے اپنا ہنر پیش کر رہے تھے کہ اسی دوران پڑوس سے آنے والے بچے، جو تقریب دیکھنے آئے تھے، اسکول کے مرکزی دروازے کے اوپر بنے چھجےپر چڑھ گئے۔اچانک یہ ڈھانچہ زیادہ وزن برداشت نہ کر سکا اور گر گیا، جس سے تین بچے ملبے تلے دب گئے۔پولیس نے بتایا کہ نعیم کے ۸؍ سالہ بیٹے نظام کی اس حادثے میں موت ہوگئی، جبکہ ۱۱؍ سالہ سیف علی اور۱۰؍ سالہ شیدانہ زخمی ہوئے۔زخمی بچوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
What was supposed to be a festive Independence Day celebration, turns into tragedy in Sambhal, Uttar Pradesh.
— D (@Deb_livnletliv) August 15, 2026
Several children went to school terrace for a better view, while some gathered on the concrete porch over schools main gate which collapses like pack of cards..😢 pic.twitter.com/e6kw5Ez8Lb
بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے موقعے کا معائنہ کیا اور ضروری ہدایات جاری کیں۔دریں اثنا، جاں بحق بچے کے اہل خانہ نے اس کی پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں متاثر ہونے والے بچے پڑوس کے تھے اور اسکول میں یوم آزادی کی تقریب دیکھنے آئے تھے۔ واضح رہے کہ اترپردیش میں اسکولوں کی خستہ حالت کی کہانی بارہا منظر عام پر آچکی ہے، جبکہ اسکول انتظامیہ اور سرکاری افسران اس جانب سے تساہلی کامظاہرہ کرتے ہیں، جو ایسے حادثات کی وجہ بنتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انتظامیہ کو اس کی خستہ حالی کا علم تھا تو بچوں کو اس پر چڑھنے سے روکنا چاہئے تھا۔ چونکہ بچے پڑوس کے تھے تو وہاں تک ان کی رسائی حفاظتی نقطہ نظر سے کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔