Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ تشدد، پروپیگنڈا اور عالمی ناقدین کی کڑی تنقید

Updated: March 25, 2026, 6:10 PM IST | Mumbai

رنویر سنگھ کی فلم باکس آفس پر کامیاب مگر عالمی ناقدین نے اسے ’’سوشیوپیتھک‘‘ اور ’’وحشیانہ تشدد‘‘ سے بھرپور قرار دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘، جسے آدتیہ دھر نے ہدایت دی ہے اور جس میں رنویر سنگھ مرکزی کردار میں ہیں، بظاہر ایک بڑے باکس آفس طوفان کے طور پر ابھری ہے لیکن اس کی چمک کے پیچھے ایک شدید اور غیر معمولی سطح کی عالمی تنقید بھی موجود ہے، جو اسے حالیہ برسوں کی سب سے متنازع ہندوستانی فلموں میں شامل کرتی ہے۔ ۱۹؍ مارچ کو ریلیز ہونے والی یہ فلم ہندوستانی خفیہ ایجنٹ حمزہ علی مزاری کی کہانی بیان کرتی ہے، جو پاکستان کے شہر لیاری میں دہشت گردی کے نیٹ ورک میں گھس کر بدلہ لینے کے مشن پر ہے۔ کہانی کا یہ ڈھانچہ نہ صرف سیاسی طور پر حساس ہے بلکہ فلم کی پیشکش بھی شدید جارحانہ اور یکطرفہ بیانیہ پیش کرتی ہے، جسے کئی ناقدین نے ’’پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کرتیکا کامرا نے’’مٹکا کنگ‘‘ کے کردار کی جھلک پیش کی

اگرچہ فلم نے عالمی سطح پر شائقین کو سینما گھروں تک کھینچا اور بیرونِ ملک ۶ء۲۲؍ ملین ڈالر (تقریباً ۲۱۲؍ کروڑ روپے) کمائے، لیکن ناقدین کی نظر میں یہ کامیابی اس کے مواد کی کمزوریوں کو نہیں چھپا سکی۔ روٹن ٹماٹوز  پر اسے صرف ۳۸؍ فیصد اسکور ملا، جو اس کے خلاف عالمی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں اس فلم پر خاص طور پر اس کے ’’بے قابو تشدد‘‘ اور ’’انسانی حساسیت کی کمی‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

نکولس ریپولڈ  نے دی نیو یارک ٹائمز میں لکھا، ’’یہ ایک ایسی فلم ہے جو موجودہ دور کی عکاسی تو کرتی ہے، مگر انتہائی بے چین کرنے والے انداز میں جہاں لوگوں کو زندہ جلانا، اجتماعی پھانسیاں اور خون آلود مناظر معمول بن جاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح سارہ مینول نے ’’موویز وی ٹیکسٹڈ اباؤٹ‘‘ Movies We Texted About میں اسے سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے لکھا، ’’بے تحاشہ ظلم اور خون خرابہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ فلم کا تجربہ ایک سوشیوپیتھک ذہن کی پیداوار لگتا ہے یہ محض تفریح نہیں بلکہ ایک غیر صحت مند تشدد کا جشن ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پرفیکشن جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، اپنی کمیوں کا جشن منانا چاہیے:سوربھ شکلا

مزید تنقید کرتے ہوئے برطانوی فلم جرنلسٹ پیٹر بریڈشو (دی گارڈین) نے اپنے جائزے میں لکھا کہ ’’یہ فلم ایک اشتعال انگیز قوم پرستانہ فینٹسی بن جاتی ہے، جہاں حقیقت کو مسخ کر کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے، نہ کہ سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ فلم کی سب سے بڑی کمزوری اس کا بیانیہ ہے، جو پیچیدہ جغرافیائی سیاست کو سادہ ’’اچھے بمقابلہ برے‘‘ کے فریم میں محدود کر دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ نہ صرف فنکارانہ طور پر کمزور ہے بلکہ خطرناک حد تک یکطرفہ بھی ہے، کیونکہ یہ پورے خطے کو ایک ہی نظریے کے تحت پیش کرتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو فلم کا تشدد ہے، جسے کئی مبصرین نے ’’غیر ضروری‘‘ اور ’’استحصالی‘‘ قرار دیا۔ فلم میں بار بار دکھائے جانے والے اذیت ناک مناظر جیسے جلانا، گولیاں مارنا، اور کھلے عام سزائیں دینا کہانی کو آگے بڑھانے کے بجائے محض سنسنی پھیلانے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں عالمی ناقدین اسے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہیں مقامی شائقین کی ایک بڑی تعداد اسے ’’محب وطن‘‘ اور ’’دلچسپ‘‘ قرار دے رہی ہے۔ یہی تضاد اس فلم کو ایک ثقافتی اور نظریاتی بحث کا مرکز بنا رہا ہے۔ تازہ رجحانات کے مطابق، سوشل میڈیا پر بھی فلم کے گرد بحث تیز ہو گئی ہے ایک طرف اسے ’’سچائی کی عکاسی‘‘ کہا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے ’’خطرناک پروپیگنڈا‘‘ اور ’’تشدد کی نارملائزیشن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اداکارہ نیہا دھوپیا نے ’’ٹریٹر‘‘کا حصہ بننے سے متعلق تمام افواہوں کو مسترد کر دیا

مجموعی طور پر، فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ ایک ایسی فلم بن کر سامنے آئی ہے جو باکس آفس پر کامیابی کے باوجود، عالمی سطح پر فن، اخلاقیات اور سیاست کے درمیان ایک شدید تنازعہ کی علامت بن چکی ہے جہاں سوال یہ نہیں کہ فلم کامیاب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ کس قیمت پر کامیاب ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK