Updated: March 25, 2026, 6:09 PM IST
| Tehran
ایران نے جاری جنگ کے دوران ایک نئی اسٹریٹجک سمت اختیار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو نظرانداز کر کے علاقائی فوجی اتحاد پر زور دیا ہے۔ اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو محدود شرائط کے ساتھ غیر دشمن ممالک کیلئے کھول دیا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی توانائی کے بہاؤ پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
(۱) ایران کا علاقائی فوجی اتحاد پر زور، امریکہ اور اسرائیل کو نظرانداز
ایران نے جاری جنگ کے دوران ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو چھوڑ کر علاقائی فوجی اتحاد کو ترجیح دے رہا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کیلئے خود مل کر کام کرنا ہوگا، بیرونی طاقتوں پر انحصار ختم ہونا چاہئے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ ایران علاقائی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کیلئے تیار ہے۔ حالیہ پیش رفت کے مطابق ایران نے کئی خلیجی اور ایشیائی ممالک کے ساتھ رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ مشترکہ سیکوریٹی فریم ورک قائم کیا جا سکے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ’’یہ اتحاد خطے میں استحکام اور خودمختاری کو یقینی بنانے کیلئے ہوگا۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے اور ایران اپنی پالیسی کو نئے انداز میں پیش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بوشہر جوہری پلانٹ کو نقصان، ایران کا امریکی اسرائیلی حملوں پر بڑا الزام
(۲) ایران نے ہرمز کو شرائط اور فیس کے ساتھ غیر دشمن جہازوں کیلئے کھول دیا
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو غیر دشمن ممالک کے بحری جہازوں کیلئے مخصوص شرائط اور فیس کے ساتھ کھول دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’صرف وہ جہاز گزر سکیں گے جو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں شامل نہیں ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ جہازوں کو پیشگی اجازت لینا ہوگی اور مخصوص فیس ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ اقدام سیکوریٹی اور کنٹرول کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد کئی ممالک نے اپنے تجارتی جہازوں کیلئے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کیلئے سب سے اہم راستہ بنا ہوا ہے اور اس پر کنٹرول ایک بڑا اسٹریٹجک معاملہ بن چکا ہے۔