Updated: March 25, 2026, 7:06 PM IST
| Washington
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکہ نے جنگ کے خاتمے کیلئے ۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ ایران کو بھیجا، جسے پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا۔ تاہم ایران نے اس منصوبے اور مذاکرات کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے، جبکہ چین نے بات چیت پر زور دیا ہے۔
(۱) امریکہ نے ۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ ایران کو بھیجا
امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ایک ۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ تیار کر کے تہران کو بھیجا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں پابندیوں، جوہری پروگرام، اور آبنائے ہرمز سمیت اہم نکات شامل ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ’’یہ منصوبہ کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔‘‘ امریکی حکام نے اس منصوبے کو ایک ’’عملی راستہ‘‘ قرار دیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ ایران کو بھیج دیا
(۲) پاکستان نے ٹرمپ کا امن منصوبہ ایران کے حوالے کیا
پاکستان نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ ایران تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ثالثی کے طور پر اس منصوبے کو تہران تک منتقل کیا۔ ذرائع نے کہا کہ ’’پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کردار ادا کیا ہے۔‘‘ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ممالک جنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم سفارتی سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں۔
(۳) ایرانی فوج نے امن منصوبے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا
ایرانی فوج نے امریکی امن منصوبے اور مذاکرات کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں۔‘‘ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران ایسے بیانات قابل قبول نہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی پالیسیوں پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ مذاکرات کی بات کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’خلیجی ممالک کے انتباہ نے ٹرمپ کو مذاکرات پرمجبور کیا‘‘
(۴) چین کا ایران کو مشورہ، بات چیت ہمیشہ بہتر ہوتی ہے
چین نے ایران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ چینی حکام نے کہا کہ ’’بات کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے ضروری ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ چین خطے میں استحکام کیلئے سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے۔ چین نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں اس تنازع پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔