Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر‘‘ تنازع: راکیش بیدی کا جواب، فلم کو سنیما قرار دیا

Updated: March 21, 2026, 7:05 PM IST | Mumbai

راکیش بیدی نے ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ پر ’’پروپیگنڈہ‘‘ تنقید کو مسترد کرتے ہوئے فلم کو خالص سنیما قرار دیا۔

Rakesh Bedi. Photo: INN
راکیش بیدی۔ تصویر: آئی این این

فلم Dhurandhar: The Revenge کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس پر ہونے والی تنقید بھی تیز ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف یہ فلم باکس آفس پر ریکارڈ بنا رہی ہے تو دوسری جانب کچھ ناظرین اسے ’’پروپیگنڈہ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ اسی بحث کے درمیان سینئر اداکار راکیش بیدی نے سامنے آ کر فلم کا دفاع کیا ہے اور اس تنازع پر اپنا واضح مؤقف پیش کیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں، بیدی نے کہا کہ وہ فلموں کو سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ سنیما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ناظر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی فلم کو پسند کرے یا نہ کرے، لیکن کسی فلم کو ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ یا ’’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے خانوں میں ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ عوام فلم کو کس حد تک پسند کر رہے ہیں، اور موجودہ ردعمل یہی ظاہر کرتا ہے کہ فلم کو بڑی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔
تنقید کے جواب میں انہوں نے بالواسطہ طور پر ’’ایمرجنسی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی موضوعات پر فلمیں بنی ہیں، لیکن وہ زیادہ دیر تک باکس آفس پر نہیں چل سکیں۔ ان کے مطابق ’’دھرندھر‘‘ کی کامیابی اس کی مضبوط کہانی اور اسکرین پلے کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی نظریاتی ایجنڈے کا۔ یہ فلم ہدایت کار آدتیہ دھر کی جانب سے بنائی گئی ہے اور یہ ۲۰۲۵ء کی بلاک بسٹر کا سیکوئل ہے، جس میں رنویر سنگھ مرکزی کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ فلم کی کہانی حمزہ مزاری کے کردار کے گرد گھومتی ہے، جو دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے مشن پر ہے جبکہ اس کی ذاتی تبدیلی اور اندرونی کشمکش کو بھی دکھایا گیا ہے۔
فلم میں دیگر اہم اداکاروں میں ارجن رامپال، سنجے دت، اور آر مادھون، شامل ہیں، جو کہانی کو مزید گہرائی دیتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ایکشن، جذبات اور سیاسی پس منظر کے امتزاج نے اسے ایک ایسی فلم بنا دیا ہے جو نہ صرف تجارتی طور پر کامیاب ہو رہی ہے بلکہ بحث کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔
تازہ پیش رفت کے مطابق، فلم کی شاندار کمائی کے باوجود سوشل میڈیا پر اس کے مواد کو لے کر بحث جاری ہے، جہاں کچھ اسے حقیقت پر مبنی طاقتور کہانی قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے نظریاتی رنگ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔ اس کے باوجود، باکس آفس کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تنازع کے باوجود فلم کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اور یہ مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK