دہلی ہائی کورٹ نے پرنئے رائے اور رادھیکا رائے کے خلاف جاری لک آؤٹ سرکلر منسوخ کر دیا، تحقیقات میں تعاون شرط قرار۔
EPAPER
Updated: March 21, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے پرنئے رائے اور رادھیکا رائے کے خلاف جاری لک آؤٹ سرکلر منسوخ کر دیا، تحقیقات میں تعاون شرط قرار۔
دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایک اہم فیصلے میں سی بی آئی کی جانب سے جاری کردہ لک آؤٹ سرکلر (ایل او سی) کو پرنئے رائے اور رادھیکا رائے کے خلاف منسوخ کر دیا ہے، جس سے این ڈی ٹی وی کے بانیوں کو بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ ریلیف اس شرط کے ساتھ برقرار رہے گا کہ دونوں افراد جاری تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ جسٹس سچن دتا نے اپنے حکم میں کہا کہ ممنوعہ ایل او سی کو ختم کیا جاتا ہے، تاہم درخواست گزاروں کو تحقیقاتی ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ہوگا۔ عدالت کے تفصیلی حکم کا ابھی انتظار ہے، لیکن اس عبوری فیصلے کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب رائے جوڑے نے ۲۰۲۱ء میں عدالت سے رجوع کیا اور ۲۰۱۷ء اور ۲۰۱۹ء میں درج ایف آئی آرز کے بعد جاری کیے گئے ایل او سیز کو چیلنج کیا۔ ۲۰۱۷ء کی ایف آئی آر سنجے دت کی شکایت پر مبنی تھی، جو کوانٹم سیکوریٹیز لمیٹڈ سے وابستہ ہیں۔ اس شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ آئی سی آئی سی آئی کی جانب سے آر آر پی آر ہولڈنگز لمیٹڈ کو دیے گئے قرض کی ادائیگی میں بے ضابطگیاں ہوئیں، جس سے بینک کو تقریباً ۴۸؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ تاہم، اس کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سی بی آئی نے ۲۰۲۴ء میں اس معاملے میں کلوزر رپورٹ دائر کر دی، جس سے اس ایف آئی آر کی قانونی حیثیت کمزور ہو گئی۔ دوسری جانب ۲۰۱۹ء کی ایف آئی آر میں رائے جوڑے پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کی تحقیقات اب بھی زیر التوا ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عدالت نے رائے جوڑے کو ریلیف دیا ہو۔ اس سے قبل جنوری میں بھی دہلی ہائی کورٹ نے ۲۰۱۶ء کے انکم ٹیکس نوٹسز کو ’’من مانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا اور محکمہ انکم ٹیکس کو ہدایت دی تھی کہ وہ دونوں کو ایک ایک لاکھ روپے بطور علامتی لاگت ادا کرے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، اس فیصلے سے نہ صرف رائے جوڑے کو عارضی راحت ملی ہے بلکہ یہ بھی واضح اشارہ ملا ہے کہ عدالت تحقیقات اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے پر زور دے رہی ہے۔ تاہم، کیس ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور آئندہ سماعتوں میں اس کی مزید قانونی جہتیں سامنے آ سکتی ہیں۔