Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر‘‘ پر نیا تنازع: جنوبی ستاروں کی تعریف، پرکاش راج کا ردعمل

Updated: March 21, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai

’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کو جہاں بڑے ستاروں کی حمایت ملی، وہیں پرکاش راج نے سوشل میڈیا پر تنقیدی اشارہ دے کر نئی بحث چھیڑ دی۔

Ranveer Singh and Prakash Raj. Photo: INN
رنویر سنگھ اور پرکاش راج۔ تصویر: آئی این این

فلم Dhurandhar: The Revenge اپنی زبردست کامیابی، شاندار پرفارمنس اور ہدایت کار آدتیہ دھر کی باریک بینی کے باعث ناظرین میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ فلم مسلسل تنازعات میں بھی گھری ہوئی ہے۔ ایک طرف جہاں فلم کو ’’محب وطن‘‘ اور تکنیکی طور پر مضبوط قرار دیا جا رہا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر ایک حلقہ اسے ’’پروپیگنڈہ‘‘ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اسی دوران تیلگو سنیما کے بڑے ناموں نے کھل کر فلم کی تعریف کی، جن میں اللو ارجن، مہیش بابو، جونیئر این ٹی آر اور وجے دیورا کونڈا شامل ہیں۔ ان اداکاروں نے فلم کی کہانی، ہدایت کاری اور خاص طور پر رنویر سنگھ کی اداکاری کو سراہتے ہوئے اسے ایک ’’بڑا سنیماٹک تجربہ‘‘ قرار دیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Prakash Raj (@joinprakashraj)

تاہم، پرکاش راج کو یہ ’’دہرا رویہ‘‘ پسند نہیں آیا۔ وہ اپنے واضح اور تنقیدی مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بالواسطہ انداز میں فلم سے خود کو دور رکھنے کا اشارہ دیا اور کیپشن میں لکھا کہ وہ ’’دھرندھر‘‘ کے ہسٹیریا سے بہت دور ہیں‘‘، ساتھ ہی ’’#justasking‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا، جس نے بحث کو مزید ہوا دی۔ بعد ازاں، جب ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ جنوبی ہند کے اداکار فلم کی تعریف کر رہے ہیں جبکہ بالی ووڈ خاموش ہے، تو پرکاش راج نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’ذمہ داریوں کی نشانیاں جنوب میں بھی پھیل رہی ہیں‘‘، جسے کئی لوگوں نے جنوبی ستاروں پر تنقید کے طور پر دیکھا۔

دوسری جانب اللو ارجن نے فلم کو ’’ہر محب وطن کے لیے فخر کا باعث‘‘ قرار دیا اور رنویر سنگھ کی اداکاری کو ’’آگ‘‘ سے تشبیہ دی۔ اسی طرح مہیش بابو نے فلم کو ’’دھماکہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی ہدایت کاری اور میوزک کی بھی تعریف کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلم کو انڈسٹری کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے۔

یہ تنازع ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر رہا ہے کہ کیا بڑی فلموں کو محض تفریح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے یا ان کے نظریاتی پہلوؤں پر بھی سوال اٹھائے جانے چاہئیں۔ تاہم، جاری بحث کے باوجود، فلم کی باکس آفس کارکردگی مضبوط ہے اور یہ مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع اس کی مقبولیت کو متاثر نہیں کر پا رہا۔

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK