• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دلجیت دوسانجھ کے ’اورا انڈیا ٹور‘ کا آغاز، دہلی میں ہزاروں مداح جھوم اٹھے

Updated: October 31, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi

دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹس میں موسیقی کے ساتھ پنجابی ثقافت، شائقین سے ان کا بے تکلف انداز اور سماجی موضوعات پر اظہارِ خیال بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دہلی میں ان کے نئے دورے کی پہلی شام بھی انہی رنگوں سے سجی رہی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

۳۰؍ اکتوبر کو دہلی کی سڑکوں کا رخ جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم کی جانب تھا، جہاں گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے اپنے نئے ’اورا انڈیا ٹور‘ کا آغاز کیا۔ اس موقع پر اسٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دلجیت نے اپنی دلکش شخصیت، مقبول گیتوں اور پنجابی ثقافت کے رنگوں سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ گلوکار نے اپنے کئی مشہور گیت پیش کیے، خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کی، حاضرین میں سے چند خوش نصیبوں کو تحائف دیے اور ناقدین پر طنزیہ جملے بھی کسے۔ یوں موسیقی اور جوش و خروش سے بھرپور شام یادگار بن گئی۔

یہ بھی پڑھئے: پرینیتی چوپڑا نے مذاق میں آڈیشن دے دیا اور انہیں ۳؍فلمیں مل گئیں

ہمیں لڑنا مت سکھاؤ

دلجیت نے شو کا آغاز کرتے ہوئے کنسرٹ سے پہلے پیش آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ’اورا ٹور‘ کا آغاز دہلی ہی سے کرنا تھا۔ کنسرٹ سے قبل پہلے دہلی پولیس نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجازت دینے سے انکار کیا، جس کے بعد بارش نے بھی مشکلات پیدا کردیں۔ کنسرٹ سے ایک روز قبل اور اسی صبح قومی دارالحکومت میں موسلادھار بارش ہوئی تھی۔ گیتوں کی پیشکش کے دوران دلجیت نے اپنے مخصوص انداز میں خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے پر بات کی، ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پنجابیوں کے حوصلے اور جدوجہد کے جذبے کا ذکر کرتے ہوئے ناقدین پر طنز بھی کیا۔ انہوں نے کہا، ’’پنجابیوں کو مت سکھاؤ کہ لڑائیاں کیسے لڑی جاتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کسی مقصد کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا طریقہ پنجابیوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔

یہ بھی پڑھئے: سکندر کھیر نے اپنی صلاحیتوں کے دم پر نام کمایا ہے

مقبول گیتوں پر جھوم اٹھا دہلی

دلجیت اسٹیج پر پہنچے تو اسٹیڈیم میں موجود شائقین نے تالیوں اور نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے ’مورنی‘ سے شو کا آغاز کیا اور ابتدا ہی سے ماحول کو پرجوش بنادیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے کئی مقبول گیت پیش کیے، جن میں ’جی او اے ٹی‘، ’اک کڑی‘، ’للکارا‘، ’لوور‘، ’کیس‘، ’پنج تارا‘، ’ہس ہس‘، ’سانسو کی مالا‘ اور ’واٹر‘ شامل تھے۔ یہ وہ گیت ہیں جو ملک بھر میں سفر، شادیوں اور رات گئے ہونے والی محفلوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ جمعہ کی شام ہزاروں شائقین نے بھی دلجیت کے ساتھ ان گیتوں کو گایا۔ ان میں ایسے مداح بھی شامل تھے جو برسوں سے ان کی موسیقی سنتے آرہے ہیں، جبکہ کچھ افراد پہلی مرتبہ ان کی براہِ راست پرفارمنس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دونوں صورتوں میں گلوکار اور شائقین کے درمیان جوش و محبت کا تعلق نمایاں رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK