پرینیتی چوپڑا اداکارہ بننے کا شوق نہیں رکھتی تھیں،وہ دیگر شعبوں میں کام کرکے نام کمانا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے یوں ہی مذاق میں آڈیشن دے دیا اور بدلے میں انہیں ایک دو نہیں بلکہ ۳؍فلموں کا آفر مل گیا۔
پرینیتی چوپڑا۔ تصویر: آئی این این
پرینیتی چوپڑا اداکارہ بننے کا شوق نہیں رکھتی تھیں،وہ دیگر شعبوں میں کام کرکے نام کمانا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے یوں ہی مذاق میں آڈیشن دے دیا اور بدلے میں انہیں ایک دو نہیں بلکہ ۳؍فلموں کا آفر مل گیا۔ یش راج فلمز میں مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرتے ہوئے انہیں اداکاری کے تخلیقی پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اسی دوران انہوں نے فلم ’جب وی میٹ‘ کے گیت نامی کردار کے مکالمے بولتے ہوئے ایک فرضی آڈیشن ریکارڈ کرلیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب فلم ساز آدتیہ چوپڑہ نے یہ آڈیشن دیکھا تو وہ پرینیتی کی اداکاری سے خاصے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد انہیں ایک نہیں بلکہ ۳؍فلموں میں کام کرنے کی پیشکش کردی گئی۔
ان فلموں میں ’لیڈیز ورسز رکی بہل‘ (۲۰۱۱ء)، ’عشق زادے‘ (۲۰۱۲ء) اور ’شدھ دیسی رومانس‘ (۲۰۱۳ء) شامل تھیں۔پرینیتی نے ۲۰۱۱ء میں فلم ’لیڈیز ورسز رکی بہل‘ سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس فلم میں رنویر سنگھ اور انوشکا شرما بھی اہم کرداروں میں تھے۔ بعد میں ’عشق زادے‘ میں ان کی اداکاری کو خاصی پذیرائی ملی اور ان کے کریئر کو ایک نئی پہچان ملی۔اس طرح جس آڈیشن کو انہوں نے محض مذاق سمجھ کر دیا تھا، وہ ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ پرینیتی کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ کبھی کبھی انسان کا ایک غیر سنجیدہ قدم بھی اس کے مستقبل کی سمت متعین کردیتا ہے۔