Updated: October 31, 2026, 7:23 PM IST
| New Delhi
پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے دہلی میں اپنے کنسرٹ کے دوران ان ناقدین کو جواب دیا جنہوں نے NEET پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں ان کی عدم شرکت پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے اپنی فلم ’ستلج‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم کے لیے طویل جدوجہد کی گئی ہے اور کسی کو پنجابیوں کو لڑنا سکھانے کی ضرورت نہیں۔ ان کے بیان کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرکے اختلاف پر افسوس ظاہر کیا اور دلجیت سے معاملہ ختم کرنے کی اپیل کی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھیجیت دپکے۔ تصویر: ایکس
پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے کے درمیان جاری تنازع نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ دلجیت نے جمعہ ۳۰؍ اکتوبر کو دہلی کے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں اپنے Aura India Tour کے افتتاحی کنسرٹ کے دوران ان لوگوں کو براہِ راست جواب دیا جنہوں نے جون میں طلبہ کے احتجاج سے خود کو الگ رکھنے پر ان پر تنقید کی تھی۔ گلوکار نے کہا کہ وہ ایک فنکار ہیں اور خاموش رہنا چاہتے ہیں تو انہیں خاموش رہنے دیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو پنجابیوں کو جدوجہد کرنا سکھانے کی ضرورت نہیں۔ دلجیت نے کنسرٹ کے دوران کہا، ’’میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں ایک فنکار ہوں، بھائی۔ میں خاموش ہوں تو مجھے خاموش رہنے دیں۔ میں آپ سب کی حمایت کرتا ہوں، لیکن پنجابیوں کو لڑنا نہ سکھائیں۔‘‘ انہوں نے اپنی فلم ’ستلج‘ پر ہونے والی تنقید کا بھی ذکر کیا اور کہا، ’’جس فلم کا آپ اسٹیج پر مذاق اڑا رہے ہیں، وہ جسونت سنگھ کھالڑا کی فلم ہے۔ ہم نے اس فلم کے لیے طویل عرصے تک جدوجہد کی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی ان سے نفرت کرتا ہے تو بھی انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا، وہ سب سے محبت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دلجیت دوسانجھ کے ’اورا انڈیا ٹور‘ کا آغاز، دہلی میں ہزاروں مداح جھوم اٹھے
یہ تنازع جون ۲۰۲۶ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب دہلی کے جنتر منتر پر NEET امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ احتجاج کررہے تھے۔ اسی دوران ایک مداح نے انسٹاگرام لائیو سیشن میں دلجیت سے پوچھا تھا کہ کیا وہ احتجاج میں شرکت کریں گے؟ اس پر گلوکار نے جواب دیا تھا، ’’مجھے ان سب چیزوں سے دور رکھو۔ بھائی، میں ایک فنکار ہوں، کوئی سیاست داں نہیں۔ تم لوگ مجھے کیا سمجھتے ہو؟‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا میں ہر چیز ہمیشہ درست نہیں ہوسکتی۔ احتجاج کرنے والوں کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جن کے خلاف احتجاج ہورہا تھا، ان کے لیے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ دلجیت کے اس جواب پر CJP کے بانی ابھیجیت دپکے سمیت بعض افراد نے تنقید کی تھی۔ ان کا اعتراض تھا کہ دلجیت ایک طرف سماجی اور انسانی حقوق کے موضوعات پر بننے والی فلموں سے وابستہ ہوتے ہیں، لیکن جب طلبہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کررہے تھے تو انہوں نے خود کو سیاست سے الگ قرار دے دیا۔ دپکے نے خاص طور پر فلم ’ستلج‘ کا حوالہ دیا تھا، جو انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے۔ کھالڑا نے ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء اور 1990 کی دہائیوں میں پنجاب میں مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں اور نامعلوم افراد کی لاشوں کی خفیہ آخری رسومات کے معاملات کو سامنے لانے کے لیے کام کیا تھا۔
فلم ’ستلج‘ کی ریلیز بھی طویل عرصے تک تنازعات میں گھری رہی۔ اطلاعات کے مطابق اسے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن سے منظوری حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی ریلیز تقریباً ۳؍ سال تک تاخیر کا شکار رہی۔ فلم مختصر مدت کے لیے زی ۵؍ پر بھی دستیاب ہوئی، لیکن بعد میں اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ اس وقت حکام کی جانب سے قومی سلامتی اور دشمن عناصر کے ذریعے مواد کے ممکنہ استعمال سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دلجیت نے کنسرٹ میں فلم کے لیے کی گئی طویل جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑانے والوں کو جواب دیا۔ دلجیت کے بیان کے بعد ابھیجیت دپکے نے انسٹاگرام پر گلوکار کے نام ایک تفصیلی پیغام شائع کیا، جس کا عنوان ’’To Diljit Paaji‘‘ تھا۔ انہوں نے لکھا کہ جون میں احتجاج کے دوران دلجیت کے بیان سے انہیں دکھ پہنچا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ گلوکار کو ایسے شخص کے طور پر دیکھتے رہے ہیں جو سماجی مسائل پر آواز اٹھاتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اختلاف کے باوجود دلجیت کے لیے ان کی عزت اور پسندیدگی برقرار ہے۔ دپکے نے بتایا کہ وہ مئی میں امریکہ کے شہر شکاگو میں بھی دلجیت کا کنسرٹ دیکھنے گئے تھے اور ان کی شخصیت، جرأت اور عالمی سطح پر ہندوستانی موسیقی کو متعارف کرانے کی صلاحیت کے مداح ہیں۔
دپکے نے اپنے پیغام میں کہا، ’’ایک اختلاف یا غلط فہمی سے میرے دل میں آپ کے لیے عزت اور پسندیدگی کم نہیں ہوتی۔ باقی پاجی، چھوٹا بھائی سمجھ کر مٹی پاؤ۔‘‘ انہوں نے دلجیت کے گانے ’GOAT‘ کی ایک سطر بھی اپنے پیغام کے اختتام پر لکھی۔ اس طرح جون میں طلبہ کے احتجاج سے شروع ہونے والا اختلاف اکتوبر میں دہلی کے کنسرٹ کے دوران دوبارہ سامنے آیا، لیکن دپکے کے تازہ پیغام نے دونوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔