Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفاورلڈ کپ : صومالی ریفری عمر کو امریکہ میں داخلے سے روک دیاگیا

Updated: June 09, 2026, 1:03 PM IST | New York

محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی (DHS) کا کہنا ہے کہ ایوارڈ یافتہ ریفری عمر آرتانکو سیکوریٹی جانچ پڑتال سے متعلق خدشات کی بنا پر میامی پہنچنے کے بعد ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔

Omar Artan.Photo:X
عمر آرتان۔۔ تصویر:ایکس

امریکہ نے ایک ممتاز صومالی فٹبال ریفری کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ فیفا ورلڈ کپ میں خدمات انجام دینے کے لیے مقرر تھے۔ اس فیصلے نے واشنگٹن کی سفری پابندیوں اور ٹورنامنٹ پر ان کے اثرات کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی (ڈی ایچ ایس) نے پیر کے روز الجزیرہ کو تصدیق کی کہ عمر آرتان کو ہفتے کے روز جنوبی فلوریڈا پہنچنے کے بعد ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فیفا کی جانب سے جاری کردہ ۵۲؍ ورلڈ کپ ریفریز کی فہرست میں شامل عمر آرتان کوسیکوریٹیجانچ پڑتال سے متعلق خدشات کے باعث ناقابلِ قبول قرار دیا گیا اور ان کا داخلہ مسترد کر دیا گیا، ڈی ایچ ایس  کے ترجمان نے ایک ای میل میں بتایا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم آرتان کا امریکہ پہنچ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفر سے قبل ان کے پاس ایک درست ویزا موجود تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوتواوادیوں کی وجہ سے سانگلی میں مسلم خاندان علاقہ چھوڑنے پر مجبور


صومالیہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ٹرمپ متعدد مواقع پر اس افریقی ملک اور اس کے عوام کے بارے میں توہین آمیز بیانات دے چکے ہیں۔ گزشتہ سال کے آخر میں انہوں نے امریکہ میں مقیم صومالی تارکین وطن کو’’کچرا‘‘ قرار دیا تھا، جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ افریقہ کے نمایاں ریفریز میں شمار ہونے والے عمر آرتان ورلڈ کپ کے کسی میچ میں آفیشیٹنگ کرنے والے پہلے صومالی ریفری بننے والے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:پرگتی شریواستو ویدانگ رائنا کی فلم میں اہم کردار میں نظر آئیں گی

داخلے سے انکار کا یہ واقعہ امریکہ کی سفری پالیسیوں اور ورلڈ کپ کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کی تازہ ترین مثال ہے۔ اس عالمی ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کنیڈا کر رہے ہیں۔ ایران کی قومی ٹیم کو بھی ویزا مسائل کے باعث میکسیکو میں قیام کرنا پڑ رہا ہے۔ کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے کے لیے امریکہ آنے کی اجازت ہوگی، لیکن اس کے بعد انہیں دوبارہ سرحد کے جنوب میں واقع اپنے مرکز واپس جانا ہوگا۔ تاہم ٹیم کے بعض عملے کے اراکین کو امریکی ویزا مکمل طور پر دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ وفاقی ایجنٹس غیر ملکی شہریوں کو ہراساں کر سکتے ہیں یا اسٹیڈیمز کے اندر یا اطراف میں غیر دستاویزی تارکین وطن کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK