Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ امتحان پیپر لیک احتجاج: مانوشی چھلر نے۲۰۱۵ء کا تجربہ یاد کیا

Updated: July 24, 2026, 6:07 PM IST | New Delhi

نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر جاری طلبہ کے احتجاج کے درمیان اداکارہ اور سابق مس ورلڈ مانوشی چھلر اور بالی ووڈ اداکار شاہد کپور نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے طلبہ کے خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کی آواز سننے کی ضرورت پر زور دیا۔

Manushi Chillar.Photo:INN
مانوشی چھلر۔ تصویر:آئی این این

 نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر جاری طلبہ کے احتجاج کے درمیان اداکارہ اور سابق مس ورلڈ  مانوشی چھلر اور بالی ووڈ اداکار شاہد کپور  نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے طلبہ کے خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کی آواز سننے کی ضرورت پر زور دیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Lara Dutta Bhupathi (@larabhupathi)


مانوشی چھلر ، جو خود میڈیکل کی طالبہ رہ چکی ہیں، نے ان لوگوں پر تنقید کی جو طلبہ سے کہتے ہیں کہ ’’امتحان دوبارہ دے دو ۔‘‘ انہوں نے یاد دلایا کہ ۲۰۱۵ء میں مبینہ پیپر لیک کے باعث انہیں بھی اُس وقت کے آل انڈیا پری میڈیکل ٹیسٹ (AIPMT) ، جس کی جگہ اب NEET-UG  نے لے لی ہے، دو مرتبہ دینا پڑا تھا۔
 سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں مانوشی نے لکھا ’’میں ہمیشہ یہ مانتی آئی ہوں کہ ایک غیر منصفانہ دنیا میں تعلیم سب سے بڑی برابری پیدا کرنے والی طاقت ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بس دوبارہ امتحان دے دو ، وہ اصل مسئلہ نہیں سمجھ رہے۔ ہمیں حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ میں نے بھی ۲۰۱۵ء میں پیپر لیک کی وجہ سے امتحان دو مرتبہ دیا تھا۔ یہ صرف ایک امتحان نہیں ہوتا بلکہ برسوں کی محنت، بے شمار جاگی ہوئی راتوں، قربانیوں اور خوابوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:تھلاپتی وجے کی ’’جنا نائیگن‘‘ نے پہلے دن ہندوستان میں ۴۱؍ کروڑ روپے کی کمائی


 انہوں نے مزید کہا کہ ہر میڈیکل داخلہ امتحان کے پیچھے طلبہ اور ان کے خاندانوں کی بڑی جدوجہد ہوتی ہے۔  کئی والدین اپنے بچوں کی کوچنگ کے لیے قرض لیتے ہیں، جبکہ کئی طلبہ برسوں تک اس امتحان کی تیاری کرتے ہیں۔ ان کے لیے یقین یہی ہوتا ہے کہ تعلیم ان کی زندگی بدل سکتی ہے۔ 
 مانوشی نے کہا کہ یہ احتجاج ملک یا اداروں کے خلاف نہیں بلکہ ان میں بہتری کی امید کا اظہار ہے۔  مجھے  ہندوستان پر، اپنی جمہوریت پر اور اس بات پر یقین ہے کہ مضبوط حل بات چیت، آئینی طریقہ کار اور باہمی احترام سے ہی نکلتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے نوجوان ہی ہمارا مستقبل ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے:فولارین بالوگن کی معطلی ختم کرنے پر فیفا کے خلاف شکایت پر غور


اداکار  شاہد کپور  نے بھی سوشل میڈیا پر طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے لکھا’’اگر وہی نوجوان، جن کے لیے تعلیمی نظام بنایا گیا ہے، اس پر ہی اعتماد کھو دیں تو پھر کیا ہوگا؟‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’جو طلبہ ہر سال امتحان میں سوالوں کے جواب دیتے ہیں، آج وہ خود سوال پوچھ رہے ہیں، اور انہیں ایسا کرنے کا پورا حق ہے۔ وہ اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، اور یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ ملک کے نوجوان ہی دراصل ملک ہیں، اور وہ اعتماد کے مستحق ہیں۔‘‘ادھر دہلی یونیورسٹی  کی جانب سے طلبہ اور اساتذہ کو  جنتر منتر  میں ہونے والے احتجاج سے دور رہنے کی ہدایت جاری کیے جانے کے بعد اداکارہ اور ہدایت کار پوجا بھٹ  نے بھی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا’’طلبہ کی حفاظت اس وقت زیادہ خطرے میں پڑتی ہے جب ان کی آواز دبائی جاتی ہے۔ اگر ہم واقعی ان کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں تو ہمیں ان کے بولنے کے حق کی حمایت کرنی چاہیے، نہ کہ خاموشی کو فروغ دینا چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK