Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیراعظم دباؤ میں آچکے ہیں: ابھیجیت دپکے، جنتر منتر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

Updated: July 24, 2026, 5:33 PM IST | Mumbai

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی عوامی دباؤ محسوس کر رہے ہیں، جس کا ثبوت ان کا حالیہ ویڈیو پیغام، امتحانی اصلاحات کے وعدے اور انتظامی تبدیلیاں ہیں۔ تاہم دپکے نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

Abhijeet Dipke. Photo: INN
ابھیجیت دپکے۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ملک گیر طلبہ احتجاج نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی حالیہ سرگرمیاں، جن میں امتحانی نظام میں اصلاحات کے اعلانات، پرچہ لیک کے خلاف سخت قانون لانے کا وعدہ اور وزارتِ تعلیم میں اعلیٰ سطح کی انتظامی تبدیلیاں شامل ہیں، اسی عوامی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ دپکے نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے، لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کا بنیادی مطالبہ اب بھی تبدیل نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر جاری دھرنا اور احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک کسی ایک وعدے یا اعلان سے ختم نہیں ہوگی بلکہ اس کا مقصد جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر انٹرنیٹ بندش کے خلاف پی آئی ایل، دہلی ہائی کورٹ فوری سماعت پر آمادہ

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد اپنا ۲۶؍ روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ دپکے نے وانگچک کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ ان کی صحت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک بھی ختم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق احتجاج اپنی اصل شکل میں جاری رہے گا۔ دپکے نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ضرور ہو رہے ہیں، لیکن مذاکرات اور احتجاج ایک ساتھ چلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی امتحانی نظام میں اصلاحات چاہتی ہے تو اسے صرف نئے قوانین کا اعلان کرنے کے بجائے ذمہ دار افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کارکنوں اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن طریقے سے احتجاج جاری رکھیں اور کسی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی

دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ شب اپنے ویڈیو پیغام میں امتحانی پرچہ لیک کے خلاف مزید سخت قانون، فاسٹ ٹریک عدالتوں اور سخت سزاؤں کا وعدہ کیا تھا، جبکہ حکومت نے وزارتِ تعلیم میں اعلیٰ تعلیم کے سیکریٹری کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کرے گی، تاہم اس نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک مرکزی حکومت یا وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ابھیجیت دپکے کے اس دعوے پر کہ وزیراعظم دباؤ میں ہیں کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ حکومت کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ وہ امتحانی اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جبکہ احتجاجی قیادت اپنے مطالبات پر قائم ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK