Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ٹی آئی آئی طلبہ نے آر مادوھون کے دفتر پر ’’ غائب‘‘ کا پوسٹر آویزاں کیا

Updated: July 22, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi

ایف ٹی آئی آئی طلبہ نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر خاموشی کے خلاف آر مادوھون کے دفتر پر ’’ غائب‘‘ کا پوسٹر آویزاں کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پورا ملک ان طلبہ کے احتجاج کی بات کر رہا ہے جو نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ قومی دارالحکومت میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، اور کئی مشہور شخصیتوں  نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسی دوران فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (FTII) کے چیئرمین، اداکار آر مادھون کو اس قومی مسئلے پر خاموش رہنے پر تنقید کا سامنا ہے۔FTII کے طلباء نے دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران مادھون کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج ۲۰؍ مئی کو اس وقت شدید ہو گیا جب مظاہرین نے نیٹ پیپر لیک پر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی طرف مارچ شروع کیا۔احتجاج کے شدت اختیار کرنے کے دو دن بعد، انسٹاگرام پر ایک تصویر خوب وائرل ہوئی جس میں FTII میں مادھون کے دفتر کا دروازہ دکھائی دے رہا ہے، جس پر نام کی تختی ہے، ’’آر مدھون، چیئرمین، FTII‘‘۔ تاہم طلبہ نے ان کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کے دروازے پر مشہور’’ غائب‘‘میم کا پوسٹر لگا دیا، اور اس کے ساتھ لکھا، ’’  NEET برائے فروخت۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی احتجاج: انٹرنیٹ بندش کے باوجود رابطہ، آف لائن میسجنگ ایپس کی تحقیقات

بعد ازاں یہ پوسٹر بظاہر FTII کے طلبہ کا لگایا ہوا ہے، جنہوں نے جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران مادھون کی خاموشی کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور صارفین نے مادھون سے جواب دینے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ان کے چیئرمین کے عہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ جبکہ کمنٹس میں کئی صارفین نے انہیں ٹیگ کیا اور کہا کہ وہ انسٹیٹیوٹ میں اپنے کردار کے پیش نظر احتجاج پر بات کریں۔ ایک صارف نے لکھا کہ وہ دبئی میں ہیں۔ یاد رہے کہ مادھون اپنے بیٹے ویدانت کے مستقبل کے لیے اہلیہ سمیت دبئی منتقل ہو گئے ہیں اور زیادہ وقت وہیں گزارتے ہی ۔  تاہم کچھ لوگوں نے آدتیہ دھر کی فلم ’دھرندھر‘ میں ہندوستانی افسر کے کردار کی بنیاد پر ان کی اخلاقی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے۔ایک اور صارف نے طنزیہ لکھا، ’’وہ ابھی تک اجیت ڈوبھال کے کردار میں ہیں۔ جاسوس کی زندگی آسان نہیں، انہیں زیرِ زمین رہنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK