• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل

Updated: September 22, 2026, 2:02 PM IST | Geneva

اسرائیلی ماڈل سارائے جیواتی نے غزہ میں بچوں کے قتل پر کہا کہ اگر اسرائیلی کارروائی نہ کی گئی تو بچہ بڑا ہوکر دہشت گرد بن سکتا ہے؛ البانیز نے نازی حکام کے نورمبرگ ٹرائلز میں دیے گئے جواز کا حوالہ دیا۔

Israeli model and Francesca Albanese. Photo: X
اسرائیلی ماڈل اور فرانسسکا البانیز۔ تصویر: ایکس

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے اسرائیلی ماڈل سارائے جیواتی کے فلسطینی بچوں سے متعلق ایک بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جیواتی نے ایک ٹی وی گفتگو میں کہا تھا کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو ایک بچہ بڑا ہوکر دہشت گرد بن سکتا ہے۔ اس کے جواب میں البانیز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا، ’’بچے بڑے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اس دلیل کو ہولوکاسٹ کے دوران بچوں کے قتل کے جواز سے جوڑا۔ جیواتی نے گفتگو میں کہا تھا کہ دنیا بھر میں روتے ہوئے ہر بچے کے لیے انہیں افسوس ہوتا ہے، لیکن ان کے بقول اگر کارروائی نہ کی جائے تو ’’یہ بچہ بڑا ہوکر دہشت گرد بن جائے گا۔‘‘ البانیز نے اسی جملے کو نقل کرتے ہوئے مصمم ارادہ سے کہا کہ ’’بچے بڑے ہوں گے‘‘ وہ دلیل بھی تھی جو نازی حکام نے نورمبرگ ٹرائلز کے دوران ہولوکاسٹ میں بچوں کو قتل کرنے کے جواز کے طور پر پیش کی تھی۔

البانیز کا یہ بیان ۱۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ’ایکس‘ پر سامنے آیا۔ انہوں نے جیواتی کے بیان کے جواب میں نازی دور کا حوالہ دیا، تاہم اپنی مختصر پوسٹ میں کسی مخصوص نازی اہلکار یا مقدمے کا نام نہیں لیا۔ نورمبرگ کے بعد ہونے والے مقدمات کے اصل ریکارڈ میں نازی دور میں بچوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور ان سے متعلق پالیسیوں پر تفصیلی عدالتی کارروائیاں موجود ہیں۔ فرانسسکا البانیز اپریل ۲۰۲۲ء میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال پر خصوصی نمائندہ مقرر ہوئی تھیں۔ ان کا مینڈیٹ ۱۹۶۷ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینا اور اس بارے میں اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کو رپورٹ پیش کرنا ہے۔بچوں کے حوالے سے البانیز پہلے بھی اقوام متحدہ کے سامنے اپنی رپورٹس میں تفصیلی تشویش ظاہر کرچکی ہیں۔ ان کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی بچے اسرائیلی قبضے کے تحت جسمانی اور نفسیاتی صدموں کا سامنا کرتے ہیں اور بچوں کے تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کے تحت ان کے مفادات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بچوں کو قتل، زخمی، یتیم اور حراست میں لیے جانے کے واقعات ان کی زندگی اور نفسیاتی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اسکولوں میں برقع پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود ہوگی

البانیز نے مارچ ۲۰۲۶ء میں بھی اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کو رپورٹ پیش کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے تشدد اور ناروا سلوک کے الزامات کی تحقیقات اور بین الاقوامی اداروں کو رسائی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالیہ بیان میں البانیز نے جیواتی کے اس مؤقف پر توجہ مرکوز کی کہ کسی بچے کے مستقبل کے ممکنہ رویے کو بنیاد بناکر اس کے خلاف کارروائی کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔ البانیز نے اس استدلال کو ہولوکاسٹ کے تاریخی تناظر سے جوڑا، جبکہ جیواتی کے بیان میں کسی مخصوص فلسطینی بچے یا واقعے کی شناخت نہیں کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK