یاہو کو پہلے حکومت سازی کی دعوت ملنے کا امکان بہت کم ، سبھی پارٹیوں سے گفتگو مکمل،صدر ہرزوگ آج اعلان کریں گے ۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 10:03 AM IST | Jerusalem
یاہو کو پہلے حکومت سازی کی دعوت ملنے کا امکان بہت کم ، سبھی پارٹیوں سے گفتگو مکمل،صدر ہرزوگ آج اعلان کریں گے ۔
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ صدر آئزک ہرزوگ اتوار کو اعلان کریں گے کہ ملک میں اگلی حکومت بنانے کی ذمہ داری کس لیڈر کو سونپی جارہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں گادی آئزن کوٹ کو۶؍پارٹیوں کے ۶۷؍ اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کے حق میں صرف ۴۶؍ اراکین کی تائید ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی جاری ہے کہ صدر ہرزوگ حکومت سازی کا پہلا موقع نیتن یاہو کو نہیں دینگے ۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں کسی بھی حکومت کی تشکیل کیلئے پارلیمنٹ کے ۱۲۰؍ اراکین میں سے ۶۱؍ اراکین کی حمایت ضروری ہے۔اب تک کسی ایک سیاسی جماعت کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں ہمیشہ مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے مخلوط حکومتیں تشکیل پاتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: آئزن کوٹ وزیر اعظم کے عہدے کیلئے آگے، تاہم حکومت سازی مزید پیچیدہ
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والی تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقاتیں مکمل کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر اراکین پارلیمنٹ کے خیالات واضح ہیں، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان متعدد اہم معاملات پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔صدر کے مطابق سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے پر بھی کئی اعتراضات ۔
گادی آئزن کوٹ کو۶؍ سیاسی جماعتوں کے مجموعی طور پر ۶۷؍ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ ان میں چار یہودی سیاسی جماعتیں اور دو عرب پارٹیاں ہیں۔ چار یہودی پارٹیوں کے پاس مجموعی طور پر ۴۸؍نشستیں ہیں جبکہ دونوں عرب پارٹیوں کے پاس ۱۹؍ سیٹیں ہیں اور اس وقت وہ کنگ میکر کی پوزیشن میں ہیں۔ تاہم حکومت سازی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان جماعتوں کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات ہیں۔ حمایت کرنے والی۶؍ جماعتوں میں سے تین یہودی جماعتیں ایسی ہیں جو عرب پارٹیوں کیساتھ مل کر حکومت بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خود آئزن کوٹ اپنی انتخابی مہم کے دوران عرب پارٹیوں سے کوئی حمایت نہ لینے کا اعلان کرچکے ہی لیکن عرب پارٹیوں نے آئزن کوٹ کو حمایت دینے کا اعلان کردیا ہے۔ ایسے میں مساوات دلچسپ ہوگئی ہے کہ اسرائیل میں حکومت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس پر سبھی کی نگاہیں ہیں۔ نیتن یاہو ایک اور میعاد حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔