پانچویں دہائی کے آخر تک گیتاکی بنگالی انداز کی گلوکاری کلاسیکل موسیقی کے ساتھ مل کر خوب مقبول ہوئی، ایسے میں لوگ سوچنے لگے کہ کیا وہ اسی طرح دُکھ بھری آواز میں ہمیشہ گاتی رہیں گی، تبھی گرودت کی فلم ’بازی‘ میں ان کی آواز کے نئے انداز نے سب کو چونکا دیا۔
گیتا دت۔ تصویر: آئی این این
ملک کی آزادی سے قبل کے صوبہ بنگال کے ضلع فریدپور کے ایک گائوں میں ۲۳؍نومبر۱۹۳۰ء کو گیتا رائے کا جنم ہوا تھا۔ یہ علاقہ آج کل بنگلہ دیش میں ہے۔ اُن کے والد دیویندر ناتھ چودھری گائوں کے زمیندار تھے۔ گیتا رائے کی والدہ امیہ رائے چودھری کو موسیقی اور شاعری سے بہت لگائو تھا۔ گیتا رائے اپنے ۱۰؍ بہن بھائیوں میں اکیلی ہی ایسی تھیں جن کو اپنی ماں کی طرح موسیقی سے خاص شغف تھا۔ اُن کے ۶؍ بھائی اور۳؍ بہنیں تھیں۔ گیتا کی تعلیم اینگلو بنگالی اسکول میں ہو رہی تھی اور اسی کے ساتھ وہ پنڈت ہریندر ناتھ چودھری سے موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کر رہی تھیں۔
آزادی سے قبل ہی ۱۹۴۲ء میں گیتا رائے کا خاندان بنگال سے بمبئی منتقل ہو گیا اور دادرمیں رہائش اختیار کی۔ ممبئی آکر بھی گیتا رائے نے اپنا موسیقی کا ریاض جاری رکھا۔ اُسی بلڈنگ میں موسیقار ہنومان پرساد بھی رہتے تھے۔ ایک دن بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے انہوں نے گیتا رائے کی سریلی آواز سنی تو وہ اتنے متاثر ہوئے کہ فوراً گیتا کے والدین سے ملاقات کیلئے چلے گئے۔ انہوں نے گیتا رائے کی آواز کی بہت تعریف کی۔
۱۹۴۶ء میں موسیقار ہنومان پرساد فلم’بھکت پرہلاد‘ کا میوزک تیار کر رہے تھے۔ تب انہوں نے ایک گانے کے کورَس میں گیتا رائے کو شامل کیا اور اس طرح پہلی بار کسی فلمی گانے میں چند لائنیں گانے کا انہیں موقع ملا۔ اس کے بعد مشہور موسیقار ایس ڈی برمن کو گیتا رائے کی آواز سننے کا موقع ملا اور انہوں نے ۱۹۴۷ء میں ریلیز ہوئی فلم ’دو بھائی‘ میں ان سے گانے ریکارڈ کرانے کا ارادہ کر لیا۔ یہ فلم فلمستان اسٹوڈیو کیلئے بنائی جا رہی تھی جس کے مالک چنی لال جی ایک نئی آواز سے گانے ریکارڈ کرانے کیلئے راضی نہیں تھے مگر ایس ڈی برمن کے اعتماد کو دیکھتے ہوئےانہوں نے رضا مندی دے دی۔ اس طرح گیتا رائے نے پہلی بار فلم ’دو بھائی‘ کیلئے ایس ڈی برمن کی موسیقی میں گانے ریکارڈ کرائے جو بے حد پسند کئے گئے اور برمن دا کا اعتماد صحیح ثابت ہوا۔ بعد میں گیتا رائے برمن کی پہلی پسند بن گئیں۔ اس طرح گیتا کا فلمی گلوکارہ کے طور پر وہ سفر شروع ہوا جو اگلی تین دہائیوں تک فلمی شائقین کے دلوں کو کبھی گدگداتا رہا اور کبھی اُداسی کے عالم میں اُن کے دل کی ترجمانی کرتا رہا۔
۱۹۴۷ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی فلم ’دوبھائی‘ کے گانے ’میرا سندر سپنا بیت گیا‘ نے ملک میں دھوم مچا دی تھی اور دوسرے موسیقاروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا تھا لہٰذا اگلے دو برس میں لگاتار ان کے کامیاب نغموں نے ان کو گلوکارہ راجکماری اور شمشاد بیگم کی صف میں لاکھڑا کیا تھا۔ ۱۹۴۷ء میں انہوں نے موسیقار شیام سندر کے سنگیت پر شمشاد بیگم کے ساتھ ایک دوگانا ریکارڈ کیا ’’آنکھوں آنکھوں میں دل سے دل کی بات کہہ گئے‘‘ اور اگلے ہی سال ان کی آواز موسیقار غلام حیدر کی موسیقی میں دو فلموں ’شہید‘ (۱۹۴۸ء) اور ’مجبور‘ (۱۹۴۸ء) میں سنائی دی۔ ’شہید‘ فلم میں اداکارہ کامنی کوشل پر گیتا رائے کا نغمہ ’’میں دو دن کی مہمان پیا‘‘ سن کر لوگوں کا دل بھر آیا۔
اسی طرح ۱۹۴۹ء میں بنی فلم ’ناتھ‘ میں موسیقار حسن لال بھگت رام کی موسیقی میں گیتا رائے کا ایک گانا ’’دُور سے ایک پردیسی آیا‘‘ بھی بہت مقبول ہوا۔ اس کے بعد اگلے کچھ برسوں میں گیتا رائے نے فلم ’لڑکی (۱۹۵۰ء)، پیار کی باتیں (۱۹۵۱ء)، پرینیتا (۱۹۵۳ء)، شریمتی جی (۱۹۵۲ء)، امانت (۱۹۵۵ء)، مکھی چوس (۱۹۵۶ء) اور پیار‘ جیسی فلموں میں کئی بہترین نغمے گائے۔ ۱۹۵۰ء میں موسیقار کھیم چند پرکاش نے فلم ’جان پہچان‘ کیلئے گیتا سے چھ گانے ریکارڈ کرائے۔ ان میں سے طلعت محمود کے ساتھ گایا دوگانا ’’ارمان بھرے دل کی لگن تیرے لیے ہے‘‘ بے حد مقبول ہوا۔
فلم ’بازی‘ کے بعد ۱۹۵۴ء میں فلم ’آرپار‘کیلئے موسیقار اوپی نیر نے ان کی آواز کی کشش سے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ نیر صاحب اس سے پہلے ہی فلم ’آسمان‘ میں ان کی گلوکاری کی خوبیوں کو پہچان چکے تھے اور ’جادو بھرے نین‘ اور’’دل ہے دیوانہ‘‘ جیسے نغمے ریکارڈ کرا چکے تھے۔ فلم ’آرپار‘ (۱۹۵۴ء) کیلئے اوپی نیر نے گیتا سے بہت ہی شوخی بھرے اور جذباتی گیت گوائے۔ ’’یہ لو میں ہاری پیا..... ہوں ابھی میں جواں رے دل... جا جا جا بے وفا...‘‘ جیسے نغموں میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف غمزدہ نغمے سنانے کیلئے ہی نہیں ہیں۔ اس کے بعد اوپی نیر اور گیتاکا ساتھ ایک بار پھر فلم ’مسٹر اینڈ مسز ۵۵‘ (۱۹۵۵ء) میں اپنا جادو جگا رہا تھا۔ ’’ٹھنڈی ہوا کالی گھٹا... پریتم آن ملو.... نیلے آسمانی....‘‘ اور محمد رفیع کے ساتھ چار دو گانے گیتا نے گائے تھے۔ ’’جانے کہاں میرا جگر گیا جی.... اُدھر تم حسیں ہو..... دل پر ہوا ایسا جادو....‘‘ اور ’’چل دیئے بندہ نواز‘‘ جیسے گانوں نے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔
۱۹۵۶ء میں ایک بار پھر فلم ’چھومنتر‘ میں گیتا کی آواز اور اوپی نیر کی موسیقی نے دھوم مچائی۔ محمدرفیع کے ساتھ ان کا گایا دوگانا ’’غریب جان کے ہم کو نہ یوں مٹا دینا...‘‘ بے حد مقبول ہوا۔ فلم کے دوسرے دو نغمے ’’جب بادل لہرایا...‘‘ اور ’’رات نشیلی.....‘‘ بھی شائقین نے بے حد پسند کیے۔ اِن سب کے علاوہ گیتاکا جو گیت ۱۹۵۶ء میں سب سے زیادہ مقبول ہوا، وہ تھا ’’اے دل مجھے بتا دے تو کس پہ آگیا ہے‘‘ یہ فلم ’بھائی بھائی‘ کا نغمہ تھا۔ ان کی آواز کا جادو ۱۹۵۸ء میں بھی قائم رہا۔ فلم ’ہائوڑہ برج‘ کا گانا ’’میرا نام چن چن چو‘‘ اور’سادھنا‘ (۱۹۵۸ء) کا نغمہ ’’تورا منوا کیوں گھبرائے‘‘ بھی کافی مقبول رہے۔
پانچویں دہائی کے آخر تک گیتا رائے کی بنگالی انداز کی گلوکاری کلاسیکل موسیقی کے ساتھ مل کر خوب مقبول ہوتی رہی اور لوگ سوچنے لگے کہ کیا گیتا اسی طرح دُکھ بھری آواز میں ہمیشہ گاتی رہیں گی۔ تبھی گیتا رائے کی آواز کے نئے انداز نے سب کو چونکا دیا۔ ۱۹۵۱ء میں ہدایتکار گرودت کی فلم ’بازی‘ نے سب کی رائے بدل دی اور یہیں سے گیتا رائے کی نجی زندگی اور اس کے ساتھ ہی فنکارانہ زندگی کا رُخ بھی بدل گیا۔ آواز کی جس کشش کو محسوس کرکے موسیقار ایس ڈی برمن نے فلم ’دوبھائی‘ کے دُکھ بھرے نغمے گیتا رائے سے گوائے تھے، انہوں نے ہی آواز کی پختگی اور ویرائٹی کو دیکھ کر فلم ’بازی‘ میں ان سے مستی بھرے اور جذبات کو مہکانے والے گیت ریکارڈ کرائے۔ ’’تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لے‘‘ ساحرؔ لدھیانوی کے لکھے اس گیت نے دھوم مچا دی۔ ’’سنو بجر کیا گائے‘‘ نے سننے والوں پر جادو کا کام کیا۔ ’’یہ کون آیا، آج کی رات پیا، دیکھ کے موہے اکیلی برکھا ستائے رے‘‘ اور ’’لاکھ زمانے والے‘‘ بھی کافی مقبول ہوئے۔ فلم ’بازی‘ کے گانوں نے دھوم مچا دی اورانہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
فلم ’بازی‘ کی تیاریوں کے درمیان ہی گرودت دل و جان سے گیتا پر فریفتہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں گیتا کے والدین نےگرودت کے ساتھ گیتا رائے کی منگنی کر دی اور اس طرح دونوں کچھ اور نزدیک آگئے۔ فلم ’بازی‘ کی کامیابی کے بعد گرودت کی شہرت میں کافی اضافہ ہوگیا تھا۔ انہوں نے کھار کے علاقے میں ایک فلیٹ خرید لیا اور اس طرح منگنی کے تین سال بعد ۲۶؍مئی ۱۹۵۳ء کو گیتا رائے کی شادی گرودت سے ہو گئی اور اس طرح وہ گیتا رائے سےگیتا دت ہوگئیں۔ لیکنکچھ ہی برسوں میں وہ اپنی گھریلو زندگی سے انتہائی نامطمئن ہوگئیں جس کا اثر ان کی گلوکاری پر بھی پڑ نے لگا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۶۰ء میں فلم ’چودھویں کا چاند‘ گرودت کی فلم ہوتے ہوئے بھی گیتا دت صرف ایک کورَس گانے ’’بالم سے ملن ہوگا‘‘ میں سنائی دیں۔ اس کے بعد گیتادت کی آواز بہت کم ہوتی چلی گئی۔ اسی بیچ انہوں نے گرودت سے علاحدگی بھی اختیار کرلی تھیں۔ ۹؍اکتوبر ۱۹۶۴ء کو گرودت کی خودکشی کے بعد وہ بالکل ہی ٹوٹگئیں۔ گرودت اپنی گھریلو زندگی اور فلمی زندگی میں تال میل نہیں بٹھا سکے اور انتہائی مایوسی کے عالم میں شراب اور نیند کی گولیاں بڑی مقدار میں استعمال کرنے کی وجہ سے اپنے ہی فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ اپنے بچوں کی پرورش کیلئے گیتادت کو گلوکاری سے وابستہ رہنا پڑا۔
شوہر کے انتقال کے بعد گیتادت نے فلم ’اُس کی کہانی، انوبھو اور چند دیگر فلموں کیلئے گانے گائے مگر ان کی مقبولیت روز بروز کم ہوتی چلی گئی۔ ان کے گائے ہوئے نغموں سے سجی کچھ دیگر فلمیں اس طرح ہیں۔ ’’آب حیات، بھول نہ جانا، پولیس، منیم جی، پاکٹ مار، مسافر خانہ، دِلّی کا ٹھگ، شریمتی ۴۲۰، جاگیر، گیسٹ ہائوس، لاجونتی، ملاپ اور سن آف انڈیا‘‘ وغیرہ۔ ہیمنت کمار کے ساتھ گائے ہوئے ان کے کئی دوگانے بہت پسند کئے گئے۔ ایک بنگالی فلم ’بدھوورن‘ میں گیتادت نے اداکاری بھی کی جو کامیاب رہی تھی۔ اُن کے شوہر گرودت نے گیتادت کو لے کر فلم ’گوری‘ بنانی شروع کی تھی جو پوری نہیں ہوسکی۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب دو ساتھی فنکار جیون ساتھی بن جاتے ہیں تو زندگی بہت حسین ہو جاتی ہے، مگر کبھی کبھی اس کے نتائج بالکل مختلف روپ میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔ گیتادت اور گرودت کے روپ میں یہ حقیقت کچھ زیادہ ہی بھیانک روپ میں سامنے آئی اور ایک درد ناک انجام کو پہنچی، اور گیتادت اپنے ہی گائے ہوئے گانے کے درد میں ڈوبتی چلی گئیں .... ’’میری پریم کہانی ختم ہوئی، میرے جیون کا سنگیت گیا، میرا سندر سپنا بیت گیا۔ ‘‘
۲۰؍جولائی ۱۹۷۲ء کو غموں اور دکھوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے گیتادت نے بھی اپنی سانسوں کی ڈور کو توڑ دیا اور دُنیاوی زندگی سے مکتی حاصل کر لی۔