• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال: فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد کرفیو، ہندوستان نے سرحد بند کی

Updated: January 06, 2026, 10:06 PM IST | Kathmandu

نیپال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، قانونی صورت حال کے بگڑنے کے درمیان، ہندوستان نے اپنی سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی ہیں، اور ایمرجنسی خدمات کے علاوہ تمام سرحدی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

نیپال میں ایک بار پھر ہنگامے بھڑک اٹھے ہیں کیونکہ ہندوستانی ریاست بہار کے ساتھ سرحدی شہر بیرگنج میں مبینہ مذہبی مواد پر مشتمل ایک ویڈیو کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کے بعد پرتشدد احتجاج پھوٹ پڑا ، جس کے نتیجے میں اتوار سے احتجاج اورمخالف احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ۔ پارسا ضلع کےبیرگنج شہر میں مظاہرین جلد ہی تشدد پر اتر آئے، جس کے نتیجے میں ضلعی حکام نے منگل شام تک کرفیو کے احکامات میں توسیع کر دی۔حالیہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر، کل جاری کردہ کرفیو کا حکم آئندہ اعلان تک برقرار رکھا جائے گا، اور ان حدود کے اندر کسی بھی قسم کی نقل و حرکت، اجتماع، جلوس، مظاہرہ، میٹنگ یا محاصرے پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ فساد کو ۱۳؍ سال مکمل مگر اب تک چاندیوال کمیشن کی رپورٹ سرد خانے میں

صورت حال مزید بگڑنے کے بعد، ہندوستان نے بہار کے رکسول ضلع کے قریب اپنی سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی ہیں، اور ایمرجنسی خدمات کے علاوہ تمام سرحدی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ واضح رہے کہ پہاڑی ملک نیپال میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب دھنوشہ ضلع کے کمالا میونسپلٹی کے دو مسلموں حیدر انصاری اور امانت انصاری، کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو پوسٹ کی جس میں کچھ مذہبی برادریوں کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے گئے تھے۔ یہ کلپ اس پورے علاقے میں وائرل ہو گئی، جس کے نتیجے میں دھنوشہ اور پارسا اضلاع میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی۔ جس کے بعد علاقے کے مقامی افراد نے دونوں کو پکڑا اور مذہبی کشیدگی پیدا کرنے کے الزام میں پولیس کے حوالے کر دیا۔ تاہم، صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب کمالا میونسپلٹی کے وارڈ۶؍ میں ایک مسجد میںتوڑ پھوڑ کی گئی۔یہ ہنگامہ، جو اتوار کو احتجاج کے طور پر شروع ہوا، ایک شدید فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہو گیا جب لوگ توڑ پھوڑ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، لیکن اس کے جواب میں مخالف احتجاج نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اکولہ: اسدالدین اویسی کے جلسے میں ہنگامہ، پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا

واضح رہے کہ نیپال ستمبر۲۰۲۵ء کے بعد سے پرتشدد مظاہروں کا شکار ہے، جب نوجوانوں نے بدعنوانی، اشرافیہ کے مراعات اور ڈیجیٹل پابندیوں کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے، جس میں نوجوان مظاہرین نے سڑکوں پر احتجاج اور آن لائن مہم کے ذریعے سیاسی اتھارٹی کو چیلنج کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK