جے این یو نے وزیر اعظم مودی اوروزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف نعروں کے بعد طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست کی ہے، انتظامیہ نے ان نعروں کو اشتعال انگیز، بھڑکانے والے اور ہندوستان کے اعلیٰ ترین عدالت کی توہین قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
جے این یو نے وزیر اعظم مودی اوروزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف نعروں کے بعد طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست کی ہے، انتظامیہ نے ان نعروں کو اشتعال انگیز، بھڑکانے والے اور ہندوستان کے اعلیٰ ترین عدالت کی توہین قرار دیا ہے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں طلبہ کے ایک گروپ نے پیر کی رات وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف نعرے بازی کی جس کےبعد انتظامیہ نے ان طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست کی ہے ۔ انتظامیہ نے ان نعروں کو اشتعال انگیز، بھڑکانے والے اور ہندوستان کے اعلیٰ ترین عدالت کی توہین قرار دیا ہے۔جے این یو کے چیف سیکورٹی آفیسر نوین یادو نے کہا کہ ، ’’پروگرام کے دوران، عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی اپیلوں پر عدالتی فیصلے کے بعد،طلبہ کے اجتماع کی نوعیت اور لہجہ نمایاں طور پر بدل گیا۔ کچھ طلبہ نے انتہائی ناقابل قبول، اشتعال انگیز اور بھڑکانے والے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ یہ ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی براہ راست توہین ہے۔
🚨 BREAKING | JNU SHOCKER 😡
— GLOBAL PULSE 360 (@DataIsKnowldge) January 6, 2026
Derogatory slogans against PM Modi & HM Shah allegedly raised at JNU after Umar Khalid & Sharjeel Imam bail denial.#JNU #SupremeCourt #Delhi #India 🇮🇳 pic.twitter.com/0OOyfDUVoJ
وسنت کنج پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو خط میں یادو نے لکھا، ’’ایسے نعروں کا لگانا جمہوری اختلاف رائے سے مکمل طور پر متصادم ہے، جے این یو کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے، اور اس سے عوامی نظم و ضبط، کیمپس ہم آہنگی، اور یونیورسٹی کے تحفظ اور سیکیورٹی ماحول کو سنگین طور پر خراب کرنے کا امکان ہے۔‘‘انہوں نے کہا،’’ لگائے گئے نعرے واضح طور پر جان بوجھ کر اور شعوری بدسلوکی کی نشاندہی کرتے ہیں، اوریہ عمل ادارتی نظم و ضبط کے منافی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ایک مبینہ ویڈیو کے مطابق، یہ احتجاج پیر دیر رات جے این یو کیمپس کے سابرمتی ہاسٹل میں ہوا، جس کے گھنٹوں بعد سپریم کورٹ نے۲۰۲۰ء کے دہلی فسادمقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت سے انکار کر دیا تھا۔ یہ تقریب’’ مزاحمت کی ایک رات‘‘ کے عنوان سے۲۰۲۰ء کے کیمپس تشدد کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) نے کہا کہ یہ احتجاج۵؍ جنوری۲۰۲۰ء کے کیمپس پر ہندوتوا حملے کی سالانہ تقریب کا حصہ تھا۔بعد ازاں جے این یو ایس یو کی صدر ادتی مشرا نے پی ٹی آئی کو بتایا، ’’حتجاج کے دوران لگائے گئے تمام نعرے نظریاتی تھے اور کسی پر ذاتی طور پر حملہ نہیں تھے۔‘‘
تاہم مرکزی وزیر گرراج سنگھ نے کہا کہ ایسے لوگوں پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ دہلی کے وزراء آشیش سود اور منجندر سنگھ سرسا نے بھی احتجاج کی مذمت کی، اور ایسے اقدامات کی حمایت کرنے کے لیے اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرایا۔ سود نے شرجیل امام اور عمر خالد کے مبینہ طور پر کیے گئے سابقہ بیانات کا حوالہ دیا اور کہا کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ایسے افراد سے ہمدردی ظاہر کی جا رہی ہے۔ اسی دوران، کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے عدالتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کے حق کا دفاع کیا لیکن توہین آمیز زبان کے استعمال پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’آپ لوگوں پر تنقید کر سکتے ہیں، لیکن اس کا ایک طریقہ اور انداز ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اکولہ: اسدالدین اویسی کے جلسے میں ہنگامہ، پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کو عمر خالد اور شرفیل امام کو ضمانت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۰ءکے شمال مشرقی دہلی تشدد کے پیچھے مبینہ سازش میں ان کا کردار انہیں سازش کی سطح پر اعلیٰ مقام پر رکھتا ہے۔تاہم، عدالت نے اس مقدمے میں الزامات کا سامنا کرنے والے پانچ دیگر سی اے اے مخالف کارکنوں کو مشروط ضمانت دے دی۔تاہم اس احتجاج نے۵؍ جنوری ۲۰۲۰ء کے جے این یو تشدد کی یادوں کو بھی تازہ کر دیا، جب ایک نقاب پوش ہجوم نے ہاسٹل کے اندر طلبہ اور فیکلٹی پر حملہ کیا تھا، جس میں کم از کم۲۸؍ افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں اس وقت کی جے این یو ایس یو صدر آیوشی گھوش بھی شامل تھیں۔ اس وقت دہلی پولیس کو واقعے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔