Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمن وائس چانسلر کا اتمار بن گویر پر یورپی یونین سے پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

Updated: August 19, 2026, 7:03 PM IST | Berlin

جرمنی میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے غزہ سے متعلق سخت بیانات پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ جرمن نائب چانسلر لارس کلنگ بائل نے یورپی یونین سے بن گویر کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

German Vice Chancellor Lars Klingbeil . Photo: INN
جرمنی کے وائس چانسلر لارس کلنگ بائل۔ تصویر: آئی این این

جرمنی کے نائب چانسلر لارس کلنگ بائل نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر پابندیاں عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے۔ انہوں نے بن گویر کے بیانات کو ’’غیر انسانی‘‘ قرار دیا۔ نشریاتی ادارے Sat.1 کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کلنگ بائل نے غزہ میں فلسطینیوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے سے متعلق بن گویر کے حالیہ بیانات کی مذمت کی اور ان کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ 
بن گویر نے غزہ پر فضائی حملوں میں اضافہ کرنے اور اسرائیل کی جانب سے روزانہ ’’۳۰؍سے۴۰‘‘ فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی قیمت پر غزہ میں اسرائیلیوں کو دوبارہ آباد کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا ہے۔ دریں اثنا، جرمنی کی گرین پارٹی کی شریک سربراہ فرانزیسکا برانٹنر نے بن گویر کے جرمنی میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب : نایاب پرندے کی نیلامی، کنیڈین باز۳؍لاکھ ۶۴؍ہزار ڈالر میں میں خریدا گیا

برانٹنر نے Politico سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں جرمن حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ اس شخص کے جرمنی میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور وہ یورپی سطح پر بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کرے۔‘‘
پیر کو کرسچن ڈیموکریٹک یونین/کرسچن سوشل یونین (CDU/CSU) کے پارلیمانی گروپ کے خارجہ پالیسی کے ترجمان یورگن ہارڈٹ نے بھی غزہ میں ہر رات درجنوں فلسطینیوں کو قتل کرنے کی حمایت میں دیئے گئے بن گویر کے بیانات پر یورپی یونین سے ان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK