• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو عملی طور پر ترک کر دیاہے: ٹرمپ

Updated: October 04, 2026, 9:07 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو عملی طور پر ترک کر دیاہے، ایران پر نئے فوجی حملوں کے امکان کے درمیان امریکی صدر کا تبصرہ ان کی انتظامیہ کی جنگ کے ایک مرکزی مقصد پر سامنے آئے ہیں۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےایک بیان میں کہا  کہ ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے کسی بھی منصوبے کو عملی طور پر ترک کر دیاہے، جو تہران کے ساتھ جنگ جو اب اپنے آٹھویں مہینے میں ہےمیں ان کی انتظامیہ کے سب سے زیادہ بار بیان کیے جانے والے مقاصد میں سے ایک ہے۔ٹرمپ نے سنیچر کو یہ بھی دعویٰ کیا کہ تیل کی قیمتیں فی الحال کم ہو رہی ہیں، جو۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف حملے شروع کرنے کے بعد طویل عرصے سے بلند تھیں۔
ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس سے امریکی ریاست اوہائیو میں ایک ریلی میں شرکت کے لیے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں کو بتایا، ’’تیل کی قیمت نیچے آ رہی ہے۔ تیل کے دام ابھی کم ہیں، اور یہ بائیڈن انتظامیہ کے دور سے کم ہے، بائیڈن  نے اس حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں کیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو ں۔انہوں نے مزید کہا، ’’ویسے، ایران، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، نے جوہری ہتھیار کا کوئی بھی منصوبہ عملی طور پر ترک کر دیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے: انجلینا جولی نے سیٹیلائٹ تصاویر انسٹاگرام پر دکھائیں

واضح رہے کہ ایران نے طویل عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے، یہ وہ موقف ہے جسے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک کے دورے کے دوران دہرایا تھا۔پزشکیان نے کہا کہ تہران مذہبی ممانعت کی وجہ سے جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے،  ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی تصدیق کے تحت اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے کی پیشکش کی۔تاہم ایران نےاپنا یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ وہ اپنے پرامن سویلین جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ساختی مراعات دے گا جب تک کہ امریکہ اقتصادی پابندیاں نہیں ہٹاتا۔
بعد ازاں ٹرمپ سنیچر کو اوہائیو گئے، جہاں ان کی ریپبلکن پارٹی امریکی سینیٹ کی نشست کے لیے سخت مقابلے میں ہے کیونکہ وہ اپنی تنگ کانگریسی اکثریت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔مزید برآں جبکہ ایران جنگ کی حمایت میں کمی کے ساتھ ساتھ پٹرول اور دیگر اہم اشیاء کی زیادہ قیمتوں کا سلسلہ جاری ہے امریکہ بھر میں متعدد موجودہ ریپبلکن سینیٹرز کو سخت سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔حالیہ دنوں میں، امریکی فوج نے مبینہ طور پر ایران پر ممکنہ نئے فوجی حملوں کی تیاریوں کے درمیان، سعودی عرب اور قطر میں توانائی کی سہولیات کی حفاظت کے لیے دو اضافی پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں تعینات کی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی اے آئی کے خطرات، مواقع کے جائزے کیلئے ٹاسک فورس کی تشکیل: رپورٹ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بیٹری گزشتہ ماہ سعودی عرب میں تیل کی ایک اہم تنصیب کی حفاظت کے لیے بھیجی گئی تھی، جبکہ دوسری قطر میں قدرتی گیس کی تنصیب کے دفاع کے لیے تعینات کی گئی تھی۔ان تعیناتیوں کا مقصد دونوں ممالک کو یقین دلانا تھا کہ اگر امریکہ ایران پر بڑے جنگی حملے دوبارہ شروع کرتا ہے تو واشنگٹن ان کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK