• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینی عیسائیوں کو ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کا سامنا: سربیائی آرتھوڈوکس چرچ

Updated: October 04, 2026, 10:03 PM IST | Gaza

سربیائی آرتھوڈوکس چرچ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں عیسائیوں کو ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے، پیٹریارک پورفیریجے نے۲۰۰۰؍ سالہ عیسائی موجودگی کے تحفظ پر زور دیا، ساتھ ہی مذہبی برادریوں کو پسماندہ کرنے کے خلاف خبردار کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سربیائی آرتھوڈوکس چرچ نے سنیچر کو کہا کہ فلسطین میں عیسائیوں کو ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے،ساتھ ہی ان کی تاریخی موجودگی کو پسماندہ کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔فلسطینی عہدیدار رمزی خوری کو لکھے گئے ایک خط میں، سربیائی پیٹریارک پورفیریجے نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ساتھ ہی عیسائیوں اور خطے کے دیگر باشندوں کو درپیش بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔چرچ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شہریوں کا مصائب خواہ ان کا عقیدہ یا پس منظر کچھ بھی ہو، انسانی وقار سے مطابقت نہیں رکھتا،کہا کہ’’ کمیونٹی کو مصائب، ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔‘‘مزید برآں چرچ نےیہ نوٹ کرتے ہوئے کہ عیسائیوں نے خطے میں۲۰۰۰؍ سال سے زائد عرصے سے مسلسل موجودگی برقرار رکھی ہے اور وہ اس کی تاریخ اور ورثے کا ایک لازمی حصہ ہیں، عیسائی برادریوں کے تحفظ پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے: انجلینا جولی نے سیٹیلائٹ تصاویر انسٹاگرام پر دکھائیں

علاوہ ازیں چرچ نے یہ بھی خبردار کیا کہ کسی بھی مذہبی یا نسلی برادری کو خارج کرنا یا پسماندہ کرنا خطے کے سماجی اور مذہبی تانے بانے کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہے، اور بین الاقوامی قانون اور مذہبی حقوق کے احترام پر زور دیا۔پورفیریجے نے کہا کہ چرچ سیاسی لیڈروں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں عیسائی برادریوں کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کوششوں کو اجاگر کرتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: امداد کی ترسیل میں تاخیر پر ڈیلیو ایچ او کی شدید تشویش

واضح رہے کہ خوری فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں، اور فلسطین میں چرچ کے امور کے لیے اعلیٰ صدارتی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔فلسطینی کمیٹی نے مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مقبوضہ مشرقی یروشلم میں عیسائی برادریوں اور اداروں پر حملوں کے ساتھ عبادت، تعلیم اور مذہبی مقامات تک رسائی کو متاثر کرنے والی پابندیوں کے بارے میں بار بار خدشات کا اظہار کیا ہے۔اس کا اثر غزہ کی پٹی تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں سنیچر کی صبح پانچ فلسطینی مارے گئے، جن میں چار خواتین شامل ہیں، جن میں سے دو عیسائی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK