Inquilab Logo Happiest Places to Work

وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان منہدم، ۱۰۰؍ سے زائد کان کن ہلاک

Updated: August 20, 2026, 10:38 AM IST | Bangui

وسطی افریقی جمہوریہ کے مغربی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے سونے کی ایک کان منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں ۱۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ حادثہ کیمرون کی سرحد کے قریب زامبوئے گاؤں میں پیش آیا، جہاں امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بدھ کو ایک غیر صنعتی سونے کی کان مٹی کے تودے گرنے کے باعث منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں ۱۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی حکام اور امدادی کارکنوں کے مطابق حادثہ منگل کی سہ پہر زامبوئے نامی گاؤں میں پیش آیا، جو بابوا شہر سے تقریباً ۵۰؍ کلومیٹر دور اور کیمرون کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ ریت اور مٹی کا ایک بڑا تودہ کان میں موجود لوگوں، غالباً کان کنوں، پر گرا اور انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مقامی سرکاری وکیل کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ متعدد افراد ملبے اور مٹی تلے دب گئے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ امدادی کارروائی میں شریک ریڈ کراس کے رضاکار گرووے گاناگوروہ نے بدھ کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کان کے منہدم ہونے کے بعد ۱۰۰؍ سے زائد لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ مقامی کان کنی تنظیم کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ہلاکتوں کی یہی تعداد بتائی۔ مقامی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بابوا کے ایک دوسرے سرکاری وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ کان کے اندر موجود کئی زیرِ زمین سرنگوں کا منہدم ہونا سمجھی جارہی ہے۔ ایک کان کن نے واقعے کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین مکمل طور پر بیٹھ گئی اور لوگوں کو دفن کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: مشی گن میں مسلم مخالف ریلی کے خلاف عوام کی مزاحمت، متعدد گرفتار

امدادی کارکن لاشیں نکالنے اور ملبے تلے دبے ممکنہ زندہ افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ متاثرہ کان کنوں میں وسطی افریقی جمہوریہ اور کیمرون کے شہری شامل ہیں۔ کیمرون کے مشرقی علاقے کے حکام نے بتایا کہ کم از کم تین کیمرونی شہریوں کی شناخت متاثرین کے طور پر ہوچکی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زامبوئے کی نوجوانوں کی کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ ملبے تلے دبے افراد کا زندہ ملنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ افریقہ کے مختلف علاقوں میں چھوٹی سطح کی غیر صنعتی کانیں عام ہیں اور بے روزگاری کے باعث بہت سے لوگ ایسی کانوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کانوں میں حفاظتی انتظامات اکثر انتہائی ناقص ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں حادثات معمول بن چکے ہیں۔ صرف رواں سال وسطی افریقی جمہوریہ میں کان کنی کے مختلف حادثات میں کم از کم ۴۰؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK