دنیا کے معروف ٹیکنالوجی صنعت کار ایلون مسک نے اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کے اے آئی اسسٹنٹ ’گروک بوٹ‘ (Grok Bot) کو چلانے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے اہم اعتراف کیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 6:02 PM IST | Mumbai
دنیا کے معروف ٹیکنالوجی صنعت کار ایلون مسک نے اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کے اے آئی اسسٹنٹ ’گروک بوٹ‘ (Grok Bot) کو چلانے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے اہم اعتراف کیا ہے۔
دنیا کے معروف ٹیکنالوجی صنعت کار ایلون مسک نے اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کے اے آئی اسسٹنٹ ’گروک بوٹ‘ (Grok Bot) کو چلانے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے اہم اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گروک بوٹ کی خدمات فراہم کرنے پر آنے والی لاگت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مقابلے میں ناقابلِ برداشت حد تک زیادہ ہے۔ مسک کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایکس (X) کے متعدد صارفین، خصوصاً بامعاوضہ سبسکرپشن استعمال کرنے والے افراد، گروک بوٹ کی ہفتہ وار استعمال کی حد غیر معمولی تیزی سے ختم ہونے کی شکایت کررہے ہیں۔ اس بیان نے مصنوعی ذہانت کی خدمات کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ان کے کاروباری ماڈل سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایکس پر ’DogecoinNorway‘ نامی صارف نے ایلون مسک سے گروک بوٹ کے ہفتہ وار استعمال کی حد دوبارہ بحال کرنے کی درخواست کی۔ صارف کا کہنا تھا کہ بہت سے افراد اس ہفتے معمول کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اپنی استعمال کی مقررہ حد تک پہنچ گئے ہیں اور انہیں توقع سے پہلے ہی سروس استعمال کرنے میں پابندی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
اس شکایت کے جواب میں ایلون مسک نے مختصر مگر اہم وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ گروک بوٹ کی خدمات فراہم کرنے کی لاگت آمدنی کے مقابلے میں ناقابلِ برداشت حد تک زیادہ تھی۔ ان کے اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ استعمال کی حد محدود کرنے کے فیصلے کے پیچھے بنیادی وجہ صرف تکنیکی صلاحیت یا صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد نہیں بلکہ اس سروس کے اخراجات اور آمدنی کے درمیان عدم توازن بھی ہے۔ تاہم مسک نے یہ نہیں بتایا کہ استعمال کی حد کب تبدیل کی گئی یا صارفین کو اضافی سہولت کب فراہم کی جائے گی۔
گروک بوٹ عام سوالات کے جواب دینے والے چیٹ بوٹ سے زیادہ جدید مصنوعی ذہانت کا نظام ہے۔ اسے ایک اے آئی ایجنٹ کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو صارفین کی جانب سے دیے گئے احکامات پر مختلف مراحل میں کام کرسکتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنے، تحقیق کرنے، تحریر تیار کرنے اور دیگر آن لائن کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے ورچوئل کمپیوٹر کے ذریعے پس منظر میں بھی کام جاری رکھ سکتا ہے۔ایسے پیچیدہ کاموں کو انجام دینے کے لیے طاقتور کمپیوٹنگ نظام، مہنگے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs)، سرورز، ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔ عام چیٹ بوٹ کے مقابلے میں ایک اے آئی ایجنٹ کو کئی مراحل میں معلومات جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور مختلف کارروائیاں مکمل کرنے کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ وسائل استعمال کرنا پڑسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گروک بوٹ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے ساتھ اسے چلانے کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے ایکس کے متعدد بامعاوضہ صارفین نے شکایت کی کہ ان کا گروک بوٹ استعمال کرنے کا ہفتہ وار کوٹہ معمول سے کہیں پہلے ختم ہوگیا۔ بعض صارفین کے مطابق ہفتہ وار حد دوبارہ بحال ہونے میں ابھی کئی دن باقی تھے، لیکن وہ اپنی دستیاب سہولت پوری طرح استعمال کرچکے تھے۔گروک بوٹ مختلف بامعاوضہ منصوبوں، جن میں SuperGrok اور Cursor کے بعض سبسکرپشن پلان شامل ہیں، کے ذریعے دستیاب ہے۔ اس کا استعمال مخصوص کوٹے کے تحت ہوتا ہے۔ تاہم ایلون مسک نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ تمام صارفین کے لیے استعمال کی حد میں تبدیلی کی گئی ہے یا صرف بعض منصوبوں اور زیادہ استعمال کرنے والے صارفین پر اس کا اثر پڑا ہے۔
ایلون مسک کے بیان کے بعد یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ آیا ایکس اے آئی مستقبل میں گروک بوٹ کے سبسکرپشن منصوبوں کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی یا صارفین کے استعمال کی حد مزید محدود کی جائے گی۔ ایک ممکنہ راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ زیادہ کمپیوٹنگ وسائل استعمال کرنے والے صارفین سے اضافی فیس وصول کی جائے یا مختلف استعمال کے لیے الگ الگ منصوبے متعارف کرائے جائیں۔ تاہم اب تک مسک نے قیمتوں میں اضافے، نئے سبسکرپشن منصوبوں یا گروک بوٹ کی سروس بند کرنے سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اس سروس کی لاگت یا آمدنی کے اصل اعداد و شمار بھی پیش نہیں کیے، اس لیے فی الحال اس کے مالی خسارے کی درست مقدار کا تعین ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بیلن ڈی اور جیتنے کے بعد پہلے ہی میچ میں ہیری کین پنالٹی گنوا بیٹھے
گروک بوٹ سے متعلق ایلون مسک کا اعتراف مصنوعی ذہانت کی پوری صنعت کے لیے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید اے آئی ماڈلز اور خودکار ایجنٹس تیار کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کررہی ہیں، لیکن ان خدمات کو بڑے پیمانے پر فراہم کرنے کے اخراجات اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی خدمات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کاروبار کے لیے فائدہ مند ضرور ہے، لیکن اگر ہر صارف کی سرگرمی پر آنے والی لاگت سبسکرپشن سے حاصل ہونے والی آمدنی سے زیادہ ہو تو کمپنیوں کے لیے موجودہ قیمتوں پر غیر محدود سہولت فراہم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ گروک بوٹ کا معاملہ اسی مسئلے کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔