• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری؛ امریکہ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے: ٹکر کارلسن کا دعویٰ

Updated: November 02, 2026, 8:06 PM IST | Tehran/Washington

امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ چند دنوں میں امریکہ وسطی ایران میں واقع پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو ٹرمپ پر اس ایٹمی حملے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایکزیوس (Axios) کے مطابق، نیتن یاہو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران پر حملوں کے خواہش مند ہے جبکہ امریکی صدر مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران نے پیر کے روز تصدیق کی کہ وہ ثالثوں کے ذریعے اب بھی امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے اور اس کی سفارتی تجویز کے ایک مختصر ورژن پر دو دن کے اندر مکمل عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اصل سات مرحلہ وار منصوبے کو دو دن کے ٹائم فریم میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے ایران کی ”خیر سگالی“ کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ”گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔“ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی کسی معاہدے پر پہنچے گا جب تک واشنگٹن اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور تہران کے مطالبات پورے نہیں کرتا۔ ان مطالبات میں وہ تمام امریکی پابندیاں ہٹانا شامل ہیں جو اسلام آباد مفاہمت کی مبینہ امریکی خلاف ورزی کے بعد عائد کی گئی تھیں، اور اس معاہدے کے تحت طے شدہ ایرانی اثاثوں کو جاری کرنا شامل ہے۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے قطری ثالثی کے ذریعے پیغامات پہنچانے میں مدد کیلئے دوحہ کا دورہ کیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف تازہ ترین مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ تجاویز کا ایک مسودہ آراء کیلئے گردش کر رہا ہے۔ بقائی نے کہا کہ ایران آئی اے ای اے (IAEA) کے معائنے دوبارہ شروع کرنے پر بات چیت کے مرحلے تک نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) پر بدستور قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے واشنگٹن کے رویے میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے سابق وزیر اعظم بینیٹ نے گادی آئزنکوٹ کی حمایت کی

امریکہ ایران پر ایٹمی حمہ کرسکتا ہے: ٹکر کارلسن

امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ چند دنوں میں امریکہ وسطی ایران میں واقع پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو ٹرمپ پر اس ایٹمی حملے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس بارے میں ٹرمپ ۷ نومبر تک فیصلہ کرسکتے ہیں۔ کارلسن نے ایک گمنام ”باخبر مبصر“ کا حوالہ دیا اور کوئی دوسرا ثبوت پیش نہیں کیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور کسی بھی اہلکار نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ٹرمپ کے حامی کارکن لورا لومر نے کارلسن پر ”افواہ“ پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ 

ایکزیوس (Axios) نے رپورٹ کیا کہ سنیچر کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کال پر تلخ گفتگو ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران پر حملوں کے خواہشمند ہے جبکہ امریکی صدر مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ ”10 منٹ کے اندر“ ایک یا دو باقی ماندہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے پک ایکس ماؤنٹین کا نام لیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ایٹمی حملے کی منظوری دی گئی ہے۔ ۱۶ اکتوبر کو انہوں نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بلجیم: ۱۰؍ ارب یورو کا بجٹ خسارہ، وزیراعظم نے بادشاہ کو استعفیٰ پیش کیا

وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ انتظامیہ حساس فوجی منصوبوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرتی۔ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ حملے دوبارہ شروع کرنے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایران پک ایکس ماؤنٹین پر کسی بھی ایٹمی سرگرمی کی تردید کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK