Updated: November 04, 2026, 1:10 PM IST
| New York
تحقیقاتی مقالوں میں ایسی کتابوں اور مطالعات کے حوالے سامنے آنے لگے ہیں جن کا حقیقی علمی ریکارڈ موجود نہیں۔ ۵؍ لاکھ تحقیقی مقالوں کے جائزے میں ۲۰۲۳ء کے دوران ہر ۱۰؍ میں ۳ء۶؍ مقالے متاثر پائے گئے جبکہ ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں یہ تعداد بڑھ کر ۲۳؍ ہوگئی۔ محققین نے اے آئی کو اس رجحان کی ممکنہ وجہ قرار دیا ہے، تاہم اس تعلق کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فرضی معلومات کا مسئلہ اب صرف عام تحریروں، سوشل میڈیا پوسٹس یا چیٹ بوٹس کے جوابات تک محدود نہیں رہا بلکہ سائنسی تحقیق کے بنیادی نظام، یعنی تحقیقی حوالہ جات (References) میں بھی اس کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی جریدے ’دی سائنٹسٹ‘ (The Scientist) نے ۲؍نومبر ۲۰۲۶ء کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں ایک نئی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سائنس، انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے تحقیقی مقالوں میں ایسے حوالہ جات کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کے عنوانات اور علمی ذرائع کا کہیں قابلِ تصدیق وجود نہیں ملتا۔ یہ صورت حال اس لیے تشویش ناک ہے کہ سائنسی تحقیق میں ہر حوالہ کسی سابقہ مطالعے، تجربے یا علمی کام کی بنیاد پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ حوالہ ہی فرضی ہو تو تحقیق کے استدلال اور اس کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ یہ تحقیق کولمبیا یونیورسٹی کے محقق میکسم ٹوپاز (Maxim Topaz) اور ان کے ساتھیوں نے انجام دی، جس کے نتائج ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو معروف سائنسی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ (PNAS) میں شائع ہوئے۔ محققین نے جنوری ۲۰۲۳ء سے ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء تک شائع ہونے والے ۵؍ لاکھ تحقیقی مقالوں کا جائزہ لیا۔ ان میں فزکس، کیمسٹری، میٹیریلز سائنس، انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے شعبے شامل تھے۔ تحقیق کے لیے OpenAlex نامی علمی ڈیٹابیس سے مقالوں کا انتخاب کیا گیا اور ان کے حوالہ جات کی جانچ کے لیے خودکار تصدیقی نظام استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی حمایت کرنےوالے عرب نژاد امریکی مشی گن سینیٹ کےمعرکے میں ڈیموکریٹ السید کی طرف مائل ہورہے ہیں
محققین نے ان مقالوں میں موجود ۲؍ کروڑ ۱۶؍ لاکھ ایسے حوالہ جات کی جانچ کی جن کے ساتھ ڈجیٹل آبجیکٹ آئیڈینٹیفائر (DOI) موجود تھا۔ یہ ایک منفرد ڈجیٹل شناخت ہوتی ہے جس کے ذریعے کسی تحقیقی مقالے یا علمی اشاعت تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جانچ کے دوران ۶۱۹؍ مقالوں میں ۱۱۳۵؍ ایسے حوالہ جات سامنے آئے جنہیں ممکنہ طور پر فرضی قرار دیا گیا۔ محققین نے ان حوالہ جات کے عنوانات کو سات مختلف علمی ڈیٹابیسز اور آن لائن ذرائع میں تلاش کیا۔ جہاں متعلقہ عنوان یا مطالعہ نہیں ملا، اسے فرضی حوالہ شمار کیا گیا۔ بعد میں دو آزاد ماہرین نے مشتبہ حوالہ جات کے ۴۰۰؍ نمونوں کا جائزہ لیا، جن میں سے ۸ء۸۵؍ فیصد کو واقعی فرضی قرار دیا گیا۔ تحقیق کے سب سے اہم نتائج میں ان حوالہ جات کے حامل مقالوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ شامل ہے۔ ۲۰۲۳ء میں ہر ۱۰؍ ہزار تحقیقی مقالوں میں ۳ء۶؍ ایسے تھے جن میں کم از کم ایک مشتبہ فرضی حوالہ موجود تھا۔ ۲۰۲۵ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۴ء۱۵؍ ہوگئی، جب کہ ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں ۲۳؍ تک پہنچ گئی۔ دوسرے الفاظ میں، ۲۰۲۳ء میں تقریباً ہر ۱۶۰۰؍ مقالوں میں سے ایک متاثر تھا، جب کہ ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں یہ تناسب تقریباً ہر ۴۳۵؍ مقالوں میں سے ایک ہوگیا۔ محققین کے مطابق تین برس میں اس شرح میں تقریباً ۷ء۳؍ گنا اضافہ ہوا ہے۔
مختلف سائنسی شعبوں میں اس مسئلے کی شرح بھی یکساں نہیں پائی گئی۔ تحقیق کے پورے جائزے کے دوران فزکس میں ہر ۱۰؍ ہزار مقالوں میں ۶ء۲۵؍ ایسے مقالے سامنے آئے جن میں کم از کم ایک فرضی حوالہ تھا۔ میٹیریلز سائنس میں یہ شرح ۴ء۱۸، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت میں ۱ء۱۱، انجینئرنگ میں ۳ء۱۰؍ اور کیمسٹری میں ۳ء۴؍ رہی۔ محققین کے مطابق فزکس میں نسبتاً زیادہ شرح کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس شعبے میں غیر حتمی تحقیقی مسودوں (Preprints) کا حوالہ دینے کا رجحان زیادہ ہے، جن کی اشاعت سے پہلے روایتی ادارتی جانچ مکمل نہیں ہوئی ہوتی۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ تر متاثرہ مقالوں میں ایک یا دو فرضی حوالہ جات تھے، تاہم ۲۷؍ مقالوں میں پانچ یا اس سے زیادہ ایسے حوالہ جات موجود تھے۔ یہ ۲۷؍ مقالے مجموعی طور پر شناخت کیے گئے فرضی حوالہ جات کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کے ذمہ دار تھے۔ محققین نے اپنے نتائج کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ اگر یہی شرح متعلقہ شعبوں کے تقریباً ۷۰؍ لاکھ مقالوں پر لاگو کی جائے تو لگ بھگ ۸۵۰۰؍ شائع شدہ مقالوں میں کم از کم ایک فرضی حوالہ موجود ہوسکتا ہے۔ یہ تخمینہ ہے، ان تمام مقالوں کی براہِ راست جانچ کا نتیجہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:یورپ کے سپر مارکیٹس کے فریزرس پر سائبر حملہ، اچانک درجہ حرارت بڑھ گیا
محققین نے مصنوعی ذہانت کو اس رجحان کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔ بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) بظاہر مستند نظر آنے والے تحقیقی عنوانات، مصنفین کے نام اور جرائد کے حوالے تخلیق کرسکتے ہیں، حالاں کہ بعض اوقات ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اس عمل کو اے آئی ہیلوسینیشن (AI Hallucination) کہا جاتا ہے۔ میکسم ٹوپاز کے مطابق فرضی حوالہ جات میں اضافے کا وقت بڑے لینگویج ماڈلز کے عام استعمال میں آنے کے زمانے سے مطابقت رکھتا ہے، اس لیے ان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ تمام یا بیشتر فرضی حوالہ جات اے آئی کے ذریعے ہی تیار کیے گئے ہیں۔ محققین نے خود واضح کیا ہے کہ اس رجحان کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔ اس سلسلے میں سائنسی تحقیق کے ایک اور شعبے سے بھی تشویش ناک نتائج سامنے آئے ہیں۔ مئی ۲۰۲۶ء میں اسی تحقیقی ٹیم نے طبی اور بایومیڈیکل مقالوں کے جائزے میں ۲۵؍ لاکھ مقالوں کے اندر ۴۰۶۴؍ فرضی حوالہ جات کی نشاندہی کی تھی، جو ۲۸۱۰؍ مقالوں میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ ستمبر ۲۰۲۶ء میں شائع کیے گئے ایک غیر حتمی تحقیقی مسودے میں ٹیم نے ۲۶؍ مختلف بڑے لینگویج ماڈلز کو طبی حوالہ جات فراہم کرنے کا کام دیا تو ان میں سے ۵۵؍ فیصد حوالے فرضی نکلے۔ یہ نتائج اے آئی کے ذریعے تیار کردہ علمی حوالہ جات کی تصدیق کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتے ہیں، اگرچہ یہ غیر حتمی مطالعہ ابھی ہم مرتبہ ماہرین کی جانچ سے نہیں گزرا تھا۔
تحقیق کے مصنفین نے سائنسی جرائد اور اشاعتی اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ مقالے کی اشاعت سے پہلے حوالہ جات کی خودکار جانچ کو لازمی بنایا جائے۔ پہلے سے شائع شدہ مقالوں کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جائے تاکہ ایسے حوالہ جات کی نشاندہی ہوسکے۔ ان کے مطابق علمی ڈیٹابیسز اور تحقیقی دیانت داری سے متعلق اداروں کو بھی فرضی حوالہ جات کا الگ ریکارڈ رکھنا چاہیے، تاکہ اس مسئلے کی نگرانی اور تدارک ممکن ہو۔ محققین کے نزدیک سائنسی تحقیق میں حوالہ محض کسی کتاب یا مقالے کا نام نہیں بلکہ قاری سے یہ وعدہ ہوتا ہے کہ پیش کردہ علمی بنیاد واقعی موجود ہے۔ اگر اس وعدے کی تصدیق نہ ہوسکے تو تحقیق کے پورے علمی سلسلے پر اثر پڑسکتا ہے۔